کشتواڑ//دہلی کو دفعہ 35۔اے ا ور کشمیر میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر زور دیتے ہوئے ممبر قانون ساز کونسل فردوس ٹاک نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کا عوامریاست کے خصوصہ درجے کی حفاظت اپنے جان کی بازی لگا کر کریگی۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے اسے وقار کا ایک مدعا بنایا ہے،جسکا وہ آنے والے عام انتخابات میں بطور الیکشن چال کے استعمال کرے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ اب یہ دہلی سرکار پر منحصر ہے کہ وہ ریاست جموں و کشمیر کے خصوصی درجہ اور ریاست کے درمیان کس کا انتخاب کرتی ہے۔ان باتوں کا اظہا رایم ایل سی نے ضلع کے مڑواہ علاقہ میں پارٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ آئین ہند میں ریاست کو مستقل باشندے ،خصوصی مراعات ، روزگار اور غیر منقولہ جائیداد کو حاصل کرنے کے لئے کی گئی ترامیم کی قانونی حیثیت کی مخالفت کرتے ہیں اور اگر اس عمل کو غلط تصور کیا جاتا ہے تو اُس صورت میں1953 کے بعد سے کی گئی تمام ترامیم کو ختم کرنا ہوگا۔انہوں نے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کشمیر کے متعلق جو بیان دیا ہے ،اُسکا خیر مقدم ہے وہیں بھارت سرکار کو کشمیر پر لگائی جا رہی رٹ سے آگے بھی جانا ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ پی ڈی ی نے دور اقتدار میں پیچیدہ مسئلہ کے حل کیلئے نہ صرف ریاست جموں و کشمیر کے لگوں کے ساتھ بات و چیت کرنے پر زور دیا تھا بلکہ ہمسایہ ملک کے ساتھ بھی بات و چیت شروع کرنے کا مطالبہ کیا تھا ۔انہوں نے کہا اب جبکہ پاکستان میں سرکار بدل گئی ہے ،تو دہلی سرکار کے پاس بات وچیت شروع کرنے کا صیح موقعہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست کا عوام امن چاہتا ہے ا ور ہم عزت اور وقار کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے وقتاً فوقتاً کشمیر کے تئیں پی ڈی پی کے نظریہ کا اعتراف کیا ہے ا ور ہمیں توقع ہے کہ وہ اس سمت میں کوئی مثبت رویہ اپنائیں گے۔انہوں نے کہا 2014 کے انتخابات میں سب سے بڑی پارٹی بن کر کہ عوام کے وسیع مفاد کو مد نظر رکھ کر پی ڈی پی اور بی جے پی کی سرکار تشکیل دی گئی تھی ۔انہوں نے کہا کہ سابقہ وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید پُر امید تھے اور ریاست کے حالات ٹھیک کرنے کے لئے کوئی بھی خطرہ لینے کے لئے تیار تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ خطرہ بڑا تھا لیکن مقصد بہت اہم تھا ۔انہوں نے کہا کہ باوجود کافی چلیلنجوں کے سابقہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کبھی بھی پارٹی کے بنیادی مقاصد کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کیا اور لوگوں کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں جد و جہد کی۔ انہوں نے کہا کہ ریا ست میں 2002اور 2015میں دو مرتبہ سرکار کی تشکیل دینا ہماری حصولیابی نہیں تھی کیونکہ اقتدار حاصل کرناپارٹی کا بنیادی توجہ نہیں تھا بلکہ مقصد حاصل کرنے کا ایک ذریعہ تھا۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی ایک سیاسی تحریک نہیں تھی بلکہ لوگوں کی ایک تحریک ہے،جو امن بحال کرنے کے مقصد سے معرض وجود میں آئی ہے۔