پہاڑی علاقوں میں برسوں تک دسترخوان سے غائب رہی جنگلی سبزیاں کورونا وائرس سے لاک ڈائون کے بعد لوگوں کے دسترخوان پر پھر سے نظر آنے لگی ہیں اور ان سبزیوں کو اب اضافی سبزی کے طور پر لوگ استعمال کرنے لگے ہیں ۔پہاڑی علاقوں میں ایسا کوئی گھر نہیں جہاں دوپہر یا پھر شام کے کھانے میں جنگلی سبزی کو اضافی سبزی کے طور پر استعمال نہ کیا جاتا ہو ۔پوری دنیا میں کووڈ 19نے لوگوں کو گھروں میں محصور کر دیا ہے اورلاکھوں لوگ اس سے متاثر ہیں ۔اب تک دو لاکھ اس عالمی وبا سے ہلاک ہوچکے ہیں اور ملک بھر کی طرح جموں وکشمیر میں بھی لاک ڈائون جاری ہے جس کا خمیازہ اگر سب سے زیادہ عام عوام کوبھگتنا پڑرہاہے ۔
دور افتادہ علاقوں میں دکانوں پر اشیائے ضروریہ خصوصاًسبزیوں ،پھل مرغ وگوشت کی قلت ہے۔ دکانوں پر دالیں اور دیگر کھانے پینے کی چیزیں نایاب ہیں اور اس سب کے بیچ پہاڑی آبادی نے پھر سے جنگلی اور پہاڑی سبزیوں کا استعمال شروع کر دیا ہے جو برسوں پہلے لوگوں نے چھوڑ دیا تھا ۔ پہاڑی خواتین نے پُرانے طور طریقے کو پھر سے اپناتے ہوئے جنگلوں کا رخ کرنا شروع کیا ہے۔ سبزیاں ہمارے لئے اہم ترین نعمت کا درجہ رکھتی ہیں اور ایسا کوئی گھر نہیں جہاں کسی بھی پکوان کے ساتھ سبزی نہ ہو لیکن اس سا ل کورونا وائرس کی وباء کی پکڑ نے ہمیں اس قدر جھکڑا کہ جنگل کی طرف ٹولیوں میں جنگلی سبزیاں لانے کیلئے خواتین دوڑ پڑھیں ۔ صبح اکثر پہاڑی خواتین کو ہاتھوں میں چاقو اور تھیلے اٹھا کر جنگلوں کا رخ کرتے دیکھا جاتا ہے۔یہ خواتین اپنے لئے دن کا کھانا ساتھ لیتی ہیں اور شام دیر گئے و ہ کئی کلومیٹر دور سے مختلف اقسام کی جنگلی سبزیاں اپنے ساتھ لیکر گھروں میں داخل ہوتی ہیں ۔ ان سبزیوں میں جنگلی ہند ، جنگلی پودینہ ،مونگرے ، مارچوب اور گندنہ وغیر شامل ہوتے ہیں ۔سب سے زیادہ پہاڑی علاقوں میں پائی جانے والی چونگا ن یمنکی جنگلی سبزی جسے انگریزی میں caralluma fambriata کے نام سے جانا جاتا ہے، کااستعمال ہو رہا ہے ۔یہ سبزی آج کل ہر گھر کے دسترخوان کی زینت بنی ہوئی ہے ۔ ماہرین کہتے ہیںکہ یہ سبزی مختلف ادویات کے طورپر بھی استعمال ہونا شروع ہو گئی ہے اوراس کو لوگ نہ صرف سبزی کے طور استعمال کرتے ہیں بلکہ اس کی چٹنی بھی بنتی ہے۔
ماضی میں پہاڑی علاقوں میں جب بازار نہیں تھے تولوگوں کے آمدنی کے ذرائع بھی محدود تھے ۔ اقتصادی حالت بھی بہتر نہیں تھی تو پہاڑی علاقوں کی خواتین اپنے کنبے کا پیٹ پالنے کیلئے جنگلوں کا رخ کرتی تھیں اور پھر وہاں سے جنگلی سبزیاں چن کر گھر وںمیں لاتی تھیں ۔اس وقت چاول کی اکثر کمی ہوتی تھی، پھر مکی کے آٹے کی روٹیاں بنائی جاتی تھیں ،پھر اس سبزی کو روٹی کے ساتھ کھایا جاتا تھا ۔ غربت و پسماندگی اس قدر تھی کہ خواتین جب جنگلوں اور پہاڑوں کی طرف جاتی تھیں توجنگلوں میں سبزیاں بھی کم پڑ جاتی تھیں۔تاہم لوگوں کے ذرائع آمدن میں بہتری کے ساتھ ہی قریب 25سال تک لوگ جنگلی سبزیاں بھول گئے ،کوئی جنگل میں جاتا تھا اور نہ ہی کوئی جنگلی سبزیوں کی طرف دیکھتا تھا ،کیونکہ دکانوں پر سبزیوں کی بھرمار تھی اور لوگ پیسہ دے کر دکانوں سے سبزیاں خرید تے تھے ۔عیش وآرام اس قدر تھا کہ خواتین کو ریڈی میڈ سبزی گھر تک پہنچتی تھی ،صرف سبزی بنانا اور کھانا ہی ان کیلئے سب سے بڑا کام تھا ،لیکن لاک ڈائون کے بیچ جہاں دکانوں پر سبزیاں اور دیگر اشیاء کی قلت پیدا ہوئی تو پہاڑی علاقوں کی خواتین کو مجبوراًجنگلی علاقوں کا رخ کرنا پڑا لیکن اس بار ہر ایک جنگل مختلف اقسام کی جنگلی اور پہاڑی سبزیوں سے بھرے پڑے ہیں اور خواتین کچھ گھنٹوں میں ہی 5دن کیلئے ایک ہی ساتھ مختلف اقسام کی سبزیاں چن کر لی آتی ہیں ۔
