کہتے ہیں کہ بلی جب گرتی ہے تو پنجوں کے بل۔ یہی حال کشمیری سیاسی لیڈروں کا ہے ۔یہ ہوا کا رخ دیکھ کر ہی اپنی ناؤ دریا میں ڈالتے ہیں اور اپنی سیاست چمکانے میں بڑے ماہر ہیں، ڈراما بازی کرکے غریب وسادہ لوح عوام کو اپنی جال میں پھنسانے کے کرتب خوب جانتے ہیں،اپنی کلاکاری سے خود بھی جیتتے ہیں اور اسی سادہ لوح عوام کو ایک دوسرے کا گریبان بھی پکڑواتے ہیں اور لڑاتے ہیں، نعرے بازی اور سنگ بازی بھی انہی کا شگون ہے اور خود اپنی اپنی بِلوں میں دور سے تماشا دیکھتے ہیں ۔یہ اگر جیل میں ہوتے ہیں تو انہیں شاہی مہمان تصور کیا جاتا ہے اور جب دورے پر ہوتے ہیں تو وی آئی پی سمجھ کر عزت واکرام سے نوازاجاتاہے۔ اْس وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمیں بھی کسی نے اس مقام پر پہنچایا ہے۔ جو ان کے پیچھے پیچھے چلتے ہیں ،ووٹ ڈالتے ہیں ،انہی کو جیتنے کے بعد یہ لوگ شک کی نظروں سے دیکھتے ہیں اور اپنے دروازے ان کیلئے بند کرتے ہیں اور اپنے محافظوں سے جھوٹ بلوا کر کہتے ہیں کہ صاحب ایک اہم کام میں مشغول ہیں ،ملاقات دینے سے قاصر ہیں۔ واہ رے دنیا واہ! اگر خدائی بھی انہی جیسے لوگوں کے ہاتھوں میں ہوتی تو غریب اور سادہ لوگوں کا خیرخواہ کوئی نہ ہوتا۔
خیر میں یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ آخر ان لوگوں کو اپنی عوام سے زیادہ اہم اور ضروری کام کیا ہوتا ہے ۔کیوں یہ بعد میں اپنے ہی عوام سے منہ پھیرتے ہیں؟ کون سی چیز ان کو ایسا کرنے پر مجبور کرتی ہے؟ ایسا ایک بار نہیں باربار ہوتا ہے ۔انہوں نے ہر وقت عوام کو دھوکے میں رکھا اور یہ اپنے مفادات کو مدنظر رکھ کر صرف اپنی ہی کرسی کی خاطر سوچتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ کشمیری عوام اب خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔یہاں عزت بِکی، وسائل بِکے ،غرض جو بھی آفت یہاں کے عوام پر نازل ہوئی، وہ انہی کے ہاتھوں ہوئی۔ اس کام میں یہ اکیلے نہیں بلکہ ان کی مدد کشمیر کے سبھی سادہ لوح لوگ غیر دانستہ طور کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اب یہاں کے عوام کے پاس رونے کے سوا کچھ نہیں ہے ۔
آج پھر مگرمچھ کے آنسوبہا کر ان سیاسی مداریوں نے گپکار اعلامیہ کو عملی جامہ پہنا کر عوامی اتحاد کی نام نہاد کمیٹی بنا کر عوام کی آنکھوں میں ایک بار پھر دْھول جھونکنے کی کوشش کی اور اپنی خود غرضی کو مدنظر رکھ کر انتخابات لڑنے کا باضابطہ فیصلہ کیا ہے۔ جی ہاں! فیصلہ کشمیر میں نہیں جموں و کشمیر کے سرمائی دارالحکومت جموں میں ہوا۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر یہ لیڈر کل تک کہتے تھے کہ ہم جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال ہونے تک انتخابات نہیں لڑیں گے، تو اسی اعلامیہ کے تحت آج یہ لوگ شانہ بشانہ انتخابات لڑنے کی باتیں کیوں کررہے ہیں؟ لگتا ہے کہ انہیں اب ریاستی درجہ بحال ہونا پانی کی لہریں گننے کے مترادف لگتا ہے، اسی لئے یہ لوگ اب اس بات پر متفق ہوئے کہ ہم ایک دوسرے کے سوا اب کرسی حاصل نہیں کرپائیں گے۔ لوگ کرونا کی اس وبا میں سماجی دوری میں رہ کر اندر ہی اندر مر رہے ہیں، وہیں یہ لوگ اپنی کرسی کی خاطر ایک دوسرے سے گلے مل رہے ہیں اور اندر سے وازہ وان کھا کر باہر منہ بسورتے ہیں کہ ہم بھوکے ہیں۔ بچارے لوگ بھی ان کی یہ ڈراما بازی دیکھ کر جذباتی ہورہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اب یہ سیاسی لیڈر نہیں مسیحا بن کر آئیں گے اور ہمارے ذخموں کامرہم کرکے ہی رہیں گے مگر یہ ان لوگوں کی بھول ہے، ان کے یہ جذباتی بیانات سن کر اب عوام، خاص کر انکے چیلے اور چمچے سڑکوں، گلی کوچوں، اور دکانوں پر یہی چرچا کررہے ہیں کہ اب کشمیر کے حالات سدھر جائیں گے مگر یہ سمجھنے سے بعید ہیں کہ یہ سیاسی مداری خود نہیں سدھرتے ہیں ۔عوام کو یہ ڈراما پوری طرح سے سمجھنا چاہیے کہ یہ لوگ ہمارے دوست نہیں ہیں ۔انہوں نے جو پیسہ عوامی بہبودی کیلئے لایا تھا ،وہ اپنی بہبود میں لگاکر عوام کو رْلایا ۔لوگوں کو سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہئے کہ آخر کیا ہوگا؟ اور اب تک کیا ہوا؟
