سرینگر //25اکتوبرکو سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو کی تحقیقات کیلئے سکمز صورہ کی جانب سے بنائی گئی 5رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے وڈیو کو فرضی قراردیا ۔ 24اکتوبر کو ٹی 20ورلڈ کپ میں پاکستان کی جیت کے بعد 25اکتوبر کو سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو منظر عام پر آیا تھا جس میں مبینہ طور پر سکمز صورہ میں طلبہ کو جشن مناتے ہوئے دیکھا گیا تھا ۔ پولیس نے جشن منانے کے معاملے میں صورہ تھانے میں ایک ایف آئی آر درج کی جبکہ سکمز صورہ کے ڈائریکٹر نے معاملے کی تحقیقات کیلئے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ الزامات کی تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ 25اکتوبر کو سوشل میڈیا پرسامنے آنے والی ویڈیو میں جو ہال دکھایاگیا ہے وہ سکمز کا ہوسٹل نہیں اور نہ ہی ویڈیو میں جشن مناتے ہوئے کسی شخص کی شکل صورہ میں زیر تعلیم طلبہ سے ملتی ہے۔ تحقیقاتی کمیٹی میں شامل ایک ممبر نے بتایا’’ طلبہ کے ہوسٹل کا سینٹرل ہال ویڈیو میں دکھایا گیا ہے ، جو موجود ہال کے ساتھ کوئی بھی میل نہیں کھاتا بلکہ دور سے بھی یہ سکمزکا ہوسٹل نہیں دکھائی دیتا ۔ مذکورہ ممبر نے بتایا ’’ ویڈیو میں دکھایا گیا ہال، سکمز کے سینٹرل ہال سے قدرے مختلف ہے اوران میں کوئی مما ثلت نہیں ہے۔ کمیٹی ممبر نے بتایا کہ ویڈیو کا جائزہ لینے کے بعدکمیٹی ممبران نے پایاکہ ویڈیو میں سینٹرل ہال میں ایک پلر( pillar) دکھائی دیتا ہے جبکہ سکمز کے سینٹرل ہال میں کوئی کھمبا موجود نہیں ہے۔ اسی طرح سکمز ہال کا رنگ اور ویڈیو میں دکھائے گئے ہال کی دیواروں کا رنگ بھی مختلف ہے۔ تمام صورتحال کا جائزہ لینے کے بعدتحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میںلکھا ہے کہ ویڈیو کا جائزہ لینے کے بعد کمیٹی اس بات پر متقق ہے کہ سکمز صورہ میں کسی بھی قسم کا جشن نہیں منایا گیااور سوشل میڈیا پر دستیاب ویڈیو فرضی ہے۔ سکمز صورہ کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر فاروق احمد جان نے رپورٹ کی تصدیق کرتے ہوئے کشمیرعظمیٰ کو بتایا ’’ تمام صورتحال کا جائیزہ لینے کے بعد کمیٹی نے ویڈیو کو فرضی قرار دیا ہے اور سکمز صورہ میں اس روز کوئی بھی جشن نہیں منایا گیا ‘‘۔