کورونا وائرس ابھی مرانہیں بلکہ ہرا ہے۔کچھ ممالک نے اسے محدود کردیاہے۔اس کے پھیلائو کو روکنے میںکامیابی تو حاصل کی ہے۔مگر کلی طور خلاصی کسی کو ملی نہیں۔ دنیا کے سات ارب انسان خوفزدہ ہیں ان سات ارب لوگوں کی تخلیق ایک مرد اور ایک عورت سے ہوئی ہے۔ سب کو کرونا نے بے دست وپا کرکے رکھ دیا ہے۔ اس کی زہر ناکیوں اور قہر سامانیوں کی خبریں جب گوش سماعت سے ٹکراتی ہیں تو آدم زاد ٹھٹھک کے رہ جاتا ہے۔ بہت سارے ممالک نے اس سے بچائو اور اس کے علاج کے عمل کو جنگ سے تعبیر کیا اور کہا کہ ہم اسے ہر ادیں گے۔بھلا اللہ کی آفات سے لڑ کر کوئی سرخ رو بھی ہوا ہے؟ نہیں…! بلکہ ہر مرحلہ پر احتیاط، علاج اور دعا ومناجات نے متاثر انسان کی نیا کو پار لگا دیا ہے۔ چند گرام وزنی اس جرثومہ نے ساری دنیا کا سکون چھین لیا ہے۔ اس کی آنکھیں ہیں نہ کان، اس اَن دیکھی مخلوق سے انسان لڑنے کے دعوے کرے… افسوس ہوتا ہے۔ اللہ کی اس نوع کی آزمائشوں سے نبردآزما نہیں بلکہ اس سے بچائو کی راہیں تلاش کی جاتی ہیں اور اس دوران خوف اور دبائو کا اگر انسان شکار رہا تو وہ لازمی ڈپیریشن کا شکار ہوسکتا ہے۔بلکہ کامل سکون یکسوئی اور اللہ سے ان بلائوں سے نجات طلب کرتے ہوئے اس کے درماں کیلئے انسان اپنی صلاحتیں بروئے کار لائے یہ درست طریقہ عمل ہے اس وائرس سے ہونے والی روزانہ اموات کی تعداد بھی پریشان کن ہے لیکن بس اسی وائرس سے سبھی متاثرین مرنہیں جاتے ، اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت کے اعداد وشمار کے مطابق سات ارب انسانوں میںمعمول کی اموات سالانہ پانچ کروڑ ساٹھ لاکھ ہیں۔ یعنی روزانہ کی بنیاد پر ڈیڑھ لاکھ لوگ سفر آخرت پر روانہ ہوتے ہیں۔ لیکن اِن ڈیڑھ لاکھ انسانوں کے موت کی خبر کوئی تہلکہ بپا نہیں کردیتی ہے کیونکہ یہ ایک معمول ہے اور معمول کی کوئی کاروائی انسان کو زیادہ پریشان نہیں کرتی۔اس کے برعکس کرونا وائرس سے کوئی آدم زاد چل بسے تو وہ خبر بنتی ہے اْسے خبر بننا بھی چاہے۔چین … جہاں سے اس وبا کا آغاز ہوا ہے کوئی دو ارب لوگوں کا ملک ہے، دو ارب کی آبادی میںکئی ہزار لوگ لقمہ اجل بن گئے۔ یہ تو بس اللہ کا کرم ہے کہ اتنے پر بس ہوا۔چین نے واضح طور پر جو طریقہ عمل اپنایا وہ اسلام کا تعلیم فرمودہ طریقہ عمل تھا۔یعنی وبائی علاقوں میں تندرست لوگوں کو جانے کی اجازت تھی نہ وبائی علاقوں کے مکینوں کو باہر آنے کا پروانہ ملتا تھا۔ جنگلی جانوروں کی تجارت کو ممنوع قرار دیا۔ خنزیروں اور درندہ صفت جانوروں کا قلع قمع کیا۔یوں سمجھئے کہ حرام جانوروں کے کھانے کے عمل کو ختم کیا۔ بعض مساجد میں دعا کرائی گئی اور بہت سارے غیر مسلم چینی خود ان دعائوں میںشامل رہے اس لئے کہ اللہ ہی انسانوں کا خالق ہے اور اْن سے یہی طلب کرتا ہے کہ وہ سب اْس کے ہوکے رہیں۔ فزکس معبود نہیں معبود وہی ہے جس کی ایک ہلکی اور اَن دیکھی مخلوق کے سامنے آج ساری کائنات ہست وبود سہمی ڈری اور دبکی ہوئی ہے ہاں کرونا وائرس سے اس حد تک خوف زدہ نہیں ہوناچاہیے کہ انسان مزید نفسیاتی اور اعصابی بیماریوں کا شکار ہوجائے۔