عظمیٰ نیوزسروس
حیدرآباد// ہندوستان میں فارسی کی آمد کے بعد سے ہی تاریخ نویسی کا آغاز ہوا۔ ہندوستان میں فارسی زبان کو صرف مسلمانوں نے ہی پروان نہیں چڑھایا بلکہ غیر مسلموں ہندو، سکھ، عیسائی سبھی نے فارسی کی ترویج و اشاعت میں شانہ بہ شانہ حصہ لیا اور اپنے گراں قدر گوناگوں آثار سے فارسی کے دامن ادب کو وسعت بخشی۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر شریف حسین قاسمی، دہلی یونیورسٹی نے دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں کلیدی خطبہ دیتے ہوئے کیا۔ شعبۂ فارسی، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے زیر اہتمام ’’سہم غیر مسلمانان در ترویج و توسیعۂ زبان و ادبیات و فرہنگ فارسی‘‘ کا اہتمام کیا گیا تھا۔ افتتاحی اجلاس کی صدارت پروفیسر سید عین الحسن، وائس چانسلر نے کی۔ ممتاز مورخ پروفیسر دیپک کمار ، شعبۂ تاریخ مہمانِ خصوصی اور پروفیسر اشتیاق احمد، رجسٹرار و پروفیسر سید عبدالخالق رشید، استاد پشتو فارسی کابل یونیورسٹی مہمانانِ اعزازی تھے۔