پوری دُنیا کا لگ بھگ ہر ایک ملک اس وقت کرونا وائرس نامی وبائی بیماری پر قابو پانے کی دوڑ میں لگا ہوا ہے ۔لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ ساتھ ہزاروں کی تعداد میں اس وبائی میں مبتلا ہو رہے ہیں وہیں درجنوں اموات بھی ہر روز ہو تی جا رہی ہیں ۔ایک طرف جہاں پوری دنیا کسی طریقے سے اس وائرس سے چھٹکارا پانے کی کوشش کر رہی ہے وہیں دوسری طرف اس وائرس سے متعلق’’ سازشی تھیوریز ‘کے پھیلائو میںبھی ہر گرزتے دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور ان پر سینکڑوں مضامین بھی لکھے جا چکے ہیں اور لکھے جا رہے ہیں ۔ طاقتور ممالک بھی اس وائرس کے پھیلنے میں ایک دوسرے پر الزامات کی بارش کر رہے ہیں ۔ امریکہ نے کبھی اسے چین کی ساز ش قرار دے کر اسے ووہان وائرس قرار دیا وہیں چین کی جانب سے یہ الزامات لگائے جا رہے ہیں کہ یہ وائرس امریکی فوج کی جانب سے ووہان شہر لایا گیا ۔کچھ مضامین تو اس بات کی طرف بھی اشارہ دے رہے ہیں کہ یہ اسرائیل اور امریکہ کی چین کے خلاف سازش ہے تاکہ وہ دنیا کا اگلا سُپرپاور نہ بن سکے
سازشی تھیوریوںکے دلدادہ لوگ کہانیاں گھڑنے میں محو ہیں لیکن اس بات کو دنیا کی یہ بڑی نام نہاد طاقتیںمانتی ہیں کہ قانون قدرت بھی کوئی چیز ہے۔اس کائنات کا چلانے والا اللہ ہے جس نے ہمیں دنیا عطا کی اور یہ بھی بتایا کہ اس دنیا میں کیسے رہنا ہے لیکن ان بڑی طاقتوںنے قانون فطرت سے کھلواڑ کرکے دنیا پر اپنادبدبہ قائم کرنے کیلئے جہاں تک ہو سکا اس زمین پرموجود وسائل کے مانو پرخچے اُڑادئے اور اب یہ سیارہ رہنے کے قابل ہی نہیں رہا۔جب کوئی انجینئر کوئی چیز (مثال کے طورپر موبائل فون ہی لے لیں) بنا لیتا ہے تواس کے ساتھ ای مینیو بھی ضرور ہوتا ہے کہ اسے استعمال کیسے کیا جائے اور اگر اس فون کو ویسے استعمال نہیں کیا جائے گا تو نتیجے کے طور پر یہ کام کرنا ہی بند کر دے گا اور آپ کو پھر اسے کسی انجینئر کے پاس لے جانا ہو گا جو اسے ٹھیک کے آپ کو دیدے۔آج یہی حال اس دنیا کا بھی ہے۔جس خالق نے اسے بنایا اور اولاد آدم کے لئے باضابطہ ایک طریقہ کاربھی وضع کرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے کھانے پینے،رہن سہن ،حلال حرام ، جائز ناجائز اور پاک ناپاک کی حدیں بھی مقر ر کر کے کھیں ،جو کہ انسان کیلئے سزا نہیں بلکہ ایک نجات کا سامان تھا ۔لیکن انسان ان تمام حدود کو روندتے اور پھلانگتے ہوئے اپنے مزے اور خواہش کے مطابق اس عطا کردہ سیارے میں زندگی گزارنے لگا اور دوسروں کو بھی یہی مشورہ دیا۔ آہستہ آہستہ کائنات کی اس گاڑی میں خرابی آنے لگی۔انسان اپنی خواہشات کی تکمیل میں تو مست رہا لیکن اس گاڑی کو بنانے والے نے اسے اوورہالنگ کرنے کا سوچا اور وہی ہوا۔ اس وقت یہ سیارہ اوور ہالنگ کے عمل سے گزر رہا ہے ۔
