ظفر اقبال
اوڑی// سرحدی قصبہ اوڑی کے گھر کوٹ گائوں میں پہلی جنوری کو آگ کی واردات میں محمد دین بٹ ولد محمد یوسف بٹ کا رہائشی مکان مکمل طور تباہ ہو گیا تھا ،جب کہ آگ کی اس واردات میں ایک 4 سالہ لڑکا بھی لقمہ اجل بن گیا تھا۔اس مکان میں تین کنبے رہائش پزیدتھے،جن میں محمد دین بٹ اور ا سکے دو بیٹے مشتاق احمد بٹ اور محمد اکرم بٹ شامل ہیں ،مگر دوماہ گزرنے کے باوجود متاثرہ کنبوں کو سرکار کی طرف سے کوئی معاوضہ فراہم نہیں کیا گیا ۔ متاثرہ کنبوں کو ریڈ کراس سکیم کے تحت بھی ابھی تک کوئی معاونت نہیں کی گئی۔جبکہ انکی بجلی بلیں بھی ابھی تک جاری ہیں جنہیں محکمہ بجلی نے ابھی تک منقطع نہیں کیاہے۔متاثرہ کنبے کے ایک فرد نے بتایا کہ مکان خاکستر ہونے کے بعد وہ عارضی شیڈ میں رہتے ہیں مگر انتظامیہ کی طرف انہیں کچھ کمبلوں اور راشن کٹس کے علاوہ کوئی مدد نہیں فراہم کی گی۔انہوں نے کہا کہ محکمہ بجلی نے ان کے ایک مکان کو پہلے ہی دو اگریمنٹ کئے ہیں جو مکان خاکستر ہونے کے بعد بھی جاری ہیں۔گزشتہ ماہ ہمیں ایک بجلی بل 25000 ہزار اور دوسری بجلی بل دس ہزار کی تھما دیاگیا اور محکمہ کے اہلکاروں نے کہا آپ آدھی بجلی بل کی رقم ادا کرو، باقی ایمنسٹی سکیم کے تحت معاف کی جائے گی اور ہم نے پچیس ہزار میں سے دس ہزار روپے ادا کئے، مگر بجلی بل میں کوئی چھوٹ نہیں دی گئی۔ایمنسٹی سکیم کے حوالے سے اسی طرح کی شکایات اوڑی کے دیگر علاقوں سے بھی موصول ہوئی ہیں، جہاں لوگوں نے کہا کہ محکمہ بجلی کے افسران نے مختلف دیہات میں ایمنسٹی کیمپس لگا کر بتایا کہ آپ نصف بلیں ادا کروں، باقی کی آپکو ایمنسٹی سکیم کے تحت معاف کی جائے گی، مگر ایسا نہیں ہوا ۔ لوگوں کا کہنا ہے کی محکمہ نے سکیم کے حوالے سے لوگوں کو گمراہ کیا۔اب لوگ محکمہ بجلی کے دفتر کے چکر کاٹ رہے ہیں مگر انکی کوئی سنتا نہیں ہے۔محکمہ بجلی کے ایک آفیسر نے بتایا کہ لوگوں کو ایمنسٹی سکیم کے حوالے سے کچھ غلط فہمی ہے۔انہوں نے کہامحکمہ بلوں پر اضافی ٹیکس ہی معاف کر سکتا ہے نہ کہ اصل بجلی بلوں کی رقم۔