ایجنسیز
تہران/ایران کے فٹبال سربراہ مہدی تاج نے کہا ہے کہ آئندہ فیفا ورلڈ کپ 2026 کے میزبان ’’فیفا ہے، نہ کہ مسٹر ٹرمپ یا امریکہ‘‘، اور اگر ایرانی ٹیم ٹورنامنٹ کے لیے امریکہ جاتی ہے تو وہاں ایرانی حکام اور اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے احترام کی ضمانت دی جانی چاہیے۔ایران کی ورلڈ کپ میں شرکت اس وقت بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے کیونکہ حالیہ مہینوں میں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی اور جنگی حالات نے سفارتی ماحول کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔بی بی سی اسپورٹ کے مطابق ایرانی فٹبال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج گزشتہ ہفتے فیفا کانگریس میں شرکت کے لیے وینکوور گئے تھے، لیکن انہیں کینیڈین سرحد سے واپس لوٹنا پڑا۔ بعد میں کینیڈا کے امیگریشن وزیر نے تصدیق کی کہ آئی آر جی سی سے تعلقات کے باعث ان کا ویزا دورانِ پرواز منسوخ کر دیا گیا تھا۔آئی آر جی سی ایران کی ایک اہم عسکری و سیاسی قوت ہے، تاہم امریکہ اور کینیڈا اسے دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔
فیفا کے سیکریٹری جنرل میتھیاس گرافسٹروم نے اس واقعے پر ’’افسوس اور مایوسی‘‘ کا اظہار کرتے ہوئے ایران کو 20 مئی کو زیورخ میں ورلڈ کپ تیاریوں سے متعلق اجلاس میں مدعو کیا ہے۔مہدی تاج، جو ماضی میں آئی آر جی سی کے اعلیٰ عہدیدار بھی رہ چکے ہیں، نے ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے سے گفتگو میں کہا کہ ایران فیفا سے یہ یقین دہانی چاہے گا کہ ورلڈ کپ کے دوران ایرانی حکام اور ملک کے عسکری اداروں کی توہین نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہا، ’’ہمیں ایسی ضمانت چاہیے کہ ہماری ریاستی علامتوں، خاص طور پر آئی آر جی سی، کی بے عزتی نہیں ہوگی۔ اگر ایسی یقین دہانی ملتی ہے تو پھر کینیڈا جیسا واقعہ دوبارہ پیش نہیں آئے گا۔‘‘ورلڈ کپ 11 جون سے 19 جولائی 2026 تک امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں مشترکہ طور پر منعقد ہوگا۔ ایران کے دو میچ لاس اینجلس میں نیوزی لینڈ فٹبال ٹیم اور بیلجیم فٹبال ٹیم کے خلاف جبکہ ایک میچ سیئٹل میں مصر فٹبال ٹیم کے خلاف شیڈول ہے۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ آئی آر جی سی سے وابستہ کسی بھی شخص کو امریکہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔مہدی تاج نے زور دے کر کہا، ’’ہم ورلڈ کپ میں جا رہے ہیں کیونکہ ہم نے کوالیفائی کیا ہے، اور ہمارے میزبان فیفا ہیں، نہ کہ مسٹر ٹرمپ یا امریکہ۔‘‘یاد رہے کہ فیفا ورلڈ کپ 2026 کا آغاز 11 جون سے ہو رہا ہے جو 19 جولائی تک امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں جاری رہے گا۔