ساری دنیا کے انسانوں کے لئے گائے ایک دودھ دینے والی مخلوق ہے ،جس کے تھن میں قدرت نے وہ خوبیاں رکھی ہیں کہ اس سے نکلنے والادودھ حضرت انسان کی صحت وسلامتی کیلئے دوا سے بھی زیادہ منفعت بخش اور روح افزاء ہوتا ہے۔جب یہی گائے کسانوں کے دروازوں پر باندھی جائے ،گئوشالوں میں اس کی پرورش ہوتو اس کے تھن سے نکلنے والا یہی سفید سیال اسے پالنے پوسنے والے خاندان کی آمدنی اور کفالت کا ذریعہ بنتی ہے۔ملک کے اندرہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کی تعدادمیں ایسے خاندان موجود ہیں، جن کی قوت لایموت کا ساراانحصار اسی گائے پر ٹکا ہوا ہے۔اگر ملک کی معیشت میں گایے کی شراکت کا تخمینہ لگایا جائے تو یہ جان کر ہم حیران رہ جائیں گے کہ اربوں روپے کی آمدنی جس ڈیری پروڈکٹ سے ہورہی ہے ،اس کا زیادہ ترحصہ گائے کے دودھ سے ہی وابستہ ہے مگر گزشتہ چند برسوں سے یہی گایے کچھ مخصوص طاقتوں کے لئے سیاسی قوت حاصل کرنے کا ذریعہ بن گئی ہے۔بالخصوص 2015میں قومی دارالحکومت دہلی سے متصل اترپردیش کے دادری میں محمد اخلاق نامی مسلمان کا ہجومی دہشت گردوں کے ہاتھوں اسی گائے کا گوشت رکھنے کے الزام میں بے رحمی کے ساتھ قتل کردیا گیا۔اس کے بعد سے یہی گائے بے جے پی کے لئے اقتدار کے منصب تک پہنچانے کی بہترین سواری بن گئی ہے۔گائے کا سیاسی استعمال کرنے والوں نے ’’گئوماتا‘‘کے اتنے نعرے لگائے کہ ان کی اپنی مائیں بونی پڑ گئیں۔ سابق چیف جسٹس کاٹجو نے راجستھان میں گائے کے ساتھ بے رحمانہ سلوک کرنے والے گئو بھکتوں کے منہ پر بھرپور طمانچہ لگانے کی کوشش کی ہے۔انہوں نے گئو بھکتوں کے ہاتھوں ایک بے گناہ انسان کےبے رحمانہ قتل پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ گئو ماتا سے محبت اور عقیدت رکھنے والے لوگ گائے کی فلاح و بہبود سے متعلق حقیقی مسائل پر توجہ دینے میں ناکام ہیں۔ انہوں نے کہاکہ گائے جب دو دھ دینا بند کردیتی ہے تو اسے سڑکوں پر چھوڑ دیا جاتا ہے ، جو سڑکوں پر بھوک و پیاس سے بے حال گھومتی رہتی ہے یا گلیوں میں گندگی کھاتی ہے ۔ کیا اس طرح کوئی اپنی ماں کو اپنے گھر سے بھگاتا ہے اور بڑھاپے میں انہیں بھوک و پیاس سے دوچار چھوڑتا ہے ؟ کیا بھوک سے گائے کی موت گئو کشی کے مترادف نہیں ہے ؟ گزشتہ دنوں راجستھان مین ایک اور مسلمان کی گئو رکھشا کر نے والے غنڈوں نے جان لی۔ بہر حال گائے کے نام پر دہشت گردی کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے ،بلکہ انسانیت کے دشمنوں ،خاص طور پر دھرم کا سیاسی استعمال کرنے والے پاکھنڈیوں نے گزشتہ چند برسوں سے پورے ہندوستان میں اسی آڑمیں دہشت گردی پھیلا رکھی ہے۔جب سے مرکز میں بی جے پی برسر اقتدار آئی ہے اور گجرات کے اندر 2002ء میں مسلم نسل کشی کیلئے ذمہ دار تصور کئے جانے والے متنازعہ فیہ رہنما نریندر مودی وزیر اعظم بنے ہیں،اسی وقت سے اکثریتی طبقہ کے اندر اقلیتوں کے خلاف پائی جانے والی نفرت کی آگ کوشعلہ بناکر بھڑکا یا جانے لگا ہے ،سب سے بڑاالمیہ یہ ہے کہ زعفران زارحکومت کے ذریعہ ہمیشہ ہندوتوا کے تشدد پسندوں کی پشت پناہی کی وجہ سے ان کے حوصلے اور زیادہ فزوں ہونے لگے ہیں۔ بالخصوص اتر پردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ کیلئے وزیراعلیٰ بننے کے بعدتو گویا ہندوتواکے انسان نمادرندوں کو دھرم اور ذات پات کی بنیادپر بے گناہوں کو قتل کردینے کی کھلی چھوٹ د ے دی گئی ہے۔