اس میں شک نہیں کہ دنیا کا سب سے بڑا آبادی والا چین ترقی میں آگے ہے لیکن یہی ملک دنیا میں بدترین آلودہ ممالک میں بھی شمار کیا جا تا ہے ۔امریکی خلائی ایجنسی ناساکی جانب سے رواں سال مارچ میں چین کی سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر جاری کی گئی جس میں یہ سامنے آیا کہ چین میں فضائی آلودگی میں واضح کمی واقع ہوئی ہے ۔یہ کمی چین میں معاشی سرگرمیوں پر بریک لگنے کے بعد سامنے آئی ہے ۔دراصل انسانی تجربات کے باعث قدرتی ماحول میں آنے والی تبدیلیوں کو گوبل وارمنگ کہا جاتا ہے۔گلوبل وارمنگ کی وجوہات میں سے ایک وجہ گریس ہاوس گیسز ہیں ۔سورج کی تپش کو روکنے کیلئے کرہ ارض پر قائم حفاظتی نظام غلاف جسے ہم اوزون لیئر کہتے ہیں، اسمیں سوراخ ہو گیا ہے جس کے باعث سورج کی مضر شعائیں زمین کی سطح تک پہنچ کر درجہ حرارت میں اضافے اور ماحولیاتی آلودگی کا سبب بن رہی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اب درجہ حرارت بڑھ جانے سے زمین کے قدرتی نظام میں خلل پڑ گیا ہے ۔ پہاڑوں سے برف تیزی سے برف پگھل رہی ہے ۔ سیلاب عام ہوتے جا رہے ہیں ، بے وقت بارشیں ہو رہی ہیں ۔جنگلات جو کہ کاربن ڈائی آکسائڈ کوجذب کرنے میں انتہائی اہم کرداراداکرتے ہیں ہے مگر دنیا میں ہر گزرتے دن تعمیرو ترقی کیلئے استعمال کئے جانے والے جنگلات کی کٹائی کے باعث اس گیس میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
’گلوبل کاربن پروجیکٹ2018 ‘کی جانب سے شائع ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کے پانچ ممالک جن میں سب سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائڈ کا اخراج ہوتا ہے ان میں چین ،امریکہ ، انڈیا ،روس اور جاپان ہیں ۔ اس رپورٹ کے مطابق چین میں صرف2017 میں 9.8میٹرک ٹن اس گیس کا اخراج ہوا ،جو کہ دنیا میں27فیصدی بنتا ہے ۔چین 70 فیصد توانائی کوئلے سے ہی حاصل کرتاہے ۔یہی وجہ ہے کہ اسٹینفرڈ یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر مارشل برک کے مطابق اگر صحت کے فوائد کے حوالے سے دیکھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ چین میں فضائی آلودگی میں کمی کے باعث پچھلے دو مہینوں(جنوری اور فروری) میں پانچ سال سے کم عمر کے چار ہزار بچوں اور ستر سال سے زائد عمر کے73ہزار جانیں بچی ہیں جبکہ چین میں کرونا سے صرف چار ہزار سے زائد افراد ہی ہلاک ہوئے ہیں ۔اسی طرح سے امریکہ جو کہ اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے، وہاںپر 5.3 بلین میٹرک ٹن کاربن ڈائی آکسائڈ کا اخراج ہوا ۔تیسرے نمبر پر بھارت ہے جس میں 2017 میں 2.5بلین میٹرک ٹن کاربن کا اخراج ہوا۔دلی میں لاک ڈائو ن شروع ہونے سے قبل فضائی کوالٹی214 تک پہنچ گئی تھی لیکن لاک ڈائون کے دوران یہ کم ہو کر 65 پر آگئی۔ اسکے علاوہ دیگر شہروں میں بھی ائر کوالیٹی میں بہتری دیکھی گئی۔چوتھے نمبر پر اس گیس کا اخراج2017میں روس نے مجموعی طور پوری دنیا کا4.6فیصدی کیا جبکہ پانچویں نمبر پر جاپان نے تین فیصدی کیا۔پاکستان کے بڑے شہروں میں بھی پچاس سے ستر فیصد تک ہوائی آلودگی میں کمی دیکھی گئی ۔اٹلی کی وینس ندیاں کا پانی بھی لاک ڈائو ن کے دوران بالکل صاف دیکھائی دیا جانے لگا ۔