اوڑی ، کرناہ ، کیرن ، مژھل علاقوں میں خواتین کو ٹولیوں میں جنگلی علاقوں میں جنگلی سبزیاں چنتے ہوئے دیکھا جاتا ہے۔کرناہ کے کرانو پہاڑ سے لیکر جاڈہ ، تربونی ، چوٹا ، ڈل پہاڑی کے علاوہ نالہ قاضی ناگ اور بتہ موجی کے کناروں سے خواتین کو یہ سبزی چنتے ہوئے دیکھا جاتا ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ان سبزیوں میں کوئی بھی رطوبت نہیں ہوتی اور یہ ہمیں کئی انفیکشنوں سے بچاتی ہیں۔ وہیں اب کورونا انفکیشن سے نجات کیلئے ان سبزیوں کا استعمال یہاں کافی بڑھ رہا ہے ۔جنگلات سے سبزیاں چن کر لانے والی خواتین کا کہنا ہے کہ لاک ڈائون کے بیچ ایک تو ا ن کا ٹائم پاس ہوتا ہے اور پیسہ بھی بچ جاتا ہے اور تیسرے صحت مند سبزی کھانے کوبھی ملتی ہے ۔سماجی دوریاں قائم کر کے خواتین سبزیاں چنتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں ۔سنجیدہ فکر لوگوں کا کہنا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں زمینیں کم ہونے کی وجہ سے اکثر لوگ گھروں میں ہی سبزیاں نہیں اُگا پاتے ہیں اورانہیں مہنگے داموں میں دستیاب ہونے والی دکانوں کی سبزیوں پر ہی منحصر رہنا پڑتا ہے۔ اکثر غریب لوگ مہنگے داموں میں سبزیاں خریدنے کے قابل نہیں ہوتے تو ایسے میں لوگوں کے دسترخوان سے سبزی جیسی نعمت کم ہو جاتی ہے لیکن اس بار نہ ہی غریب اور نہ امیر سب نے جنگلی سبزیوں کا استعمال شروع کر دیا ہے ۔ معالجین کا کہنا ہے کہ بازاری سبزیوں سے جنگلی اور پہاڑی علاقوںمیںپائی جانے والی سبزیاں صحت مند اور انفکیشن سے پاک ہوتی ہیں ۔ان سبزیوں میں کسی بھی قسم کی کوئی کیمیائی دوائی کا استعمال نہیں ہوتا بلکہ قدرتی طور پیدا ہونے والی یہ سبزیاں صحت مند ہوتی ہیں ۔پہاڑی علاقوں میں لو گ ان سزیوں کو للوری ، پنچے ، گودڑی ، چمچہ پتر ، ہند ، مرچڑی ، پیڈا ساگ ، ٹھپر ساگ ، گوچھی ، سریاں دا ساگ کے نام سے جانتے ہیں۔ کئی خواتین کہتی ہیں کہ آج سے کئی سال قبل جب پہاڑی علاقوں میں آمدنی کے ذرائع محدود ہوتے تھے تو لوگوں کا دارو مدار دالوں اور آلو جیسی اشیاء پر ہوتا تھا۔ پورا سال لوگ اپنی زمینوں میں راجماش اور آلو اگاتے تھے پھر انہیں کھانے میں استعمال کرتے تھے لیکن پہاڑی علاقوں میں زمینیں محدود ہونے کے سبب کئی ایک لوگ ان نعمتوں سے محروم رہتے تھے تو ایسے میں یہ لوگ جنگلوں کا رخ کرتے تھے۔ کئی لوگ تو اپنے مال مویشوں کے ہمراہ گرمیوں کے موسم میں 6ماہ تک بہکوں اور اونچی مالیوں کا رخ کرتے تھے جہاں نہ صرف انہیں اپنے مال مویشیوں کیلئے چارہ ملتا تھا بلکہ مختلف اقسام کی سبزیاں بھی انہیں میسر تھیں۔یاد رہے کہ ان جنگلی سبزیوں کا ذائقہ بھی لذیز ہوتا تھا ،ایسا نہیں کہ پہاڑی لوگوں کے گھروں میں صرف ہر دن ایک ہی اقسام کی سبزی روزانہ پکتی تھیں بلکہ خواتین ایک دن صبح گھروں سے ٹولیوں میں نکلتی تھیں اور پھر پورا دن جنگلوں میں سبزیاں چن کر شام کو مختلف اقسام کی سبزیاں گھر لاتی تھیں پھر انہیں ایک ہفتے تک استعمال میں لایا جاتا تھا ۔