گول//گول رام بن جو کہ جموں کشمیر میں خوبصورت ترین جگہوں میں سے ایک ہے کو ہر سرکار نے نظر انداز کیا ہے ۔ مقامی لوگوںنے بارہا حکام سے اپیل کی تھی کہ گول کو سیاحتی نقشے پر لایا جائے تاہم اس سلسلے میں کسی بھی حکومت نے کوئی اقدا م نہیں اُٹھا اور اس تواریخی علاقہ کو ہر حکومت نے نظر انداز کیا ہوا ہے ۔ فلک بوس ٹیڑھے میڑھے پہاڑوں کی آغوش میں گول کے نام سے موسوم ہے جو کہ قدرتی دل فریب رعنائیوں کا جلوہ بکھیرے آباد ہے یہ خطہ ضلع رام بن کے نقشہ پر ایک برائے نام سب ڈویڑن کا رتبہ پایا ہوا علاقہ ہے جہاں پر ایس ڈی ایم بصورت ایس ڈی ایم تو پڑتا ہے مگر سیاسی دوست دباؤ کی وجہ سے مکمل اختیار استعمال کرنے سے قاصر ہے یا یوں کہا جائے کہ کام کرنے کام نہیں نہیں ہے تو بیجا نہ ہوگا۔ لامثال دلفریب سیاحتی مقامات سے مالامال اس خطہ میں سیاحت کو فروغ دینا کبھی کسی بھی حکومت یا حکمران کے خیال میں نہ آیا۔ گو کہ اس خطہ ارض میں حکمرانوں کا ایک بہت بڑا لشکر وقت دانت ریاستی سطح پر اقتدار کا ایک اہم قصہ بھی رہا لیکن ستم ظریفی دیکھئے کہ عوام کی طرف سے باہر ہاں فریاد کرنے کے بعد بھی انھوں نے اس جانب کوئی توجہ نہیں دی عوام کو مقامی سیاستدانوں سے گلہ ہے کہ انہوں نے اقتدار میں ایک اچھی جگہ پانے کے باوجود بھی گول کو سیاحت کے نقشے میں لانے کا کوئی سنجیدہ اقدام نہیں اٹھایا بس اقتدار کی چٹنی کو لگاتار چٹنے کی خاطر تعمیر و ترقی کے نام پر عوام کو ہمیشہ گمراہ کرنے کا عمل اپنایا گیا کسی علاقہ فتح کو تعمیروترقی طور خوشحال بنانے کے لیے اسے سیاحتی طور پر خوشحال بنانا اشد ضروری ہے لیکن مقامی سیاست ہمیشہ انتقامی گری کی آگ میں جلتی رہی اور علاقہ سیاحتی اور تعمیروترقی طور پسماندگی کی جانب گامزن رہا۔ آج تک جتنی بھی پارٹیاں اقتدار میں ای سب نے بڑے بڑے دعوے کیے تھے کہ سرکار بننے کے فورا بعد ہی گول کے سیاحت کے نقشے میں ضرور تبدیلی لائیں گے لیکن آج تک سرکار بننے کے بعد کوئی بھی اپنے وعدے کون نہیں نبھا سکے۔سیاحتی مقام دگن ٹاپ گول کا ایک اہم سیاحتی مرکز ہے جہاں پہنچ کر انسان کشمیر جیسے جنت بے نظیر کے سیاحتی مقام کو بھول جاتا ہے جہاں ہر موسم میں مقامی و غیر مقامی لوگوں کا ایک ہجوم نظر آتا ہے کیونکہ یہ سیاحتی مقام گول تا مہور شاہراہ کے بر لب واقع ہے یہی وجہ ہے کہ یہاں سے گزرنے والے مسافروں کو اس دلفریب سیاحتی مقام کا نظارہ کرنے کے لیے کچھ دیر کے لیے اپنی گاڑی کو بریک لگانے کے لئے مجبور ہونا پڑتا ہے۔ گول بازار سے ان حسین سیاحتی مقامات تک پہنچنے کا سفر بذریعہ گاڑی صرف آدھے گھنٹے کا ہے لیکن ریاستی حکومتوں اور محکمہ سیاحت کی غفلت اور عدم توجہی کے باعث ان مقامات کوآج تک سیاحت کے نقشے میں نہیں لایا گیا۔حجام مرگ۔ لپری ٹاپ۔ درساں ٹاپ۔ نرسنگاہ۔راماکنڈ۔ کوٹ اور گھوڑاگلی وغیرہ جیسے حسین اور دلفریب حسن سے مالامال سیاحتی مقامات سیاحوں کو دعوت نظارہ دیتے نظر آتے ہیں۔ان مقامات پر آپ کو رنگ برنگے پھول آسمان سے باتیں کرتے قائل دیار کے بلند و بالا درخت سرسبز میدانوں میں چرتے بھیڑ بکریوں کے ریوڑ کہیں کہیں چرواہوں کی جانب سے اپنے رہائش کے لیے لکڑی و مٹی سے بنائی گئی عارضی رہائش گاہیں کھیتاں و کوثر ناگ کی سفید دودھیا آبشار جھرنے اور مرغ زریں تتر و بن کوکڑ کوئل کی خوبصورت بولیاں انسان پر سحر سا طاری کر دیتی ہیں لیکن گول کے ان سیاحتی مقامات کی دلفریبی اور دیدہ زیبی کا اگر کسی پر اثر نہیں ہو رہا ہے تو وہ ہے حکومت جموں و کشمیر اور سیاستدان وادی گول کے ان سیاحتی مقامات کی دلفریبی اور خوبصورتی کا احاطہ قلم کے ذریعے ممکن ہی نہیں ۔وادی گول کے دلفریب اور قدرتی حسن سے مالا مال پر فضا سیاحتی مقامات راما کنڈہ۔ دگن ٹاپ۔ نرسنگا درساں ٹاپ۔ لپری ٹاپ۔ کھیتاں۔ حجام مرگ۔گھوڑاگلی کوٹ سر کھینٹا کے سر سبز میدان سرے سے ہی حکومتی محکمہ سیاحت کی بے حسی پر ماتم کناں ہیں صوبہ جموں میں صرف گول گلاب گڑھ۔ کو سیاحتی اور تعمیر و ترقی تور بری طرح سے نظر انداز کیاجارہاہے تعمیر و ترقی سطح پر گول کو الگ تھلگ رکھا جارہا ہے