کپوارہ//کپوارہ ضلع میں ڈاکٹروں کی کمی کی وجہ سے عام لوگوں کی مشکلات کو دور کرنے کیلئے حکومت نے اگرچہ 62ڈاکٹروں کو ضلع میں تعینات کرنے کاحکم جاری کیا لیکن ان میں صرف25ڈاکٹروں نے اپنی ڈیوٹی جوائن کی جبکہ 37ڈاکٹرو ں نے ضلع میں فرائض انجام دینے سے صاف انکار کیا۔ضلع میں ایک ضلع اسپتال ،7سب ضلع اسپتال اور 31پرائمری ہیلتھ سنٹرو ں کے علاوہ درجنو ں سب سینٹرموجود ہیں لیکن اس کے با جود بھی مریضوں کا تسلی بخش علاج و معالجہ ایک مسئلہ بنا ہوا ہے ۔سب ضلع اسپتال کپوارہ کے 3نام ہیں ۔سائن بورڈ اگرچہ ضلع اسپتال کپوارہ کے نام سے آ ویزاں ہے لیکن کا غذوں میں ابھی بھی سب ضلع اسپتال کا نام درج ہے جبکہ ضلع اسپتال میں سپر انٹنڈنٹ کے علاوہ طبی اور نیم طبی عملہ بھاری تعدادمیںتعینات ہونا چاہیے لیکن مذکورہ اسپتال میں ایسا نہیں ہے جبکہ کسی ایک عمارت پر کیمونٹی ہیلتھ سینٹر لکھا ہوا ہے ۔لوگ ایک ہی اسپتال کے 3نام جان کر حیران ہوتے ہیں اور سرکار سے جو اب طلب کرتے ہیں ،آخر سب ضلع اسپتال کپوارہ اصل میںکیا ہے؟ ۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر چہ مذکورہ اسپتال کی نئی عمارت پر ضلع اسپتال کا سائن بور ڈ آ ویزاں ہے، تو پھر اس اسپتال میں وہ سہولیات کیوں میسرنہیں ہیں جو ایک ضلع اسپتال میں ہونی چایئے ۔عوامی حلقوں کا مزید کہنا ہے کہ کپوارہ میں قائم سب ضلع اسپتال سے پورے ضلع کی اُمیدیں وابستہ ہیں کہ انہیں اس اسپتال میں بہتر علاج و معالجہ میسر ہو گا اور یہا ں سے مریضوں کو سرینگر جانے کی نو بت نہیں آئے گی لیکن سب ضلع اسپتال کپوارہ ضلع اسپتال کا درجہ نہ پا سکا ۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ سب ضلع اسپتال میں پورے ضلع کے مریض آتے ہیں اور ایک دن او پی ڈی میں قریب4سو مریض اپنا علاج و معالجہ کراتے ہیں ۔پورے ضلع میں ابھی بھی درد زہ میں مبتلا خواتین کو یہا ں سے سرینگر کے لل دید اسپتال منتقل کیا جاتا ہے کیونکہ ضلع میں کسی بھی اسپتال میں حاملہ خواتین کو بہتر طبی علاج و معالجہ فراہم نہیں کیا جاتا ہے اور آج تک درجنو ں درد ذہ میں مبتلا خواتین لل دید اسپتال پہنچنے سے قبل راستے میں ہی دم تو ڑ بیٹھی ۔ضلع میں 7سب ضلع اسپتال ہیں،جن میں کرالہ گنڈ ،لنگیٹ ،زچلڈار ،سوگام ،کپوارہ ،کرالہ پورہ اور ٹنگڈار شامل ہیں لیکن کسی بھی اسپتال میں مریضوں کو بہتر طبی سہولیات میسر نہیں ہے جبکہ ان اسپتالوں میں طبی اور نیم طبی عملہ کی شدید قلت پائی جاتی ہے ۔ضلع کے اسپتالو ں میں ڈاکٹرو ں کی کمی کے حوالہ سے چیف میڈیکل آفیسر کپوارہ ڈاکٹر کو ثر امین نے محکمہ کے اعلیٰ حکام کو تحریری طور آگاہ کیا کہ ضلع میں 70ڈاکٹرو ں کی فوری طور ضرورت ہے جس کے بعد محکمہ صحت نے 31دسمبر کو ایک حکم نامہ زیر نمبر 938/JK(HME)2020کے تحت 62ڈاکٹرو ں کو کپوارہ میں تعینات کیا لیکن ان میں محض 25ڈاکٹرو ں نے کپوارہ کے اسپتالو ں میں جوائن کیا جبکہ37ڈاکٹرو ں نے کپوارہ آنے سے صاف انکار کیا جو ایک المیہ ہے ۔ضلع کے لوگو ں کا کہنا ہے کہ سر کار کو ان ڈاکٹرو ں کے خلاف سخت کاروائی کرنے چایئے جنہو ں نے کپوارہ آنے سے انکار کیا یا پھر ضلع کے ان ڈاکٹرو ں کو کپوارہ واپس لایا جائے جو وادی کے مختلف اسپتالو ںمیں اس وقت تعینات ہیں کیونکہ کپوارہ میں اس وقت ٖڈاکٹرو ں کی سخت قلت پائی جاتی ہے اور ضلع بھر میں قائم اسپتالو ں میں ڈاکٹرو ں کی کمی کو پورا کیا جائے ۔اس دوران ضلع کے دور دراز علاقوں میں قائم سرکاری اسپتالو ں میں ڈاکٹرو ں کی متعدد اسامیا ں خالی پڑی ہیں اور اس وقت ان اسپتالو ں کو نیم طبی عملہ کے رحم و کرم پر چھو ڑ دیا گیا ہے یا کئی اسپتالو ں کو آیور ویدک ڈاکٹرو ں کے حوالہ کیا گیا اور وہ بھی مریضوں کو آیور ویدک علاج کے بدلے انگریزی دوائی لینے کی صلح دیتے ہیںحالانکہ آیور ویدک ڈاکٹرو ں کو انگریزی دوائی دینے کی قطعی اجازت نہیں ہے ۔عوامی حلقوں نے لیفٹنٹ گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کپوارہ ضلع خاص طور سب ضلع اسپتال کپوارہ کی طرف اپنی توجہ مرکوز کریں اور سب ضلع اسپتال کپوارہ کا ضلع اسپتال کا درجہ بحال کریں ۔