ابھی الور میں ہفتہ عشرہ پہلے گئو کشی کے الزام میں ہندوبلوائیوں یا یوں کہا جائے کہ انسان نما حیوانوں نے ایک مسلمان کا جس بے دردی سے قتل کیا ہے ،اس کی مذمت کی بجائے اس جرم میںشامل اکثریتی طبقہ کے دہشت گردوں کو بی جے پی کے بڑے لیڈران معصوم قرار دے رہے ہیں۔ایسی صورت میں یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ موجودہ این ڈی اے حکومت تمام طبقات کو ساتھ لے کر آگے بڑھنے اور ملک کی ہمہ جہت ترقی کا نیک ارادہ رکھتی ہے۔شمالی ہندکی ریاست راجستھان کے الور میں گائے ذبح کرنے کے شبہ میں ایک مسلمان اور اس کی بیوی کو ہلاک کر دینے کے ملزمان میں سے 21؍مشتبہ افراد کوپولیس بظاہر حر است میں لے چکی ہے۔ قومی دارالحکومت دہلی سے تیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع اس گاؤں کی کشیدہ صورت حال کا جائزہ لینے کے بہانے انتہا پسند سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمنٹ سنگیت سوم نے وہاں پہنچ کربے گناہ مسلمان کے قاتلوں کو معصوم قرار دے دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ جو ہلاک کر دیے گئے ہیں، اْن کے بارے میں وہ کیا کہیں گے، تو سنگیت سوم نے انہیں صرف ’گائے مارنے والے‘ قرار دیا۔ مبصرین نیہندوستان میں گائے کے گوشت یا بیف پر کی جانے والی پرتشدد سیاست کو انتہائی خطرناک قرار دیا ہے۔عالمی سطح پر اس قسم کے ظالمانہ واقعات آنے والے وقت میں ہندوستان کیلئے کس قدر سنگین ہوسکتے ہیں ،اس پر ان دنوں عالمی میڈیا میں مسلسل تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ حکومت ہند کی خاموش تائیدکے درمیان بڑھتاہوا مذہبی تشدد کاراست اثر ملک کی معیشت پر پڑے گا۔اقلیتوں اور دلتوں کو نشانہ بنانے والے بلوائیوں کے خلاف حکومت ہندکی سرد مہری تو اسی جانب اشارے کررہی ہے کہ اقتدار کے غرور نے بھگوا بریگیڈ کو دیوانہ بنادیا ہے اور حکومت کسی بھی حال میںپورے ملک کو ایک ساتھ لے کر آگے چلنے کا حوصلہ نہیں رکھتی،یہی وجہ کہ ملک میں امن وامان کو بحران کا سامنا ہے ،اقلیتوں میں اور دلتوںعدم تحفظ کا خوف بڑھتا جارہا ہے اوراس جرم میں مرکزی حکومت کہیں نہ کہیں خود بھی شریک ہے۔مردہ گایوں کو باعزت طریقے سے ٹھکانے لگانے والے دلتوں کے ساتھ نام نہاد گئو بھکتوں نے وزیر اعظم کی آبائی ریاست گجرات میں کیا سلوک کیا تھا وہ منظر امن و انصاف کے خوگرہندوستانیوں کی نگاہوں میں آج بھی کچوکے لگا رہاہے۔چند روز قبل بھارتیہ جنتا پارٹی کے سیاستدانوں نے ایک ریاستی اسمبلی میں ایک مسلمان رکن کو گائے کا گوشت کھانے کے شبہ میں تھپڑوں سے مارمار کر لال کر دیا تھا۔ اسی طرح جنوبی ہند میں ایک تعلیمی ادارے میں چھ طلبا کو ادارے کی انتظامیہ نے تعلیمی سیشن سے اس لیے معطل کر دیاتھا کہ انہوں نے اپنے دوستوں کو بیف کے ساتھ پکائی گئی ترکاری کھانے میں پیش کی تھی اور اس ’گھناؤنے‘ جرم کے بعد پیدا ہونے والی افراتفری میں ایک کسان کی موت بھی ہوئی تھی۔ گائے نام پر چلائی جانے والی دہشت گردی کے اسی سلسلہ کو آگے بڑھاتے ہوئے ہریانہ و راجستھان میں چند روز قبل بھی گائے ذبح کرنے کا الزام عائد کرکے سخت گیر ہندوؤں نے کئی کاروں اور دکانوں کو جلا دیا تھا۔ اس دنگے میں پولیس کے علاوہ کئی دیہاتی بھی زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعہ کی چھان بین سے معلوم ہوا تھا کہ مسلمان ایک مری ہوئی گائے کی کھال اتار رہے تھے۔بس اسے گناہ عظیم باور کرکے پورے میوات کو آگ کے حوالے کردینے کی کوشش شروع ہوگئی۔