ٹاٹا سومو اور دو موٹر سائیکلیں بھی جل کر راکھ ، لاکھوں روپے کے نقصان پر تاجربرہم
شاہ نواز
مہور// ضلع ریاسی کے گلاب گڑھ علاقے کی پگی ہالہ مارکیٹ میں گزشتہ شب ایک بار پھر ہولناک آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں سات دکانیں، ایک ٹاٹا سومو گاڑی اور دو موٹر سائیکلیں مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گئیں، جبکہ ایک آلٹو کار کو جزوی نقصان پہنچا۔ اس افسوسناک واقعے میں متاثرہ تاجروں اور گاڑی مالکان کو لاکھوں روپے کے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔رات تقریباً 12 بجے اچانک بازار میں آگ بھڑک اٹھی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری مارکیٹ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ دکانوں میں موجود سامان، نقدی، فرنیچر اور دیگر قیمتی اشیاء مکمل طور پر جل کر راکھ بن گئیں۔ مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت آگ پر قابو پانے کی بھرپور کوشش کی، تاہم شدید شعلوں کے باعث نقصان کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہ ہو سکا۔مقامی افراد کے مطابق اگر بروقت کوششیں نہ کی جاتیں تو آگ مزید دکانوں اور قریبی رہائشی علاقوں تک پھیل سکتی تھی۔
لوگوں نے جان جوکھم میں ڈال کر دیگر دکانوں کے سامان کو محفوظ مقامات تک منتقل کیا، جس سے مزید نقصان ہونے سے بچ گیا۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ پگی ہالہ مارکیٹ میں آتشزدگی کا یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے، جس کے بعد تاجروں اور مقامی آبادی میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ متاثرین نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ آگ لگنے کی اصل وجوہات کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر حفاظتی انتظامات کیے جائیں۔واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ایس ڈی ایم مہور شفقت مجید بٹ، ایس ڈی پی او مہور ، تحصیلدار مہور جاوید اقبال اور ایم ایل اے گلاب گڑھ انجینئر خورشید احمد فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے۔ افسران نے متاثرہ دکانداروں اور مقامی لوگوں سے ملاقات کر کے نقصانات کا جائزہ لیا اور صورتحال کا تفصیلی معائنہ کیا۔انتظامیہ نے متاثرہ افراد کے نقصانات کا تخمینہ لگانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ حکام نے یقین دہانی کرائی کہ متاثرین کو ہر ممکن سرکاری امداد فراہم کی جائے گی اور نقصانات کے ازالے کے لیے مناسب اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ایم ایل اے گلاب گڑھ انجینئر خورشید احمد نے بھی متاثرہ تاجروں کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ حکومت متاثرہ خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور انہیں فوری ریلیف فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ مکمل رپورٹ جلد تیار کر کے متاثرین کی امداد کو یقینی بنایا جائے۔ادھر مقامی لوگوں نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ آگ ممکنہ طور پر جان بوجھ کر لگائی گئی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے انتظامیہ اور ریاسی پولیس سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے میں ایف آئی آر درج کر کے غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔ عوام نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ بازار میں جدید فائر سیفٹی نظام، آگ بجھانے کے آلات اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے مستقل انتظامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔واضح رہے کہ مہور پولیس نے اس معاملے میں ایک شخص کو حراست میں لے کر مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