گول// ضلع رام بن کاسب ڈویژن گول آہستہ آہستہ گندگی کے ڈھیرمیں تبدیل ہوتا جا رہاہے ۔گول بازار سے نکلنے والاتمام ٹھوس فضلات ندی نالوں ،کھیتوں اورجنگلات میں ڈالا جاتاہے جس وجہ سے بیماریاں پھوٹنے کابھی خطرہ لاحق ہے ۔گول بازار سے سبزی ،مرغ ،میڈیکل اسٹور ، ہسپتال یا کسی دوسری جگہوں سے جو بھی گندگی بچتی ہے دکاندار یا وہ لوگ جن کو صرف اپنی صفائی کی پڑی ہوتی ہے اس گندگی کو بوریوں میں ڈال کر نالوں اور کھیتوں میں ڈالا جا تا ہے۔ گول کا دروازہ گراٹ موڑ کی اگر بات کریں یہاں کھلے عام جنگلات میں گندگی ڈالی جا رہی ہے اور محکمہ جنگلات میں خاموش تماشائی بنا ہوا ہے ۔وہیں گول رام بن شاہراہ کے کئی مقام پر سب ضلع ہسپتال کے ساتھ موجود ندی ، دتر موڑ، ڈکسر نالی وغیرہ میں اس ٹھوس فضلات کو ڈالاجا رہا ہے ۔وہیں گول سلبلہ روڈ کے زلس کے مقام پر بھی نالیوں میں اور کھیتوں میں کھلے عام بوریوں میں بھر کر یہ گندگی ڈالی جا رہی ہے ۔کشمیرعظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے مقامی لوگوں نے اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح سے کھلے عام گندگی ڈالنے سے جہاں بیماریاں پھوٹنے کاخطرہ ہے وہیں جنگلی درندے ، آوارہ کتے گائوں گائوں میں چلے آتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ شام کے بعد کچھ دکاندار بوریوں میں بھر کر یہ گندگی لاتے ہیں جہاں اسے جنگلات میں کھلے عام ڈالا جا رہا ہے وہیں لوگوں کے کھیتوں اور اراضی میں کھلے عام ڈالا جا رہا ہے جو کافی تشویشناک ہے ۔ لوگوں نے کہا کہ آج تک نہ ہی انتظامیہ نے اس پرکوئی کاروائی کی اورنہ ہی پنچایتی نمائندے اورمحکمہ دیہی ترقی کوئی قدم اٹھا رہاہے جو سوچھ بھارت مشن کا ڈھونگ رچا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اس گندگی کو ہر ایک چلنے والاانسان دیکھتا ہے چاہئے وہ انتظامیہ سے وابستہ ہو یا ذمہ دار شہری ،سیاست دار وغیرہ لیکن تمام کے تمام خاموش بیٹھے ہوئے ہیں ۔لوگوں نے کہا کہ اگر اس چیز کا جلداز جلدکوئی علاج نہیں ڈھونڈا گیا تو ہم پولیس اسٹیشن میں جا کر نام لے کر شکایت درج کریں گے جس میں تمام دکاندار بھی آ سکتے ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس خوبصورت علاقہ گول صاف و شفاف رکھنے کے لئے ہرایک شہری کا فرض ہے چاہئے وہ دکاندار ہو یا عام شہری تاکہ باہر سے آنے والا شہری ہم سے متاثر ہو ۔