اس وقت ترقی،فلاح و بہبودی اور امن و آشتی کے سارے منصوبوں کو درکنار کرکے بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستوں میں مذہبی تفریق اور نفرت پھیلانے مہم چلائی جارہی ہے ،مگر اس مستعدی اور خفیہ پلاننگ کے تحت اس مہم کو آگے بڑھایا جارہا ہے کہ کسی کوبھی اس کی بھنک تک نہ اور اس طرح آسانی کے2019میںبھی سواکروڑ ہندوستا نیوں کو بے وقوف بناکر اقتدار پر قبضہ جمائے رکھے۔اگر حکومت اور انتظامیہ کے دل صاف ہوں تو کسی بھی خطہ یا علاقے میں پھیلائی جانے والی بدامنی اور فسادات پر بآسانی قابو پایا جاسکتا ہے ،مگر یہاں معاملہ یہ ہے جب حکومت کو ہی اس راستے اقتدار تک پہنچنے میں کامیابی نظر آرہی ہو تو پھر اسے روکنے اور امن وامان قائم کرنے ،باہمی رواداری کی کوششیں کرنے کی زحمت کیوں اٹھائی جائے گی۔
کیا مذہبی لبادے میں چھپے بھیڑیوں کو سیاسی پناہیں دے کر ملک کے امن و مان اور ترقی کے امکانات کو براقرار رکھا جاسکتا ہے؟ جب کسی ملک میں بے چینی ،بد امنی اور عدم تحفظ کا ماحول قائم کرنے والوں کی پیٹھ ٹھوکی جانے لگے اور اہل وطن کو انصاف دلانے والی حکومت ہی ظالموں،قزاقوں اور بے گناہ انسانوں کے قاتلوں کی ہم نوا بن جائے ،ایسا ملک اپنے ترقی اور عروج کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے میں کیسے کامیاب ہوسکتاہے؟اس وقت یہ سوال اس لئے اور زیادہ حساس ہوگیا ہے کہ مصنوعی اور زبانی ترقی کی باتیں کرنے والی برسر اقتدار پارٹی قاتلوں کی حوصلہ افزائی کررہی ہے اوردھرم کے نام پر درندگی برپاکرنے والوں کو خفیہ طورپر مدد پہنچارہی ہے،اترپردیش میں بی جے پی کے اقتدار میں آتے ہی ملک میں ایسا لگتا ہے کہ گائے کی سیاست ایک بار پھراقلیتوں کے قتل عام کی راہ پر چل پڑی ہے۔ بی جے پی کے اقتدار والی ریاستوں میں ساری توجہ صرف اس بات پر مرکوز کی جا رہی ہے کہ گئو کشی روکنے کیلئے کیا کچھ کیا جاسکتا ہے۔ اس کیلئے ایسے ایسے قوانین بنائے جا رہے ہیں جیسے دہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے بنائے جاتے ہیں۔ بی
جے پی ہی کے اقتدار والی ریاست راجستھان میں الور ضلع میں ایک مسلم شخص کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا گیا۔ حالانکہ پولیس کی گراؤنڈ رپورٹ بتارہی ہے کہ وہ مظلوم مسلمان گئو کشی میں ملوث نہیں تھامگر اس رپورٹ کو وسندھراسرکار نے اپنی شرمندگی مٹانے کیلئے عام ہونے سے روک دیا۔رپورٹ کہتی ہے کہ یہ شخص سرکاری بازار سے گائے خرید کر پورے کاغذات اوردستاویزکے ساتھ اسیلیکر اپنے گھر آرہا تھاکہ اسی درمیان بھگوادرندوں نے گئو کشی کا الزام لگاکر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ راجستھان کے وزیر داخلہ اس واقعہ کو زد و کوب قرار دیتے ہیں جب کہ اس میں ایک شخص جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اس کا ویڈیو سارے ملک میں گشت کر رہا ہے اس کے باوجود مرکزی منسٹر آف اسٹیٹ اقلیتی امور مختار عباس نقوی تو ایسا کوئی واقعہ پیش آنے ہی سے انکار کردیتے ہیں۔ یہ لوگ آخر کس کو جھٹلا رہے ہیں ؟کیا حقائق کو اس طرح سے بھی جھٹلایا جاسکتا ہے ؟ یہ حوصلہ مختار عباس نقوی کے سوا کسی اور کا نہیں ہوسکتا۔اس ملک میں انسانوں کو ایسے ایسے مسئلہ درپیش ہیں جن پر توجہ کرنا حکومتوں کی ذمہ داری اور فریضہ ہے۔ یہاں لوگ دو وقت کی روٹی کیلئے ترس رہے ہیں، غربت و افلاس میں اضافہ ہو رہا ہے، کسی کو روزگار حاصل نہیں ہے تو کسی کو ادویات دستیاب نہیں ہیں۔ان تمام مثبت کاموں سے جی چراکر ملک میں نفرت عام کرنا کس قسم کے ہندوستان کو جنم دے گا یہ بات ایک بار حکومت ہند و ضرور سوچنی چاہئے۔
09505684328