محکمہ تعمیرات عامہ اور ٹھیکیدار کے درمیان تال میل کی کمی، طلبا شدید مشکلات کا شکار
محمد بشارت
کوٹرنکہ//سماگرا شکشا جیسے اہم تعلیمی منصوبے کے تحت زون خواص کے ماڈل اسکول بھیلہ میں 3 اے سی آر اسکولی عمارت کی تعمیر ستمبر 2024 میں بڑے دعوؤں اور امیدوں کے ساتھ شروع کی گئی تھی، مگر یہ منصوبہ آج تک پائیہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکا۔ دسمبر 2024 میں سلیب بچھائے جانے کے بعد تعمیراتی کام مکمل طور پر رک گیا اور اب یہ عمارت ادھوری، خاموش اور ویران پڑی ہے، جو بچوں کے غیر محفوظ مستقبل کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔ذرائع کے مطابق متعلقہ ٹھیکیدار نے تاحال عمارت کے پلستر کا کام بھی شروع نہیں کیا، جس کے باعث اسکول کی عمارت قابلِ استعمال نہیں بن سکی۔ اس لاپرواہی کا براہِ راست اثر معصوم طلباء پر پڑ رہا ہے جو شدید سردی، بارش اور نامساعد موسمی حالات میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ کہیں کھلی چھتوں کے نیچے کلاسز لگ رہی ہیں تو کہیں تنگ اور ناکافی کمروں میں بچوں کو بٹھایا جا رہا ہے، جبکہ بعض اوقات طلبہ کو باری باری کلاسز میں شامل ہونا پڑتا ہے۔والدین نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی صحت اور تعلیم دونوں داؤ پر لگ چکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہی حالات برقرار رہے تو طلباء کی تعلیمی کارکردگی شدید متاثر ہوگی اور ان کا مستقبل غیر یقینی بن جائے گا۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ محکمہ تعمیرات عامہ کی خاموشی اور ٹھیکیدار کی بے حسی نے اس سنگین مسئلے کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔علاقے کے عوام، تعلیمی حلقوں اور باشعور شہریوں نے اے ڈی سی کوٹرنکہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں فوری مداخلت کریں، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائیں اور تعمیراتی کام کو جنگی بنیادوں پر مکمل کروائیں، تاکہ بچوں کو ایک محفوظ، بہتر اور باعزت تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔دوسری جانب جونئر انجینئر نے موقف اختیار کرتے ہوئے بتایا کہ شدید سرد موسم کی وجہ سے پلستر کا کام شروع نہیں کیا جا سکا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ موسم میں بہتری آتے ہی اسکول کی عمارت کا پلستر شروع کیا جائے گا اور کام مکمل ہونے کے بعد عمارت اساتذہ کے حوالے کر دی جائے گی۔ تاہم عوام کا کہنا ہے کہ مزید تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، کیونکہ یہ معاملہ محض ایک عمارت کا نہیں بلکہ ایک پوری نسل کے مستقبل کا ہے۔