روز مرہ کی مصروفیات سے آخر تنگ آکر دل نے کہیں گھومنے کو چاہا، اب اس معاملے کو لے کر کافی خیالات ذہن میں پیدا ہوگئے کہ کس جگہ کا سفر کیا جائے تاکہ ذہن کو کسی طرح کا سکون میسر ہو جائے ۔ دل میں خیال آیا کہ کسی ایسی جگہ کا انتخاب کیا جائے جہاں قدرتی نظاروں کا کافی نزدیک سے مشاہدہ کرنے اور لطف اندوز ہونے کا موقع ملے۔ روز مرہ کے حالات نے دل و دماغ میں جو الجھنیں پیدا کی ہیں وہ دور ہو جائیں، اسی ضمن میں ایک جگہ سادھنا ٹاپ کے نام سے یاد آگئی، اس جگہ کے بارے میں اپنے والد صاحب سے کافی سنا تھا، اس وقت والد صاحب نے جس انداز میں اس جگہ پر روشنی ڈالی ،دل میں اس جگہ نے مانو گھر کر لیا تھا. لیکن خود اس جگہ جانے اور اس جگہ کا مشاہدہ کرنے کا موقع کبھی فراہم نہ ہوسکا۔ لیکن جو باتیں سننے کو ملی تھی وہ آج بھی یا د ہیں۔ ان باتوں میں سب سے دلچسپ بات یہ تھی کہ یہ جگہ قریباً دس ہزار فٹ کی اونچائی پر واقع ہے اور یہ بھی سنا تھا کہ جو راستہ سادھنا ٹاپ جاتا ہے وہ راستہ کافی ڈراونا ہےجبکہ یہ جگہ سرسبز پہاڑوں میں لپیٹی ہوئی ہے ۔
بہرحال ان باتوں کو میں نے تھوڑی دیر کے لئے سائیڈ میں رکھا اور یہ سوچنا شروع کیا کہ یہ سفر کیسے اور کس کے ساتھ کیا جائے کیوں کہ اکیلا سفر پر جانے میں مجھے ڈر محسوس ہو رہا تھا کیوں کہ یہ میرا پہلا سفر تھا۔ بہرحال کافی سوچنے کے بعد میں نے کچھ جگری دوستوں کو فون پر اس سفر کے بارے میں آگاہ کیا تاکہ میں دیکھ سکوں کہ ان کے ذہنوں میں اس جگہ کے بارے میں کس طرح کے خیالات ہیں اور وہ کس حد تک میرے اس فیصلے سے متفق ہوں گے۔ رابطہ کرنے کے بعد تینوں دوستوں نے مجھ سے ہمدردی اور اس جگہ کا سفر کرنے کا شوق ظاہر کیا۔ان میں سے ایک دوست نے معذرت کی کیوں کہ وہ اپنی حاملہ بیوی کے ساتھ کسی ہسپتال میں لائن میں کھڑا اپنی باری کے انتظار میں دھکے کھا رہا تھا.۔بہر حال ہم چاروں دوستوں نے ایک جگہ ملنے کا فیصلہ کیا تاکہ سفر پر جانے سے پہلے کچھ ضروری اخراجات کا انتظام کیا جائے۔ ہم نے ان چیزوں کا لسٹ تحریر کیا جن چیزوں کی ضرورت ہمیں محسوس ہوئی، پھر ان چیزوں کو آپس میں تقسیم کیااور یہ بھی طے کیا کہ سنیچر کی صبح ساڑھے دس بجے سفر شروع ہوگا۔
سنیچر کی صبح مقررہ وقت پر ہم گاڑی میں سوار ہوتے ہی ہم نے سیٹ بیلٹ کس لیے اور ٹائپ کا وولیوم بڑھا دیا اور ٹانگیں پھیلا کر بیٹھ گئے۔ٹانگیں پھیلانے سے آپ سمجھ گئے ہونگے کہ سادھنا ٹاپ جانے کی ہمیں کتنی خوشی تھی۔ ظاہر ہے کہ سادھنا ٹاپ کشمیر کے شمالی ضلع کپوارہ کا وہ علاقہ ہے جس کی سرحد ملک پاکستان سے ملتی ہے۔اسبات کی بھی خوشی تھی کہ پاکستان کا نظارہ بھی کیا جائے لیکن چوکی بل فوجی انٹری پوائنٹ پر جو کہ فوج کا بڑا انٹری پوائنٹ مانا جاتا ہے پر ہمیں صرف سادھنا ٹاپ تک جانے کی ہی اجازت مل گئی ، دل میں ٹھیس پہنچی اس لیے کہ پاکستان کا دُور سے نظارہ کرنے کا شوق پورا نہ ہوگا۔ بہر حال ہم خوش ہوئے کہ کم سے کم سادھنا ٹاپ تک جانے کی اجازت مل گئی ۔ جونہی ہم نے انٹری پوائنٹ پار کیا تو دیکھا کہ سڑک کے کنارے دیودار کے لمبے لمبے درخت اس طرح کھڑے نظر آرہے کہ جیسے کہ وہ درخت سیاحوں کے استقبال میں کھڑے ہوئے ہیں،ان سر سبز درختوں کو دیکھتے ہی پتہ چلا کہ جگہ بہت نفیس اور دلکش ہے،گاڑی میں یہاں تک ہم دوستوں نے خوب باتیں کیں لیکن جونہی قدرتی نظارے شروع ہوئے، ہم چاروں دوست ایک دم خاموش ہوگئے ،نہ جانے کس چیز نے ہماری زبان پر قدغن لگایا اور نہ جانے ہم کن خیالوں میں مصروف ہو گئے لیکن ان نظاروں کو دیکھ کر میں نے سوچنا اور مشاہدہ کرنا شروع کر دیا۔ سچ بولوںکہ میری عادت ہے کہ میں ہر منظر پر کچھ نہ کچھ سوچ کر کچھ نیا اخذ کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور نئے تجربات سے خود کو محظوظ کرتا ہوں، میں دل میں ارادہ کر لیا کہ سفر پر واپسی کے بعد حالات کو قلمبند کر ڈالوں۔
بہر حال ہماری گاڑی ان سرسبز جنگلات سے نکل کر ٹی پی نامی ایک خوبصورت جگہ میں رک گئی اور ہم گاڑی سے باہر آکر وہاں کے لوگوں سے کچھ گفت و شنید کرنے لگے ، اس جگہ کے بارے میں کچھ جاننے کی کوشش کرتے رہے۔ ٹی پی میں ایک راستہ بائیں جانب جاتا ہے جو کہ بنگس ویلی جانے کا راستہ ہے اور دوسرا راستہ دائیں جانب جاتا ہے جو کہ سادھنا ٹاپ اور اسے آگے جانے کا راستہ ہے۔ساھنا ٹاپ جانے والے راستے کے کنارے میری نظر لگے سائن بورڑ پر پڑی جو کہ بیکن ڈپارٹمنٹ نے لگایا تھا اس بورڑ پر جو کچھ تحریر کیا ہوا تھا، میں نے سب پڑھ ڈالااور کچھ اہم معلومات حاصل کیں۔اس کے بعد ہم پھر سے گاڑی میں سوار ہوگئے اور سادھنا ٹاپ کے اور روانہ ہوئے۔ ابھی گاڑی دو سو قدم ہی چلی تھی کہ سڑک نے سانپ کی صورت اختیار کی ،یہاں سے اصل سفر شروع ہوا اس لیے کہ گاڑی نے اب پہاڑوں کی اونچائی کو ناپنا شروع کر دیا۔روڑ کے دونوں طرف دلفریب نظاروں کو دیکھ کر ہم چاروں دوست پھر سے چپ ہوگئے ایک دوسروے کے ساتھ بات کرنا جیسے حرام تھا۔ہم اس طرح دوست کم اور دشمن زیادہ نظر آ رہے تھے۔پُرفریب نظاروں نے ہماری زبان بند کردی تھی اور ہمیں خاموش تماشائی بنا دیا تھا۔ میں تو یہ نہیں کہہ سکتا کہ دوستوں کے ذہنوں میں کیا چل رہا تھاالبتہ اتنا ضرور کہوں گا کہ میرے ذہن میں محض یہی بات گونج رہی تھی کہ قدرت کے ان نظاروں سے ہم آج تک روبرو کیوں نہیں ہوئےتھے اور سچ بولوں میں نے جو کچھ دیکھا اس پر اللہ کا نام یاد آگیا اور کبھی کبھی حیران ہو کر میں نے تسبیح گننی شروع کر دی۔ راستے میں کئی موڑ آگئےاور کافی ڈر بھی محسوس کیا ،اس لیے کہ روڑ کافی تنگ تھا، مشکل سے دو گاڑیوں کا آمنا سامنا ہوتا تھا۔ جب راستے میں کسی بڑی گاڑی کا سامنا ہوتا تھا تو بڑی مشکل سے سامنا کرتے تھے اور کافی ڈر رہتا تھا کہ اگر سائڈ دیتے وقت کچھ اِدھر اُدھر ہوا تو موت سو فیصد یقینی ہےلیکن اچھی چیز یہ تھی کہ روڑ پر بڑے اچھے طریقے سے میکڈم بچھا ہوا تھا،جس پر سفر کرنے میں آسانی ہوتی تھی لیکن جتنا جتنا ہم اوپر چلتے گئے ایسا لگتا تھا کہ ہم آسمان پر چڑھتے جا رہے ہیںاور کافی ٹھنڈی محسوس کرنے لگے ۔میرے دل میں بڑی خوشی تھی اس لیے کہ میں نے پہلی بار اتنی اونچائی کا سفر کیا تھامگر حقیقت یہ ہے کہ وہاںپہنچ کر واقعی روح تازہ ہوگئی اور ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے ہم جنت کی سیر کر رہے ہیں۔ہم نے گاڑی سڑک کے کنارے کھڑی کر دی اور دو پہر کا کھانا کھانا شروع کر دیااور اس کھانے میں بھی قدرتی مناظروں نے اپنی ایک الگ ہی لذت پیدا کر دی ،کافی وقت وہاں گزارنے کے بعد ہم نے واپس گھر لوٹنے کا ارادہ کیا اور گاڑی میں سوار ہوگئے…..
فون نمبر۔ 9906609701