عالمی سطح پراب تک تقریباً32لاکھ افراد کو متاثر کرنے والا کورونا وائرس انسان کی بنائی ہوئی وبا ہے یاپھر یہ قدرت کا قہر ،اس پر بحث جاری ہے تاہم اس وبا نے جس طرح سے امریکہ اور یورپ کی ترقی کے نازونخروں کو خاک میں ملایاہے،یہ نہ صرف زمین سے لیکر خلا تک ہر چیز پر قدرت رکھنے کے دعوے کرنے والی بڑی بڑی طاقتوں کیلئے سبق آموز ہے بلکہ اس بات کا مظہر بھی کہ ذات یکتا جب اپنی طاقت دکھاتی ہے تواس کے سامنے نہ ہی ٹیکنالوجی کام آتی ہے اورنہ ہی سائنسی ترقی۔
چین کے شہر ووہان سے پھیلے اس وائرس کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کبھی چینی وائرس تو کبھی ووہان وائرس کانام دیا اور چین پر اس وبا کو دنیا بھر میں پھیلانے کا الزام عائد کیا۔کئی امریکی عہدیداروں نے اسے چین کی طرف سے تخلیق کردہ وائرس بھی قرار دیااور یہ استدلال پیش کیاکہ اسے ووہان کی ایک لیبارٹری میں تیار کیاگیا جس کے جواب میں چین نے امریکہ کو ہی اس کیلئے مورد الزام ٹھہرایا اور دعویٰ کیاکہ چند ماہ قبل چین کے شہر ووہان میں ہونے والی فوجی مشقوں میں امریکی فوج نے ہی اس وائرس کو پھیلایا اور امریکہ اس فوجی کے ٹیسٹ کے نتائج ظاہر کرے جو اس سے متاثر ہوا۔ابھی تک دنیا کے طبی ماہرین اس نتیجہ پرنہیں پہنچ سکے ہیں کہ یہ وائرس کہاں سے آیا اور اس کے پھیلنے کے اسباب کیاتھے تاہم اس پر تحقیق کے ساتھ ساتھ قیاس آرائیوں کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔یہ تو آنے والے وقت میں ہی پتہ چل سکے گاکہ وائرس قدرتی تھا یا پھر انسان کا تخلیق کردہ لیکن فی الوقت بڑے بڑے ممالک اس کی زد میں آچکے ہیں اورانسانی ترقی اس وبا کے سامنے بے بس و مجبور دکھائی دیتی ہے۔ابھی تک اس کے علاج کیلئے نہ ہی کوئی ویکسین تیار کی جاسکی ہے اور نہ ہی مستقبل قریب میں اس کی کوئی امید نظر آرہی ہے کیونکہ جس بھی ملک میں اس سلسلے میں تحقیق ہورہی ہے وہاں اس سے قبل پھیلنے والے وبائی امراض کے سدباب کیلئے پہلے سے تیار کی گئی دوائیوں کوہی آزمایاجارہاہے۔امریکہ اور یورپ بھی تمام تر ٹیکنالوجی اور سائنسی ترقی کے باوجود اس کے علاج میں بری طرح سے ناکام ہوچکے ہیں اور سماجی دوری و لاک ڈائون واحد ایسے طریقہ کار ہیں جنہیں اس کے پھیلائوکو روکنے کیلئے استعمال کیاجارہاہے۔
جب یہ وائرس چین سے نکل کر کچھ ایک ممالک تک ہی پھیلاتھاتو امریکی اور یورپی عہدیداروں کی طرف سے روزانہ اس بات کے دعوے کئے جارہے تھے کہ وہ اس سے نمٹنے کیلئے پوری طرح سے تیار ہیں اور چین نے وقت پر اس پر قابو نہیں پایا۔وہ چین کو وائرس سے نمٹنے میں ناکام قرار دے کر خود کو تیار سمجھتے تھے لیکن بالآخر ایک ایک کرکے اٹلی، سپین، جرمنی، فرانس، امریکہ،برطانیہ اور اب روس جیسے بڑے بڑے اورترقی یافتہ ممالک اس کی زد میں آتے گئے اور تباہی کی ایک سے بڑھ کر ایک داستان رقم ہوتی گئی۔مذکورہ بالاممالک کے پاس جنگی ہتھیاروں سے لیکر ہر بیماری کا علاج تھا اور اپنی اس ترقی پر نہ صرف یہ ممالک خود نازاں تھے بلکہ دنیا کے کئی دیگر ممالک کا انحصار بھی انہی پر تھا۔