نئی دہلی//کانگریس کے رکن جے رام رمیش نے ہمالیہ کے گلیشیر کے پگھلنے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کے اسٹڈی کئے جانے پر زور دیا ہے ۔مسٹر رمیش نے راجیہ سبھا میں آج وقفہ صفر کے دوران یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہمالیہ میں دس ہزار گلیشیر ہیں جو پگھل رہے ہیں اور یہ انتہائی تشویشناک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پندرہ سال کے دوران ہمالیہ کے گلیشیر کے پگھلنے کی شرح پہلے کے مقابلے میں دوگنی ہو گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ گلیشیر کی اسٹڈی کے لئے قانونی التزام کیا جانا چاہئے اور اس سے متعلق دہرادون واقع انسٹی ٹیوٹ کو بہتر کئے جانے کی ضرروت ،انہوں نے کہا کہ ہمالیائی علاقہ کی ریاستوں میں بہتر تعاون کے ساتھ کام کیا جانا چاہئے ۔مارکسی کمیونسٹ پارٹی کی جھرنا داس ویدیہ نے ملک کی مختلف ریاستوں میں خشک سالی کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ کچھ ریاستوں نے کچھ اضلاع کو خشک سالی سے متاثر قرار دیا ہے . بہار، جھارکھنڈ، مغربی بنگال، شمال مشرقی علاقے کی ریاستیں ، آندھرا پردیش، تلنگانہ، راجستھان، تمل ناڈو، کرناٹک وغیرہ کے کافی حصے خشک سالی کی گرفت میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ شمال مشرقی علاقوں میں بھی بارش نہیں ہوئی ہے جس کی وجہ سے دریاؤں میں پانی کم ہو گیا ہے اور آب پاشی کا مسئلہ پیدا ہوگیا۔ انہوں نے کسانوں کوہو رہی پریشانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کو ریاستوں کی مدد کرنی چاہئے . کروڑوں لوگ اس سے متاثر ہورہے ہیں اور وہ کئی قسم کی بیماریوں سے دوچار ہورہے ہیں۔ڈی ایم کے کے تروچی شیوا نے تمل ناڈو میں پانی کے بحران کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہاں ہائیڈرو کاربن کنواں کھدائی پر روک لگنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ کنواں کی کھدائی کافی گھرائی میں کی جاتی ہے جس کی وجہ سے پانی کا مسئلہ پیدا ہو رہا ہے ۔ انہوں نے پانی کی کمی سے زراعت پر منفی اثر پڑرہا ہے اور کسان خودکشی کر رہے ہیں۔ کسانوں نے انسانی زنجیر بنا کر اس کی مخالفت بھی کی ہے ۔سماج وادی پارٹی کے ریوتی رمن سنگھ نے پریاگ میں میلہ کی زمین میلہ اتھارٹی کو منتقلی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بعد میں میلہ کے لئے زمین کامسئلہ کھڑاہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ پریاگ قلعہ میں فوج ہے اور میلے کی زمین فوج کے پاس ہے جس کی وجہ سے یہ محفوظ ہے ۔انہوں نے کہا کہ فوج نے حال ہی میں قلعہ خالی کرنے اور میلہ کی زمین میلہ اتھارٹی کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جسے روکا جانا چاہئے ۔یو این آئی