کئی علاقے گھپ اندھیرے میں،بدھل سب سے زیادہ متاثر، قصبہ میں چار دن بعد بجلی بحال
سمت بھارگو
راجوری//راجوری ضلع کے برف سے متاثرہ علاقوں میں بجلی کی طویل بندش نے عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ حالیہ شدید برف باری کے باعث ضلع کے متعدد علاقوں میں بجلی کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے اور کئی بستیاں گزشتہ تین سے چار دنوں سے تاریکی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔راجوری میں 22 جنوری سے 24 جنوری تک بھاری برف باری ریکارڈ کی گئی، جبکہ کچھ مقامات پر ہلکی برف باری کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ اس برف باری نے بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا، جس کے نتیجے میں ٹرانسفارمر، بجلی کے کھمبے اور تاریں متاثر ہوئیں اور سپلائی معطل ہو گئی۔اگرچہ برف باری رکنے کے بعد ابتدائی دنوں میں کئی علاقوں میں بجلی بحال کر دی گئی تھی، تاہم ضلع کے مختلف حصوں میں متعدد دیہات اب بھی بجلی سے محروم ہیں۔ زمینی اطلاعات کے مطابق تھنہ منڈی کے کئی گاؤں بشمول منیال گلی علاقہ، تحصیل خواص کی متعدد بستیاں، اور تحصیل کوٹرنکہ کے کئی دیہات جیسے کنڈی، کیول اور بدھل کے نواحی علاقے تاحال متاثر ہیں۔کوٹرنکہ سب ڈویژن کے ایک اہم قصبے بدھل ٹاؤن میں بجلی مسلسل چار دن بند رہنے کے بعد منگل کی شام بحال کی گئی، جس سے مقامی لوگوں نے کچھ راحت کی سانس لی۔ تاہم بدھل کے گرد و نواح کے نصف درجن سے زائد دیہات اب بھی اندھیرے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بجلی نہ ہونے سے گھریلو معمولات زندگی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ پانی کی فراہمی، موبائل فون چارجنگ، طلبہ کی پڑھائی اور بیمار افراد کی دیکھ بھال میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، خاص طور پر شدید سردی کے اس موسم میں حرارتی آلات کی عدم دستیابی نے پریشانی میں اضافہ کر دیا ہے۔ایگزیکٹو انجینئر، جے پی ڈی سی ایل راجوری محمد راشد نے بتایا کہ محکمہ بجلی کے اہلکار خراب موسمی حالات کے باوجود دن رات مرمتی کاموں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں سے 90 فیصد سے زیادہ میں بجلی بحال کر دی گئی ہے، جبکہ باقی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے بڑے نقصان کی وجہ سے کام میں وقت لگ رہا ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ باقی ماندہ علاقوں میں بھی آئندہ ایک سے دو دن کے اندر بجلی بحال کر دی جائے گی۔ ادھر عوام نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ دور دراز علاقوں میں بحالی کے کام کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے تاکہ لوگ اس سخت سردی میں مزید مشکلات سے بچ سکیں۔