یو این آئی
احمد آباد//وزیراعظم نریندر مودی نے پیر کے روز کہا کہ ہند-بحرالکاہل خطہ ہندوستان اور جرمنی دونوں کے لیے توجہ کا مرکز ہے اور اس خطے میں ہم آہنگی بڑھانے کے لیے ایک مشاورتی نظام شروع کیا جا رہا ہے، نیز دونوں ممالک محفوظ، قابل اعتماد اور مضبوط سپلائی چین بنانے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔ہندوستان کے دو روزہ دورے پر آئے جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز کے ساتھ بات چیت کے بعد وزیر اعظم مودی نے مشترکہ پریس بیان میں کہا کہ ہند۔ جرمنی ہمیشہ شانہ بہ شانہ چلتے رہے ہیں اور اس دوستی کا اثر عالمی سطح پر بھی نظر آتا ہے۔ گھانا، کیمرون اور ملاوی جیسے ممالک میں مشترکہ منصوبوں کے ذریعے ہماری تین سطحی ترقیاتی شراکت داری دنیا کے لیے ایک کامیاب ماڈل ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلوبل ساؤتھ کے ممالک کی ترقی کے لیے اپنے مشترکہ اقدامات کو مسلسل جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہند-بحرالکاہل دونوں ممالک کے لیے توجہ کا مرکز ہے۔ اس خطے میں ہم آہنگی بڑھانے کے لیے ہم ایک مشاورتی نظام شروع کرنے جا رہے ہیں۔وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ہندوستان اور جرمنی کے درمیان ٹیکنالوجی تعاون سال بہ سال مضبوط ہوا ہے اور آج اس کا اثر زمین پر واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔ قابل تجدید توانائی کے شعبے میں ہندوستان اور جرمنی کی ترجیحات ایک جیسی ہیں۔ اس میں تعاون بڑھانے کے لیے ہندوستان-جرمنی ایکسلنس سنٹر قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ دفاع اور سلامتی کے شعبے میں بڑھتا تعاون باہمی اعتماد اور مشترکہ سوچ کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی کاروبار سے متعلقہ طریقہ کار کو آسان بنانے کے لیے وہ چانسلر مرز کا دل کی گہرائی سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم دفاعی صنعتوں کے درمیان تعاون بڑھانے کے لیے ایک روڈ میپ پر بھی کام کریں گے، جس سے مشترکہ ترقی اور مشترکہ پیداوار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ہندوستان اور جرمنی نے مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو بڑھانے کے لیے پیر کو یہاں ٹیکنالوجی، روایتی ادویات اور قابل تجدید توانائی سمیت چھ مفاہمت ناموں پر دستخط کیے اور تقریباً 20 شعبوں میں تعاون کا اعلان کیا۔ دورہ ہند پر آئے جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز اور وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان یہاں ہونے والی بات چیت کے بعد ان سمجھوتوں پر دستخط کے ساتھ یہ اعلان کیا گیا۔دونوں ممالک نے اہم اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایم او یو پر دستخط کیے۔ یہ سمجھوتہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹرانکس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور انفینون ٹیکنالوجیز اے جی کے درمیان ہوا ہے۔ روایتی ادویات کے شعبے میں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف آیوروید، انڈیا اور شاریٹے یونیورسٹی، جرمنی کے درمیان دستخط کیے گئے۔قابل تجدید توانائی کے شعبے میں بھارت پیٹرولیم اور نیچرل گیس ریگولیٹری بورڈ کے لیے جرمن ٹیکنیکل اینڈ سائنٹیفک ایسوسی ایشن کے درمیان ایم اویوپر دستخط کیے گئے۔ نیز گرین ہائیڈروجن کے شعبے میں گرین امونیا کے لیے ہندستانی کمپنی اے ایم گرین اور جرمن کمپنی یونیپر گلوبل کموڈٹیز کے درمیان آف ٹیک معاہدہ کیا گیا۔ثقافتی اور عوام سے عوام کے رابطوں کے شعبے میں، نیشنل میری ٹائم ہیریٹیج کمپلیکس، لوتھل اور جرمن میری ٹائم میوزیم – لیبنز انسٹی ٹیوٹ فار میری ٹائم ہسٹری، بریمر ہیون کے درمیان، لوتھل، گجرات میں نیشنل میری ٹائم ہیریٹیج کمپلیکس کی ترقی کے لیے ایم اویو پر دستخط کیے گئے۔ہاکی انڈیا اور جرمن ہاکی فیڈریشن کے درمیان یوتھ ہاکی کی ترقی پر بھی دستخط کیے گئے۔دونوں ممالک نے جرمنی سے گزرنے والے ہندوستانی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری ٹرانزٹ، ٹریک 1.5 فارن پالیسی اینڈ سکیورٹی ڈائیلاگ کا قیام، ہند-بحرالکاہل خطے پر دو طرفہ ڈائیلاگ میکانزم کا قیام، انڈیا-جرمنی ڈیجیٹل ڈائیلاگ (2025-2027) کے ایکشن پلان کو اپنانے، گرین اورپائیدار ترقیاتی شراکت داری کے تحت 1.24 ارب یورو کے نئے مالیاتی وعدوں، جن سے قابل تجدید توانائی، گرین ہائیڈروجن، پی ایم ای بس سروس اور آب و ہوا سے لچکدار شہری بنیادی ڈھانچے سے متعلق ترجیحی منصوبوں کو حمایت ملے گی۔