مصیبت مصیبت ہوتی ہے اللہ کی طرف رجوع ،احتیاط وعلاج انسان کے بس کی بات ہے اس پر عمل پیرا ہوا جائے۔لیکن ہمت حوصلہ اور عزم اگر ٹوٹ جائے تو کوئی تریاق بھی حیات بخش ثابت نہیں ہوسکتا۔ ان ہی کالموں میں کئی بار لکھ چکا ہوں کہ وبا کوئی بھی ہو احتیاط کا تقاضا کر تی ہے۔اختلاط سے اجتناب کا تقاضا کرتی ہے۔ بغل گیر ہونے اورمعانقہ کے عمل سے بچائو کا پیام دیتی ہے۔ بچائو کے لئے اسباب کے استعمال اور تدابیر کو اختیار کرنے کی صدا وندادیتی ہے۔میں نے قبل از یں لکھا کہ وہ لوگ تو کل کے معنی سے قطعی نابلد ہونے کا ثبوت فراہم کرتے ہیں جو یہ کہہ کرانسانیت کو ہلاکت کے راستے پر ڈالتے ہیں۔ کہ یہ ماسک وردیاںاور یہ احتیاطی تدابیر کس کام کے معاملہ اللہ کے سپر د کیجئے سب ٹھیک ہوگا۔ نہیں جانتے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم ا جمعین سے بڑا بھی کیا کوئی متوکل تھا۔سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے زیادہ اس اْمت میں کیا کوئی اللہ کی ذات پر اعتماد کا دعویٰ کرسکتا ہے۔ کوڑھ کی مریضہ کو صحن کعبہ میں محو طواف دیکھ لیا اور حسین انداز میں کہا کہ اے اللہ کی بندی کاش تو گھر میں ہی قیام کرتی ، اللہ کے بندوں کو تکلیف میںنہ ڈال، اس نے بات پہلے باندھ لی پھر جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مالک حقیقی سے جاملے کسی نے خاتون کے گھر جاکر اْسے باہر آنے ، اعزہ اقرباء سے یہ کہہ کر ملنے کو کہا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تو اب چلے گئے ہیں۔ اب کوئی روک ٹوک باتی نہیں ،لیکن اس حسین معاشرہ میںتربیت یافتہ خاتون نے یہ کہہ کر چپ کرادیا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا حکم اب بھی میرے اْوپر نافذ العمل ہے۔ کیونکہ وہ علت یعنی بیماری ابھی باقی ہے جس وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ نے مجھے گھر بیٹھنے کا حکم فرمایا۔‘‘ کتنا درس زریں اس میںپوشیدہ ہے؟ ہاں احتیاط اور بس احتیاط کا پیام حق اور لوگوں سے میل جول اور اختلاط سے بچنے کا اردوہے، کرونا کے حوالہ سے میں نے کئی مضامین قلم بند کرلئے جو روزنامہ کشمیر عظمیٰ میں شائع ہوئے۔ کسی ایک میں میں نے طاعون عمواس کا بھی ذکر کیا۔ جس میں کئی ہزار صحابہ کرام ؓجاں جان آفرین کے سپرد کرگئے۔ وجہ بھی بتادی مگر اختصار کے ساتھ آج اس بات کو پھر محض بات کو سمجھانے کیلئے کچھ پھیلا کے بیان کروں گا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا دور خلافت تھا، شام کے ایک علاقے میں وبا نے اپنے بال وپر وا کردئے۔ مکینوں کی بڑی تعداد اس وبا میں کام آئی۔ یہاں تک کہ دوگورنر حضرت عبیدہ بن جراح ؓاور حضرت معاذ بن جبلؓ جان سے گزر گئے۔ تیسرے نے خاص حکمت اپنائی اور بیماری پر اللہ نے قابو عطا کیا۔ تینوں بڑے عظیم تھے۔ عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو کون نہیں جانتا۔ اْمت کا امین ، انہیں دنیا کے سب سے بڑے امین وصادق صلی اللہ علیہ وسلم نے لقب مرحمت فرمایا جن دس عظیم لوگوں کو دنیا میںہی جنت کی بشارت ملی ہے اْن میں سے تو وہ بھی ایک ہیں۔ اپنے نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس وصیت پر پورا عمل کیا۔ کہ وباء زدہ علاقہ کے اندر سے کوئی باہر اور باہر سے کوئی اندر نہ آئے لیکن پھر بھی وباء زور پکڑتی گئی۔طاعون ایک سے دوسرے میںپھیلتا رہا۔اہم بات یہ ہے کہ کوئی بیماری متعدی نہیں۔ لیکن عقیدہ وایمان یہ بھی کہ اللہ چاہے تو ایسا ہونے سے کون روک سکتا ہے۔ تاریخ کا بیان ہے کہ 30ہزارلوگ موت کے منہ میںچلے گئے۔بہر حال مسلمانوں کو صبر وثبات کا درس دیتے ہوئے سیدنا عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ بھی اسی وباء میں جام شہادت نوش کرگئے۔ پھر معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ جیسی عظیم شخصیت سامنے آئی، اْن کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں اس وبا میں جان سے گئے۔عبدالرحمن نا م کا اْنکا بیٹا واصل بحق ہوا تو عظیم باپ اشکبار ہوکر فرمایا کہ اب اس دنیا میں کوئی شئے پسند یدہ نہیں رہی۔وہی معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ جنہیں ایک روز اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہہ کر پکارا تھا معاذ واللہ مجھے تم سے بے حد محبت ہے۔ اندازہ کیجئے اْسے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہونے کی سند عظیم حاصل تھی۔ اسی وبا کے دوران جب اْن پر بخار حملہ زن ہوا یہ علامت ظاہر ہونے کے بعد انگلی پر طاعون کا زخم ظاہر ہوا۔سید نا معاذ رضی اللہ عنہ معاملہ کو بھانپ گئے۔ مبارک انگلی اپنی آنکھوں کے سامنے لائی اور مخاطب ہوکر کہا۔کہ اے انگشت شہادت تم میرے لئے رحمت اور شہادت کا پیغام اور خوش خبری لائی ہو۔ اْمید ہے شام تک اس دنیا سے چلاجائوں گا اور فردوس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنے ساتھیوں کے درمیان موجود ہوں گا۔ چنانچہ اسی روز مغرب تک اللہ نے اپنے اس صالح بندے کا اندازہ درست ثابت کرکے اپنے پاس بلایا۔ واقعہ امام احمد بن حنبل ؒ اپنی مسند میںلائے ہیں۔اْدھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مدینہ میں اس صورتحال کی وجہ سے بہت بے چین تھے، مسلسل شوریٰ کی مجالس کا اس حوالہ سے انعقاد ہوتا۔ تدابیر پر بحث ہوتی۔ دعا ومناجات کا سلسلہ رہتا، مگر وبا تھی تو زور پکڑ رہی تھی۔ ایسا ہی ایک واقعہ 833ہجری میںقاہرہ میں بھی پیش آیا تھا۔جب وہاں ایک خطرناک قسم کی وبا پھوٹ پڑی روزانہ تیس چالیس بندے جاں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہا ہاکار مچ گئی۔