گول//پورے بھارت میں وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے سوچھ بھارت مشن کا آغاز ہوا اور اس مشن کو اس لئے لاگو کیا گیا کہ پورے ہندوستان میں کوئی ایسا شخص نہیں رہنا چاہئے جو اپنی حاجت بشری کو پورا کرنے کے لئے کھلی جگہ پاخانہ کرے بلکہ بیت الخلاء میں۔ جہاں گھر گھر میں بیت الخلابنانے کا مشن شرو ع ہو اہے، وہیں ہر بازار میں اس کو تعمیرکیا گیا لیکن افسوس کا مقام ہے کہ گول اور سنگلدان سب ضلع رام بن کی شاید ایسی دو جگہیں ہیں جہاں پر بیت الخلاء نہیں ہے اور ہزاروں لوگوں کا آنا جانا دن بھر لگا رہتا ہے ۔ گلی کوچوں میں گندگی کے ڈھیر جمع ہوتے ہیں اور لوگ حاجت بشری کے لئے کھلی جگہوں پر جانے کو مجبور ہوتے ہیں ۔ اگر چہ کئی سالوں سے انتظامیہ صرف کہتی ہے لیکن عملی طور پر نہ ہی سنگلدان میں اور نہ ہی گول میں کوئی قدم اٹھایا گیا۔ سنگلدان ۔تتا پانی روڈ پرتقریباً دس سال قبل آئی آر پی تھرڈ بٹالین نے ایک بیت الخلاء تعمیر کیا لیکن افسوس کا مقام ہے کہ یہ نیست ونابود ہونے کو جا رہا ہے کیونکہ اس کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے ۔ اس بیت الخلاء کے ساتھ ہی ملک کی بہت بڑی تعمیری کمپنی افکان ریلوے کمپنی کا بھی ایک بیت الخلا ہے، لیکن انہوں نے بھی اسکی مرمت نہیں کی ہے۔ دو سال قبل یہاںپر تعینات ایس ڈی ایم نے بھی اس بیت الخلاء کو بنانے اور اسے قابل استعمال کے لئے یقین دہانی کرائی لیکن بعد میں کچھ نہیں ہوا ۔ اس طرح سے اگر گول بازار کی بات کی جائے تو یہاںپر بھی آرمی کی جانب سے بیت الخلاء تعمیر کیا گیا لیکن اس کو ذاتی استعمال میں لایا گیا اس کو بھی بیت الخلاء کے طور استعمال نہیں کیا گیا ۔ کچھ مہینے قبل گول میں انتظامیہ نے ایک میٹنگ بھی بلائی جنہوں نے گول بازار کے ساتھ ہی ایک شہری سے اراضی بھی لی تھی لیکن نا معلوم وجوہات کی بناء پر اس پر ابھی تک کوئی تعمیری کام شروع نہیں ہوا ۔ محکمہ رورل ڈولپمنٹ کی جانب سے نہ ہی سنگلدان میں اور نہ ہی گول میں اس طرح کا کوئی قدم اٹھایا جو سوچھ بھارت مشن کے نام پر ہو اور بازاروں میں گندگی کے ڈھیر لگے رہتے ہیں جس کی طرف کوئی توجہ نہیں دیا جاتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ گول اور سنگلدان کے بازاروں میں سوچھ بھارت مشن کو زمینی سطح پر لاگو کرنے کے لئے دونوں بازاروں میں بیت الخلاء تعمیر کئے جائیں تا کہ لوگوں کو کسی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