گول//گول ایک عالم دین ، معلم اور بااثر شخص سے محروم ہو گیا ۔گول کے معروف عالمِ دین، شفیق استاد اور پ ر اثر مقرر و خطیب غلام قادر وانی گزشتہ روز دارالفناءسے دارالبقاءکی جانب کوچ کر گئے۔ غلام قادر وانی کے انتقال کی خبر جب سوشل میڈیا پر گردش کرتی ہوئی دکھائی دی تو ہر فرد و بشر نے اپنے اپنے طریقے سے د±کھ کا اظہار کیا اور غلام قادر وانی کی وفات کو قوم کیلئے اک بہت بڑے نقصان سے تعبیر کیا ۔واضح رہے غلام قادر وانی نے اپنی تمام تر زندگی رضائے الٰہی میں گزاری، آپ نے بطورِ سرکاری ملازم پیشہءاستادی کے فرائض بھی انجام دیئے لیکن آپ بطورِ استاد بھی اپنی اک الگ ہی مثال قائم کئے تھے۔ آپ نے ملازمت کی پوری مدت کو انتہائی ایمانداری اور نیک نیتی سے انجام دیا اور سبکدوشی تک آپ نے پیشہءاستادی کے عظیم کردار کو ایسے نبھایا کہ آج بھی مثال دی جاتی ہے۔ آپ نے دوران ملازمت اور ا±س کے بعد دین اسلام کی خدمت کرنے میں بھی مثالیہ کردار نبھایا۔ آپ نے بہت وقت تک مرکزی جامع مسجد گول میں اپنے ر±وح پرور اور سخت دلوں کو موم کرنے والے خطبہ سے اہل ایمان کو دینی فکر سے آگاہ کیا ۔ آپ کی خطاب انتہائی اثر انداز ہوتے تھے آپ اک باکمال خطیب تھے۔ آپ جب خطاب کرتے تھے خود بھی روتے تھے اور مقررین کو بھی ر±لاتے تھے۔ آپ کے خطاب پتھر دلوں کو موم کرتے تھے ۔ غلام قادر وانی کی وفات پر سیاسی ، سماجی شخصیات نے نہایت ہی رنج و غم کا اظہار کیا اور مرحوم کے ایصال و ثواب کے لئے دعا کی اورلواحقین سے ہمدردی جتائی ۔ دریں اثنا ورکنگ جرنلسٹ ایسو سی ایشن گول سنگلدان کے زعماﺅں اور قلمکار صحافی ایم شفیع میر نے بھی غلام قادر وانی کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غلام قادر وانی کی وفات پورے گول کیلئے دلدوز ودلسوز ہے۔ انھوں نے کہا کہ بالخصوص میرے لئے یہ خبر کسی سانحہ سے کم نہیں ۔ ا±ن کا کہنا تھا کہ علم و عمل کی اک شمع بجھ گئی اور علاقہ گول نے اک عظیم استاد، عالم دین اور بااثر مقررو خطیب کو کھو دیا ہے ۔دعا گوہوں کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرما کر کروٹ کروٹ جنت الفردوس عطا کرے اور لواحقین کو یہ مشکل وقت سہنے کی ہمت و جرات عطا کرے۔ آمین