پھر ایک مخصوص دن پر ایک مشترکہ فیصلے کی روشنی میں اہل قاہرہ اپنے علماء سمیت ایک کھلی اورو سیع جگہ پر آئے بہ چشم نم آہ وبکا کی ، مناجات ودعائوں سے ایک عجب سماں بندھ گیا، رقعت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے۔لیکن تاریخ کا بے لاگ سچ یہ ے کہ اگلے روز سے وبا سے مرنے والوں کی تعداد 1000 بھی شمار کی گئی، کیونکہ اس لئے کہ بچائو کا صرف ایک پہلو اختیار کرکے دوسرے کو نظر انداز کیا گیا۔ یعنی یہاں اختلاط ہوا اور بے شمار لوگ جان سے گئے ، اسباب کا استعمال نہ ہوا پھر معاملہ دگر گوں ہوا۔ دعائیں بھی تو ہمارا سرمایہ ہیں، نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق مو من کا ہتھیار ہیں۔ اور اسی ہتھیار سے وہ ہر غم واندوہ سے بچائوں کا راستہ ڈھونڈتا ہے۔لیکن علاج واحتیاط اور مصائب کی نوعیت کو دیکھ کر حکمت عملی کی ترتیب اور پھر اس پر عمل پیرائی بھی اہم ہے، بات شام میں بپا وبا کی ہو رہی تھی۔ سیدنا معاذ بن جبل ؓ کے بعد سیدنا عمروبن عاص ؓکو امیر المومنین نے سپہ سالار مقرر کیا۔ مسلمانوں کی شہادتوں نے انہیں نڈھال بنادیا ،واپس وہاں ہی چلتے ہیں، یہی وہ وبا تھی جس میں کئی کنبے ایسے بھی تھے جن کا کوئی ایک فرد بھی بچ نہیں پایا۔خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے کئی بیٹے اس میں فوت ہوئے۔حضرت بلال رضی اللہ عنہ اسی موقع پر جام شہادت نوش کرگئے، حضرت ابو موسیٰ ؓاشعری کی اہلیہ اس بیماری کی زد میںآکر زمین اوڑھ گئیں۔ الغرض سیدنا عمر وبن عاصؓنے کمان سنبھالی حکمت تبدیل کی خاص بات کا اعلان فرمایا:۔ اصل میں یہ بات اللہ نے ان کے ذہن میںڈال دی کہ لوگوں کے مرنے کی ایک بڑی وجہ لوگوں کا اختلاط بھی ہے۔ ان سب کو الگ یعنی تنہا کیجئے اصطلاح میںیوں کہیے کہ کورنٹنائن کیا جائے۔ آپ نے لوگوں سے خطاب کرکے فرمایا:اللہ کے بندو! کہ اس بات میں کیا شک ہے کہ وبا جب آتی ہے تو آگ کے بھڑکے شعلوں کی طرح بھڑکتی ہی جاتی ہے۔اس لئے تم ایسا کرو کہ ان پہاڑوں میں پھیل جائو تنہائی اختیار کرو۔ مورخین کے مطابق عمر و بن عاصؓنے ایسا کرکے بیماروں کو صحت مندوں سے الگ کردیا۔ اور اس عمل سے اللہ تعالیٰ نے اس وبا کا خاتمہ کردیا۔بات سمجھنے کی ہے کہ شام سے باہر لوگ نہ گئے تو باہری دنیا بچ گئی۔ اندر ان کا میل جول اور اختلاط باقی رہا تو نقصان کے شکار ہوئے۔یاد ہے یہ دنیا دارالاسباب ہے اور اسباب کا خالق بھی رب جلیل ہی ہے۔ ان اسباب سے استفادہ کرنا فطرت کا تقاضا اور خطرات ونقصانات سے بچائو کا اہم تر راستہ ہے۔ یاد رکھئے علماء اسلام نے ہمیں احکام شریعت بتائے ہیں ان پر عمل آوری ہماری آخرت سنوار سکتی ہے۔ اور ڈاکٹر واطباء علاج و احتیاطی تدابیر بتاتے ہیںان پر کان دھرنا ہوگا۔ یعنی جو جس میدان وفن سے آشنا ہے اْس سے متعلق اسی کی ہی مانی جائے گی۔ اْس کی نہیں جس کا اس کے ساتھ کوئی واسطہ نہ ہو۔ چاہے وہ اپنے میدان کا شہسوار ہی کیوں نہ ہو۔ اس لئے کائنات کے ہر گوشہ سے انسانیت کے نام یہی پیغام سنائی دے رہا ہے۔
احتیاط علاج ہے اور علاج احتیاط ہے
رابطہ :9419080306