جموں//ملک بھر میں نوول کوروناوائرس کو پھیلائو روکنے کے لئے نافذ کئے گئے قومی سطح کے لاک ڈاون کے دوران جموں وکشمیر ہائی کورٹ اور جے اینڈ کے اور لداخ یوٹیز کی ضلع عدالتوں نے ورچیول موڑ کے ذریعے سے انتہائی اہم معاملات کی سماعت کی ۔ قومی سطح کے لاک ڈاون کے بعد جموںو کشمیر اور لداخ یوٹیز کی تمام عدالتوں بشمول ہائی کورٹ تک رسائی عدالت عالیہ نے بند کردی اور فیصلہ لیا گیا کہ صرف انتہائی اہم معاملات کی شنوائی ویڈیو کانفرنسنگ اور کالز کے ذریعے سے عمل میںلائی جائے گی۔ ویڈ یو کانفرنسنگ کے ذریعے سے معاملات کی کارروائی کو عمل میں لاتے ہوئے جج صاحبان اہم معاملات کی سماعت اپنے اپنے رہائش گاہوں یا دفاتر سے کرتے ہیں اور وکلاء بھی اپنے دلائل لسٹ کئے گئے معاملات میں اپنے گھروں یادفاتر سے پیش کرتے ہیں۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ لاک ڈاون مدت کے دوران جموں وکشمیر ہائی کورٹ نے انتہائی اہم نوعیت کے 127 معاملات کی ورچیول موڑ کے ذریعے سے سماعت کی جبکہ جموں وکشمیر اور لداخ یوٹیز کی ضلع عدالتوں نے 4344معاملا ت سنے ۔ ورچیول موڑ کے ذریعے سے معاملات کی سماعت کے تعلق سے جموںوکشمیر ہائی کورٹ نے پہلے پروٹوکال جاری کیا ہے۔ چیف جسٹس کی طرف سے جاری کی گئی ہدایات کے مطابق متعلقہ وِنگ کے رجسٹرار جوڈیشل ہائی کورٹ وِنگ کی ای۔ کورٹس کے تعاون سے لازمی احکامات طلب کرنے کے بعد انتہائی اہم معاملات کی سماعت کے لئے ورچیول موڑ کے ذریعے سے جج صاحبان کی رہائش گاہوں سے سماعت کے لئے لازمی انتظامات کرتے ہیں۔ورچیول موڑ کے ذریعے سے سنے جانے والے اکثر معاملات میں ہائی کورٹ ودھیو ایپ کا استعمال کرتا ہے جو آسانی سے موبائیل فون یا ڈیسک ٹاپ پر ڈاون لوڈ کے لئے دستیاب ہے ۔عدالتوں کی طرف سے وکلأ اور عرضی دہندگان کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سے معاملات کی شنوائی میں شامل ہونے کیلئے ایک ویب لنک بھیجا جاتا ہے ۔معاملات کی سماعت میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال اس قدر بڑھ گیا ہے کہ کبھی کبھی ایک ہی معاملے میں ویڈیو کانفرنسنگ اور کالز کے ذریعے سے 30سے زائد وکلاء شامل ہوجاتے ہیں۔کووِڈ۔19 لاک ڈاون مدت کے دوران ملک میں جموںوکشمیر ہائی کورٹ نے معاملات کی پیشگی تاریخ دینے کا اہم قدم شروع کیا تاکہ معاملات کی مزید لسٹنگ کے عمل میں معقولیت لائی جاسکے اور وکلأ اور عرضی دہندگان کو اپنے اپنے معاملات کی پیش رفت کے بارے میں بھی جانکاری دی جاسکے۔