کینیڈا// کینیڈا کے صوبے کیوبیک میں متنازع قانون کے ذریعے سرکاری ملازمین کے لیے کام کے دوران مذہبی علامات سمجھی جانے والی اشیا پہننے پر پابندی کا منصوبہ تیار کر لیا گیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس متنازع اقدام کے ذریعے مسلم خواتین نشانہ بنیں گی جو حجاب یا دیگر طریقوں سے سر ڈھانپتی ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق مجوزہ قانون کے منظور ہونے کے بعد صوبے کی دائیں بازو کی حکمراں جماعت کولیشن اَوینیر کیوبیک (سی اے کیو) اور ملک کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کے درمیان تناؤ پیدا ہونے کا خدشہ ہے، جو ملک میں مذہبی آزادی کو فروغ دیتے ہیں۔ ہالیفیکس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جسٹن ٹروڈو نے بتایا کہ 'میں یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ آزاد معاشرے میں ہم شہریوں سے ان کے مذہب کی بنیاد پر امتیاز کو قانونی حیثیت دیں گے۔' مجوزہ قانون کے ذریعے اساتذہ، ججز اور پولیس افسران سمیت ایسے عہدوں پر فائز سرکاری ملازمین اثر انداز ہوں گے جو فیصلوں کا اختیار رکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ کیوبیک کی حکومتیں کئی سال سے سول ملازمین پر مذہبی علامت سمجھے جانے والے چیزیں پہننے پر پابندی عائد کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