اب اگر فضائی آلودگی سے ہونے والی اموات پر نظر ڈلایں تواقوام متحدہ ہر چند سال بعد ’گلوبل انوائرمنٹ آوٹ لک‘کے عنوان سے رپورٹ جاری کرتی ہے ۔2019 میں اس رپورٹ کو شائع کرنے والے انوائرمینٹل سائنس دانوں ،جوئیتا گپتا اور پال ایکنز نے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا دنیا میں ہر سال ستر لاکھ افراد فضائی آلودگی سے موت کا شکار ہوتے ہیں ۔اسی طرح سے ’گلوبل ایلائنس برائے صحت وآلودگی ‘ کے مطابق بھار ت میں سب سے زیادہ اموات آلودگی سے ہی ہوتی ہیں ۔ گلوبل الائنس کی تحقیق کے مطابق بھارت میں آلودگی سے ہر سال23 لاکھ قبل از وقت اموات ہوتی ہیں جن میں سے فضائی آلودگی سے 12.4لاکھ اموات ہوتی ہیں۔رپورٹ کے مطابق ایچ آئی وی ایڈز سے تین گنا زیادہ اموات آلودگی سے ہی ہوتی ہیں ۔جبکہ جنگ یا تشدد سے15 گنا زیادہ اموات کا ذمہ دار بھی آلودگی ہی ہے ۔ اسی طرح سے بھارت کے بعد چین میں آلودگی سے ساڑھے18لاکھ اموات آلودگی سے ہر سال ہوتی ہیں ۔ جبکہ پاکستان ،بنگلہ دیش اور انڈونیشا کے تین ممالک میں2,2لاکھ اموات ہر سال ہوتی ہیں ۔ وہیں دنیا کے طاقتور ملک امریکہ نے ایک لاکھ97ہزار اموات آلودگی سے2017 میں ہوئی ۔ مجموعی طور پر2017میں83 لاکھ افراد آلودگی سے ہلاک ہوئے۔
کشمیر کی ہی اگربات کریں تو2015 میں ’ڈائریکٹوریٹ برائے ماحولیا ت ‘کی جانب سے ایک تحقیق کے مطابق سرینگر اوراس کے محلقہ علاقوں میں50 فیصد آبی ذخائر ختم کئے گئے ہیں ۔اسی طرح سے جھیل ڈل کا36فیصدی حصہ بھی ختم کر لیا گیا ہے ۔وہیں کشمیر میں2015سے2018کے درمیان78 ہزار کنا ل کی زرعی زمین نئی تعمیرات کے نیچے دفن کر دی گئی ہے ۔
اشرف المخلوقات کے انہی کرتوت نے اس سیارے کو اب رہنے کے قابل بھی نہیں رکھا تھا ۔ لیکن اللہ تعالی کی جانب سے اب اسکی’ اوور ہالنگ‘ کی جا رہی ہے ۔آسمان جو دھندلا دکھائی دے رہا تھا، اب اب اپنے نیلے رنگ میں دکھ رہا ہے۔ الغرض جو طریقہ زندگی جینے کا بڑی طاقتوں نے اس دنیا کو چلانے کیلئے پیش کیا، وہ ناکام ہو کر رہ گیا ہے۔اس طریقے سے تو یہ سیارہ اب رہنے کے قابل ہی نہیں رہا ہے ۔انسان تو خود ایک بڑا وائرس جانوروںکے لئے بن گیا ہے لیکن اب کچھ ماہ سے وہ بھی بڑے سکون سے تیر رہے ہوں گے اور چل پھر رہے ہوں گے۔اس وائرس کے بعد اب اشرف المخلوقات کو زندگی جینے کا طریقہ بدلنا ہو گااور اس سیارے کو بنانے والے کا مینو ہی استعمال کرنا ہوگا ۔