بلا شبہ حُسن ِ اخلاق نصف ایمان ہے،اسی لئے بچوں کو بہلانے کے لئے جھوٹ بول دینا بھی اسلامی اخلاق کی رو سے قابل ِ احتراز ہے۔ اچھا وہی ہے جس کے اخلاق اچھے ہیں۔مسلمان کے لئے لازم ہےکہ وہ اپنے آپ کو خوش اخلاق بنائیں،کیونکہ اخلاق سب سے کارآمد چیز ہےاورخوش اخلاقی بہترین عبادت ہے جبکہ خالق کی خوشنودی و مخلوق میں ہر دل عزیزی حاصل کرنے کے لئے’ اخلاق ‘سب سے بہتر اور سب سے آسان ذریعہ بھی ہے۔ مگر افسوس! موجودہ ڈیجیٹل دور میں ہمارا معاشرہ بہت تیزی کے ساتھ اخلاقی انحطاط کی لپیٹ میں آرہا ہے۔بے راہ روی ،بد اخلاقی ،بے ایمانی ،رشوت خوری ، کنبہ پروری اور مادہ پرستی نے ہمارےمعاشرے سے غلط اور صحیح میں تمیز کرنے کی صلاحیت چھین لی ہےاور اس پرطرہ یہ کہ اجتماعی حِس نام کی چیز بھی نابود ہوگئی ہے۔وہ بھی زمانہ تھا جب ہمارا معاشرہ اپنی شائستگی ،اخلاق اور ایمانداری کی وجہ سے اپنی مثال آپ تھا، تو پھر آخر ایسا کیا ہوا کہ ہمارے معاشرے کا تانا بانا اس حد تک بکھر گیا کہ اب ہماری انفرادی شناخت بھی خطرے میں دکھائی دے رہی ہے ۔ اگر چہ اس سب کیلئے کئی ایک عوامل کارفرما ہیں تاہم عمومی طور پر ہماری نوجوان نسل کی بے حسی اور انتظامی غفلت شعاری کو اس کی بنیادی وجہ قرار دیا جارہا ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہماری نوجوان نسل واقعی اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہوگئی ہے یا پھر یہ مسئلہ حقیقت سے بعید ہے؟بے شک ہماری نوجوان نسل جس راستے پر گامزن ہے، اُس کی منزل اخلاقی اعتبار سے تباہی کے سوا کچھ اور نہیں، لیکن کیا یہ سچ نہیں کہ نوجوان نسل کی اس حالت ِ زار کیلئے ہمارا پورا معاشرہ ذمہ دار ہے؟ظاہر ہے کہ معاشرےکی بنیاد افراد پر ہے اور افراد کی اولین پرورش گھر میں ہوتی ہے اور گھر کسی بھی فرد کی پہلی دانش گاہ ہے ۔ معاشرے کے بکھرائو کیلئے ہمیں پہلے اپنا اور اپنے گھر کا محاسبہ کرنا ہے ۔اگر گھر کا ماحول صحیح ہو توبچے کی صحیح انداز میں پرداخت ہونا قدرتی امر ہے ۔اس زاویہ سے یہ حقیقت عیاں ہے کہ ہمارے گھروں کے اندر وہ ماحول نہیں رہا ہے جہاں بچے کو مثالی انسان بننے کا درس ملتا۔ حالانکہ ماضی قریب میں یہی گھرانے اپنی اخلاقی قدروں سے انسانی وسائل کی تشکیل کرتے تھے اور نتیجتاً ہر لحاظ سے مہذب اورجرائم سے پاک سماج قائم تھا ،جبکہ اُن دنوں علم وآگہی کو اِتنا فروغ نہیں ملا تھا جتنا آج کل اسے مل چکاہے، لیکن اس کے باوجود اخلاقی عروج کا یہ عالم تھا کہ کشمیری عوام کی اکثریت بھیانک قسم کے جرائم سے بالکل نا آشنا تھی ۔اب جبکہ علم و آگہی بھی ہے اورتعلیم بھی عام ہے لیکن معاشرے کا حال بے حال ہے۔
نہ ماضی کی وہ آن بان رہی ہے،جس کی مثالیں دی جاتی تھیں۔اب تو حال میں ہمارے کرتوت ایسے کہ شرم سے سرجُھک جاتے ہیں ۔جب اپنےگرد وپیش پر نظر پڑتی ہے توحالت دیکھ کر زبان گنگ ہوجاتی ہےاور قلب و نگاہ مضطرب ہوجاتے ہیں ۔ذرائع ابلاغ میں بھی اب اس بات کا تذکرہ عموماً ہوتارہتا ہے کہ وادیٔ کشمیر کے مسلم نوجوان نسل کی بگڑتی صورت حال تشویش ناک حد تک پہنچ چکی ہے اور وہ مختلف بُرائیوں و خرابیوں کی نذر ہوکر آوارگی ،اخلاقی بے راہ روی ، منشیات کی عادی اور جرائم کی طرف راغب ہورہی ہے،جس کے نتیجہ میں معاشرے کے مستقبل کا ایک بڑا حصہ تباہ و بُرباد ہورہا ہے۔جبکہ ستم ظریفی کا عالم یہ ہے کہ اِس وقت بھی معاشرے کے تئیں ہمیں اپنی ذمہ داریوںکا احساس نہیں ہوتا ۔ وقفہ وقفہ کے بعد پیش آمدہ اخلاق سوز واقعات جس طرح ہمارے ضمیر کو جھنجوڑتے رہتے ہیں،اُس کا تقاضا تھا کہ ہم غفلت کی نیند سے بیدار ہوجاتے، اپنے دل و دماغ پر حائل مادی پردوں کو ہٹا تے، معاشرے کو بکھرنے اور اپنی نئی نسل کو اِس دلدل سے نکالنے کی سبیل پیدا کرنے کیلئے عملی طورمیدان میں کود پڑتے ،لیکن ہمارا ضمیر اس حد تک خفتہ ہوچکا ہے کہ معاشرے میں پیدا شدہ اس خستہ و شکستہ صورت حال کی صدا ہمارے بہرے کانوں تک نہیںپہنچتی،سِول سوسائٹی اور دیگر رفاعی ادارے حقیقی صورت حال پرلب کُشائی کیلئے تیار نہیں اور مذہبی جماعتیں معمول کی وعظ خوانی سے فارغ ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں ۔حالات کا تقاضا ہے کہ دوسروں کو موردالزام ٹھہرانے اور حکومت پر تکیہ کرنے کی بجائے ہم خود بیدار ہوجائیں اور اپنی شناخت کے تحفظ کیلئے مادی دنیا کی تگ ودَو سے چند لمحے نکال کر سنجیدگی کے ساتھ غور وفکرکریں کہ ہمارے معاشرے کی موجودہ صورت حال کیلئے کون سے عوامل ذمہ دار ہیں اور طوفان بدتمیزی کے بھنور میں پھنسی کشتی کو کیسے کنارے لگایا جاسکتا ہے۔