طبی سہولیات فراہم کرنے کیلئے فائونڈیشن کی کوششوں کو سراہا گیا
پرویز احمد
سرینگر //گوری کول فائونڈیشن کے 5ویں یوم تاسیس پر مختلف ممبران اسمبلی اور ماہرڈاکٹروں نے وادی میں شعبہ صحت کو مضبوط کرنے پر زور دیا ہے۔مقررین نے گوری کول فائونڈیشن کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ گوری کول فائونڈیشن نے دور دراز علاقوں کے علاوہ وادی کے دور دراز قصبوں میں بھی لوگوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی ہے اور فائونڈیشن مستقبل میں طبی خدمات کو مزید توسیع دے گی۔ اس موقع پر فائونڈیشن کے بانی ڈائریکٹر ڈاکٹر اوپندر کول نے کہا کہ وادی میں بلڈ پریشر کے شکار مریضوں میں سے 53فیصد کا بلڈ پریشر دوائیاں کھانے کے باوجود بھی کنٹرول میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے لوگ حرکت اور بعد میں حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے فوت ہورہے ہیں۔سرینگر کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد گوری کول فائونڈیشن کی 5ویں یوم تاسیس کی تقریب پر ایم ایل اے کولگام محمد یوسف تاریگامی، ایم ایل اے پلوامہ وحید الرمان پرہ اور نیشنل کانفرنس کے ایم ایل اے میاں مہر علی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی ۔
تقریب میں گوری کول فائونڈیشن کے بانی ڈائریکٹر اور ماہر امراض قلب ڈاکٹر اوپندر کول ، ڈائریکٹر ڈاکٹر پریا درشنی اور ڈاکٹر عابد حسین، گریٹر کشمیر کمیونی کیشنزکے مالک فیاض احمد کلو کے علاوہ دیگر مہمان بھی موجود تھے۔ اس کے علاوہ سکمز کے سابق ڈایکٹر ڈاکٹر ایم ایس کھورو اور ڈاکٹر عبدالاحد زرگر کے علاوہ دیگر ماہرین صحت بھی موجود تھے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ایم ایل اے کولگام محمد یوسف تاریگاری نے کہا کہ جموں و کشمیر میں شعبہ صحت ڈاکٹروں کیلئے ایک تجارت بن گیا ہے اور یہاں قائم ہونے والے نجی ہسپتالوں میں مریضوں سے طبی خدمات فراہم کرنے کیلئے لاکھوں روپے لئے جارہے ہیں۔ تاریگامی نے ایک نجی ہسپتال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وادی میں ایک نجی ہسپتال کے مالکان نے بل ادا نہ کرنے کی وجہ سے مریض کی لاش 15دن تک اپنے تحویل میں رکھی تھی کیونکہ تیماردار علاج کی بھاری رقم ادا نہیں کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں وادی میں شعبہ طب ایک تجارت بن گیا ہے وہیں دوسری جانب گوی کول فائونڈیشن نے دور دراز علاقوں میں طبی خدمات فراہم کرکے نہ صرف وادی کے لوگوں کے درد کو سمجھا ہے بلکہ پچھلی کئی دہائیوں سے دو فرقوں میں پیدا ہونے والی کھائی کو پوری کرنے کی سنجیدہ کوشش کی ہے۔ا نہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں جہاںطبی خدمات کو بہتر بنانے کیلئے ہمیں سرکاری سطح پر قائم بڑے ہسپتالوں کو مضبوط کرناہوگا وہیں دوسری جانب گوری کول فائونڈیشن جیسی رضاکار تنظیموں کا بھی اس میں اہم رول بنتا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایم ایل اے پلوامہ وحید الرمان پرہ نے کہا کہ گوری کول فائونڈیشن نے پلوامہ، بڈگام ، کپوارہ اور جموں و کشمیر کے دیگر اضلاع میں لوگوں کو بہترین طبی خدمات فراہم کی ہیں بلکہ دو کمیونٹیوں کے درمیان دوریوں کو کم کرنے کی عملی کوشش کی ہے اور اس کوشش کیلئے ہم سب ان کے شکر گزار ہیں۔ ممبران پارلیمنٹ میاں الطاف کا خصوصی پیغام پڑھتے ہوئے ایم ایل اے گاندربل میاں مہر علی نے کہا ہے کہ پچھلے 5سال کے دوران گوری کول فائونڈیشن نے شوپیاں ، راجوری ،پونچھ ، کپوارہ اور کشتواڑ جیسی دور دراز علاتوں میں لوگوں کو طبی خدمات فراہم کی ہے جس سے ان علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو کافی راحت نصیب ہوئی ہیں اور کئی لوگوں کی جانیں بچی ہیں۔ اس موقع پر فائونڈیشن کے بانی ڈائریکٹر ڈاکٹر اوپندر کول نے پچھلے 5سال کی کارکردگی پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ فائونڈیشن نے پچھلے 5سال کے دوران مجموعی طور پر 25ہزار سے زائد مریضوںکا علاج ، 17ہزار سے زائد مریضوں ایکو کارڈیو گرافی، 3000ای سی جی،2500ٹی ایم ٹی، 4ہزار مریضوں کی حرکت قلب بند ہونے کیلئے سکریننگ جبکہ اس کے علاوہ خصوصی مہم کے دوران 5سے 18سال تک کے 600بچوں کی بھی سکرینگ کی ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر کول نے فائونڈیشن کے مستقبل کے منصوبوں پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی۔ تقریب کے اختتام پر مباحثے کا انعقاد کیا گیا جس میں ممبران اسمبلی اورماہر صحت نے جموں و کشمیر میں شعبہ صحت کو بہتر کرنے کیلئے درکار اقدامات اور تجاویز بھی پیش کیں۔ تقریب کے اختتام پر فائونڈیشن کی جانب سے گوری کول فائونڈیشن کی ڈائریکٹر ڈاکٹر پریا درشنی، ڈاکٹر عابد حسین دیگر نیم طبی عملے کے علاوہ گریٹر کشمیرکمیونی کیشنز کے چیف ایڈیٹر فیاض احمد کلو کوایوارڈ سے نوازا گیا ۔یہ ایوارڈ گریٹر کشمیر کے سینئر ایڈیٹر محمود الرشید نے حاصل کیا ۔