محمد بشارت
کوٹرنکہ // راجوری ضلع کے کوٹرنکہ اور بدھل کے گردونواح میں منشیات کے بڑھتے ہوئے کاروبار نے مقامی آبادی، خصوصاً نوجوان نسل کے مستقبل پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مقامی ذرائع اور سماجی حلقوں کے مطابق علاقے میں نشیلی اشیاء کی خرید و فروخت کھلے عام جاری ہے جبکہ متعلقہ انتظامیہ مبینہ طور پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران منشیات کا استعمال خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے اور روز بروز اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نوجوان بڑی تعداد میں نشے کی لت میں مبتلا ہو رہے ہیں، جس سے نہ صرف ان کی اپنی زندگیاں متاثر ہو رہی ہیں بلکہ پورا معاشرہ اس کے منفی اثرات کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔
علاقہ مکینوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران تقریباً چھ نوجوان منشیات کے استعمال کے باعث اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ ان میں سے کئی اپنے خاندانوں کے واحد کفیل تھے، جن کی موت کے بعد ان کے والدین شدید مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔ بعض والدین غم اور صدمے کے باعث ذہنی اور جسمانی طور پر بھی متاثر ہوئے ہیں۔ذرائع کے مطابق کوٹرنکہ اور بدھل کے علاقوں میں خاص طور پر ’چیٹا‘ اور نشیلے انجکشن کا استعمال عام ہوتا جا رہا ہے، جبکہ ان اشیاء کی فروخت پر کوئی موثر روک ٹوک نظر نہیں آ رہی۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کو اس صورتحال کی مکمل جانکاری ہونے کے باوجود ٹھوس اقدامات نہیں کیے جا رہے، جو انتہائی تشویشناک امر ہے۔سماج کے ذمہ دار افراد نے انتظامیہ کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر فوری اور سخت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں علاقے کی 90 فیصد نوجوان نسل اس لعنت کی نذر ہو سکتی ہے، جو ایک بڑے سماجی بحران کا سبب بنے گی۔مقامی عوام نے لیفٹیننٹ گورنر اور ضلع انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ کوٹرنکہ، بدھل اور ملحقہ علاقوں میں منشیات کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا جائے، منشیات فروشوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور نوجوانوں کو اس مہلک لت سے بچانے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