راجوری //وسیع آبادی پر مشتمل گھمبیر مغلاں علاقے کے لوگوں کے مسائل حل کرنے کیلئے وعدے تو ہر ایک سیاسی جماعت نے کئے مگر ان کو ایفاکسی نے نہیں کیااور نتیجہ کے طور پر مقامی آبادی پانی کے شدید بحران اور سڑک کی خستہ حالی و دیگر مسائل کی وجہ سے مشکلات بھری زندگی بسر کررہی ہے ۔مقامی لوگوںنے بتایاکہ اس علاقے کے ساتھ دہائیوںسے سوتیلا سلوک کیاگیا ہے اور ہر بار انہیں طفل تسلیاں اور یقین دہانیاں دی گئیں تاہم ان پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ان کاکہناتھاکہ مقامی سڑک کی حالت انتہائی خراب ہے جس پر مجبوری کے عالم میں وہ لوگ سفر کرتے ہیں نہیں تو یہ اس قابل نہیں جبکہ پانی کا بھی بحران پایاجارہاہے ۔ حال ہی میں ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری نے علاقے میں ایک عوامی دربار منعقد کیاجس دوران مقامی لوگوں کی طرف سے مسائل اجاگر کئے گئے ۔مقامی لوگوں کی مانگ ہے کہ منجاکوٹ اور گھمبیر مغلاں پورے علاقے میں بشمول طبی و تعلیمی بنیاد ی سہولیات فراہم کی جائیں ۔ضلع انتظامیہ کے سامنے مقامی لوگوںنے الزام عائد کیاکہ پتراڑہ سے دبروٹ کیلئے پی ایم جی ایس وائی سڑک کا اصلی سروے نظرانداز کرتے ہوئے محکمہ نے من مرضی سے کام لیاہے جبکہ بی پی ایل کی فہرستوں میں بھی بے ضابطگیاں کی گئی ہیں اور مستحقین کو باہر کرکے غیر مستحقین کو شامل کرلیاگیاہے ۔لوہر ککورہ ، موریاں اور گلہوتی کے لوگوںنے اپنے مسائل اجاگر کرتے ہوئے کہاکہ ان کے علاقوں میں پانی کا شدید بحران پایاجارہاہے اور ہینڈ پمپ ناکارہ پڑے ہیں جنہیں ٹھیک ہی نہیں کیاجارہااور نہ ہی کوئی متبادل فراہم ہے ۔ وہیں دبروٹ کے لوگوںنے محکمہ پی ایچ ای پر لاپرواہی برتنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ ملازمین کو ڈیوٹی کا پتہ ہی نہیں ۔اسی طرح سے موریاں کے لوگوںنے مانگ کی کہ نالہ پر پل تعمیر کیاجائے جبکہ بکروال محلہ کے لوگوںنے پانی کی سپلائی کا مطالبہ کیا ۔لوگوں نے یہ مانگ بھی رکھی کہ گھمبیر مغلاںسے گھمبیر گلی لنک سڑک تعمیر کی جائے جبکہ گھمبیر پل سے پیر محلہ تک روڈ کی تعمیر کاکام بھی جلدی شروع کیاجائے ۔مقامی لوگوںنے بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو مستحکم کرنے پر زور دیتے ہوئے پنچایت گھمبیر مغلاں ڈی اور محلہ گائی میں 63کے وی کے ٹرانسفارمر نصب کرنے کی اپیل کی ۔مقامی لوگوں کو مایوس کن تعلیمی نظام پر بھی سخت تشویش ہے اور ان کی مانگ ہے کہ سکولوں کادرجہ بڑھایاجائے ۔ انہوںنے شعبہ صحت کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ پرائمری ہیلتھ سنٹر گھمبیر مغلاں میں عملے کی کمی کو پورا کیاجائے جو ڈاکٹروں کی عدم دستیابی کے باعث بے سود ہوکر رہ گیاہے ۔مقامی لوگوں کا سب سے اہم مسئلہ پتراڑہ سے گھمبیر مغلاں سڑک کی خستہ حالی ہے جس کی وجہ سے جہاں حادثات پیش آرہے ہیں وہیں لوگوں کو سفر کرنے میں مشکلات کاسامناہے ۔لوگوںنے کہاکہ اس سڑک کی فوری طور پر مرمت کی جائے جس پر بڑے بڑے کھڈے پیدا ہوچکے ہیں اور یہ روڈ ناقابل استعمال بنتی جارہی ہے ۔انہوں نے محکمہ پی ایچ ای کے افسران و ملازمین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ ان کی لاپرواہی کی وجہ سے پانی کی سکیمیں بند ہوگئی ہیں جن کو فوری طور پر بحال کیاجائے ۔انہوںنے یہ الزام بھی عائد کیاکہ گھمبیر مغلاں سے بہروٹ تھنہ منڈی جانے والی سڑک کاکام بیچ میں ہی چھوڑ دیاگیاہے جس کو مکمل کیاجائے اور حفاظتی باندھ تعمیر کئے جائیں۔انہوںنے گھمبیر مغلاں ڈاک بنگلہ کی تعمیربھی شروع کرنے کی مانگ کی ۔مقامی لوگو ں کی طرف سے اجاگر کئے گئے دیگر مطالبات میں ہائی سکول ہٹاں سیری اور ہائراسکینڈری سکول گھمبیر مغلاں میں تدریسی عملے کی کمی پورا کرنے ،علاقے میں بینکنگ سہولیات فراہم کرنے ، ہٹاں سیری میں تعمیر کئے گئے پانی کے ٹینک کی مرمت کرنے ،گھمبیر مغلاں۔ہٹاں سیری پی ایم جی ایس وائی سڑک کی تعمیر میں آنیوالی اراضی کے مالکان کو معاوضہ فراہم کرنے ،اضافی بجلی کھمبے دینے ، اینمل ہسبنڈری سب سنٹر گھمبیر مغلاں میں عملے کی تعیناتی ،ہائی سکول سے منڈل،لڈیال سے شاہدرہ شریف ، کھالا کھیتر سے محلہ گھائی سڑکوںکی تعمیر کرنے اور نیلی میں نیا راشن ڈپو قائم کرنا شامل ہیں۔ضلع انتظامیہ کے ایک سینئر افسر نے بتایاکہ علاقے کے تمام مطالبات کی فہرست تیار کی گئی ہے اور اس پر ترقیاتی منصوبہ بنایاجارہاہے ۔ایک مقامی شہری محمد الیاس کاکہناہے کہ یہ سبھی مطالبات جائز ہیں اور ان کو پورا کیاجاناچاہئے ۔ انہوںنے کہاکہ سیاسی جماعتوںنے انہیں دھوکہ دیا اور اب آخری امید ضلع انتظامیہ ہے ۔