یہ انسان بھی عجب خلقت ہے کہ اس میں بھولنے کی بیماری ہے اور جلد ہی بھول جاتے ہیں کہ کل کیا ہوا۔ یہی حال کشمیری لاچار اور بے بس عوام کا ہے کیونکہ جب بھی یہ بیچارے دھماکے دار خبریں سنتے ہیں تو بہک جاتے ہیں ۔اس میں کچھ حصہ صحافی برادری کا بھی ہے۔ یہ ایک ایسا پیشہ تھا جو انصاف پر مبنی تھا مگر اب یہ لوگ بھی غیر موزون خبروں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ پتہ نہیں کہ آخر صحافت سے وابستہ کئی لوگ ان سیاستدانوں کے خیرخواہ کیوں ہیں؟خاص طور سے وہ نام نہاد صحافی جنہوں نے اپنی دکانیں اب سوشل میڈیا مثلاً فیس بْک اور یوٹیوب پر سجائی ہیں اور عوام کو اپنی میٹھی میٹھی باتیں سنا کر اپنے جھانسے میں پھنسا تے ہیں اور بعد میں عوام کی کثیر تعداد اپنے پیچھے پیچھے دیکھ کر کسی سیاسی جماعت یا سیاسی شخص کو اپنا ضمیر بیچتے ہیں اور انہی کی وکالت کرنے لگتے ہیں اور عوام کو سرراہ ڈال کر ان کویہ فیصلہ کرنے پر مجبور کرتے ہیں کہ بس یہی لوگ سیدھے راستے پر ہیں ۔یہاں یہ کہنا مناسب سمجھتا ہوں کہ یہ سیاسی مداری عام لوگوں کو منہ کے بل گراتے ہیں اور جو ان کے نقش قدم پر چلتے ہیں ان کو آسمان پر چڑھا کر گرا دیتے ہیں ۔میں اس بات سے پوری طرح واقف ہوں کہ کئی لوگ ان سیاستدانوں کا اس لئے ساتھ دیتے ہیں کہ ان کا کام ہوجائے اور وہ دوسروں کو بھی پھنسا کر سیاستدانوں کے پاس لے جا کر اقرار کرواتے ہیں کہ ہم بھی آپ کے سیاسی مریدوں میں شامل ہوں گے اور آپ کی وفاداری کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کریں گے۔سچ پوچھیں جب سے یہ سیاستدان اندر تھے،تو لوگ باہر آرام کی زندگی بسر کرکے چین کی نیند سوتے تھے اور جوں ہی یہ لوگ باہر آئے تو لوگوں میں تذبذب، خوف اور وحشت طاری ہوا ہے کیونکہ لوگوں کو لگتا ہے کہ اس وقت جو بھی حالات ہیں، ان کا ذمہ دار کوئی اور نہیں بلکہ کشمیر کے یہی سیاستدان ہیں ۔ان کی آپسی رنجش نے ہمارے خوابوں کو چکنا چور کردیا اور ہمارے مستقبل کو چھیننے میں اہم رول ادا کیا۔اب فیصلہ عوام کے ہاتھوں میں ہے ،ان کو چاہیے کہ فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں اور کسی کے اثرورسوخ میں نہ آئیں ۔ یہ گلپوش وادی ان ہاتھوں میں نہ دیں جن ہاتھوں نے ہماری عزت وناموس، ہماری جان ومال، اور ہمارے بچوں کا مستقبل محفوظ نہ رکھا۔
ان سیاستدانوں کو بھی ہوش میں آنا چاہیے کہ عوام کا بھروسہ واعتماد ہم پر سے کیوں اٹھ گیا۔ان کو انتخابی تیاریوں کی بجائے عوام کی خدمت میں لگنا چاہیے اور عوام کی فکر کرنی چاہیے۔ عوام نے ان کو پارلیمنٹ اور اسمبلی میں اپنی نمائندگی کرنے کیلئے بھیجا تھا نہ کہ اسی عوام کے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کیلئے۔ کرسی پر بیٹھ کر انہیں کبھی یاد نہیں آیا کہ ہمارے پیچھے وہ غریب اور نادار عوام بھی ہیں جنہوں نے ہمیںمنتخب کرکے اس درجے پر پہنچایا۔ کئی لیڈر اپنی کرسیوں سے اس طرح چمٹ کر رہ گئے، جیسے ایک پھوڑے پر جونکیں چمٹ رہی ہیں۔ اسلئے سیاستدانوں کو چاہئے کہ وہ خدارا اس آفت زدہ قوم پر اب احسان کریں اورہمارے بچوں سے جینے کاحق مت چھینیں، ہمارے مستقبل کو مزید چھیننے کیلئے اپنی چالیں نہ چلائیں، غریب اور مفلوک الحال عوام کو سبز باغ دکھانا بند کریں تاکہ اب ہمیں تھوڑا سا سکون مل جائے اور ہم راحت کا سانس لے سکیں۔کہیں آپ اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کیلئے ہمارے بچوں کو بَلی کا بکرا نہ بنائیں اور ان کا مستقبل بھی مخدوش نہ کریں۔
رابطہ:[email protected]