بارہمولہ //اینٹی کرپشن بیورو نے سابق ایگزیکٹو انجینئر آر اینڈ بی ڈویژن کپوارہ اور پانچ دیگر افراد کے خلاف 2011 میں غیر معمولی نرخوں پر لوہے کی پائپوں اور دیگر سامان کی خریداری کے خلاف چارج شیٹ پیش کی ہے۔ اے سی بی کے مطابق محمد شفیع بٹ، جو کہ اس وقت کے ایگزیکٹو انجینئر آر اینڈ بی ڈویژن کپوارہ تھے، کے علاوہ ملزم عبد الغنی بٹ، اس وقت کے ہیڈ ڈرافٹسمین ،غلام رسول ڈار اس وقت کے اسٹور کیپر، محمد شفیع قاضی اس وقت کے اے اے او ، لطیف احمد گنائی پروپریٹر لٹیف اینڈ کمپنی اور سجاد احمد راتھر پروپریٹر ایس آئی ٹریڈرز)۔ ایف آئی آر نمبر 13/2011 میں وجیلنس آرگنائزیشن اب اینٹی کرپشن بیوروکے ذریعہ کی گئی تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ ملزم ایگزیکٹو انجینئر آر اینڈ بی ڈویژن کپوارہ اور ایسوسی ایٹ ملزم عہدیداروں نے انتہائی حد سے زیادہ نرخوں پر لوہے کی پائپیں اور دیگر سامان خریدے اور اس سے چار لاکھ 61 ہزار روپے نقصان ہوا ہے ۔ اور مزید 69630 روپے کا جی آئی پائپس کی خریداری میں خزنہ عامرہ کو نقصان پہنچا یا ۔ اے سی بی نے اس بات کا دعوی کیا ہے کہ تفتیش میں یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ ملزموں نے جرم کیا ہے۔ اے سی بی نے اپنے بیان میں مزید بتایا کہ حکومت نے سرکاری ملازمین کے خلاف 26 جولائی 2019 کو قانونی چارہ جوئی کی منظوری دی تھی۔