بہر کیف جس قدر یہ ترقی یافتہ ممالک کورونا وائرس کا شکار ہوئے ہیں اسی قدر ترقی پذیر ممالک اس سے بچے ہوئے ہیں،اسے اتفاق سمجھاجائے یاپھر قدرت کے سامنے خود کو سب کچھ سمجھنے والوں کا احتساب لیکن ایک بات طے ہوگئی ہے کہ انسان جتنی بھی ترقی کرلے وہ خدائی قہر سے نہیں بچ سکتا۔دراصل ان ممالک نے پچھلی کچھ صدیوں سے پوری دنیا کو اپنا یرغمال بناکررکھااورٹیکنالوجی اور سائنسی پیشرفت کی آڑمیں دنیا پر اپنی تہذیب اور ثقافت کو مسلط کرنے کی کوشش کی۔خاص طور پر سوویت یونین کے بکھر جانے کے بعد یورپ اور امریکہ نے ہروہ کام کیا جو وہ چاہتے تھے۔انہوں نے صرف دنیاکی کئی حکومتوں کا تختہ الٹ کر اپنی من مرضی کی حکومتوں کا قیام عمل میں لایا بلکہ کئی ممالک میں انارکی پھیلائی اور اپنے مقاصد کیلئے دوسروں کے استحصال کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس سب کے پیچھے ان کی دنیاوی ترقی کارفرمارہی اوران کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ کوئی ایسی بھی وباپھیلے گی جوان کی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔
اگر ابھی تک کے حالات کا مطالعہ کیاجائے تو بقیہ دنیا کے مقابلے میں امریکہ اور یورپ اس وائرس سے بری طرح سے متاثر ہوئے ہیں۔جہاں ان ممالک میں اقتصادی سرگرمیاں پوری طرح سے ٹھپ ہیں اور دنیا بھر میں خام تیل کا کاروبار کرنے والے امریکہ کو تاریخ میں پہلی مرتبہ تیل کی قیمتیں صفر درجہ پر دیکھناپڑرہی ہیں وہیں مردوں کو دفنانے کیلئے قبرستان تنگ پڑ چکے ہیں اور کئی شہروں میں اجتماعی قبریں کھودی جارہی ہیں۔پورے یورپ اور امریکہ میں نظام زندگی مفلوج بن کر رہ گئی ہے اور ان ممالک کے رہنما ہی خود کورونا وائرس کو دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے بڑا چیلنج قرار دے رہے ہیں۔ ہسپتال مریضوں سے بھر چکے ہیں اور حفاظتی سامان کی شدید قلت پیدا ہوئی ہے۔ دنیا بھر میں اب تک ہوئی قریب سوا 2لاکھ اموات میں سے صرف امریکہ اور یورپ میں 1لاکھ70ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوچکی ہیں اور متاثرین میں بھی امریکہ 10لاکھ کے ہندسے کو عبور کرچکاہے جبکہ بڑے یورپی ممالک میں بھی یہ تعداد 1سے 2لاکھ کے درمیان جاپہنچی ہے۔
کورونا سے پیداشدہ صورتحال کے سامنے امریکہ اور یورپ کی سائنسی ترقی اور ان کی ٹیکنالوجی کسی بھی کام نہیں اوران کے شیطانی دعوے اس وقت بے سود ہوکر رہ گئے ہیں۔آج تک ان کی طرف سے کی گئی تمام تر ایجادات ایک کورونا کا مقابلہ نہیں کرسکیں اور دنیا کے دیگر خطوں کی طرح یورپی اور امریکی منہ چھپائے گھروں میں بیٹھنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
لہٰذا کورونا وائرس سے یہ سبق ملتاہے کہ سب سے طاقتور اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس ہے اور اس کے نظام کے مقابل اپنے اپنے نظام قائم کرنے والوں کو بالآخر شکست سے ہی دوچار ہوناپڑتاہے چاہے وہ ماضی کے فرعون وشداد ہوں یاپھر امریکہ اور یورپ کی شکل میں موجودہ دور کی تسلط پسند طاقتیں۔