عظمیٰ نیوز سروس
کیرالہ // ایسے وقت میں جب ملک کی جمہوری اقدار اور سیکولرازم کو شدید چیلنج درپیش ہے، نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ تمام مذاہب اور انسانوں کا یکساں احترام کرنے کے حوالے سے کیرالہ کا طرزِ عمل پورے ہندوستان کے لئے ایک مثالی نمونہ ہے۔کیرالہ میں ریاستی منصوبہ بندی بورڈ کے زیر اہتمام منعقدہ ویژن 2031 بین الاقوامی کانفرنس سے خطابکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں آج جو جمہوریت نظر آ رہی ہے، یہ وہ جمہوریت نہیں جس کیلئے ہندوستانی عوام نے جدوجہد کی تھی۔ کیرالہ میں مذہبی ہم آہنگی کے ماحول کی تعریف کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق نے ریاست کی حکمرانی اور ترقیاتی کامیابیوں کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ یہ طرزِ حکمرانی ہر مذہب اور ہر فرد کا احترام کرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ کیرالہ نہ صرف اپنی ریاست بلکہ پورے ملک کے لئے باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیرالہ میں انتہائی غربت کا خاتمہ ایک بڑی اور قابلِ ذکر کامیابی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان اس وقت ایک بڑے بحران سے گزر رہا ہے جہاں سچ بولنا سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔فاروق عبداللہ نے اپنے خطاب میں ہند امریکہ تجارتی معاہدے پر معاشی خدشات خصوصاً جموں و کشمیر کی کے باغبانی سیکٹر پر پڑنے والے اثرات پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ سیب، اخروٹ اور بادام کے کاشتکار بری طرح متاثر ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں مرکزی حکومت کی جانب سے تاحال واضح پالیسی سامنے نہیں آئی۔ انہوں نے ریاستی درجہ کی بحالی اور حقیقی وفاقی توازن کے اپنے دیرینہ مطالبے کو دہرایا اور اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کا آئینی ڈھانچہ مرکز اور ریاستوں کے درمیان اختیارات کی منصفانہ تقسیم کا تقاضا کرتا ہے۔ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کو تشدد کے خاتمے کا حل قرار دیا گیا تھا، مگر تشدد مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ انہوں نے پلوامہ، پہلگام اور ادھم پور جیسے ماضی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ کیا دیرپا امن کا وعدہ پورا ہو سکا ہے۔ انہوں نے ملک بھر کے شہریوں پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر میں امن، وقار اور جمہوری اعتماد کی بحالی کے لئے کی جانے والی کوششوں کی حمایت کریں اور مشترکہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