اہم اسامیاں خالی، اشاعتی و تحقیقی سرگرمیاں مفلوج، زبان کا مستقبل شدید خطرے سے دوچار
یٰسین جنجوعہ
جموں // جموں و کشمیر کلچرل اکیڈمی میں پہاڑی زبان کا سرکاری شعبہ جو کہ پہاڑی زبان، تہذیب، ورثے اور ادبی ورثے کے سرکاری سرپرست کے طور پر قائم کیا گیا تھاآج اپنی تاریخ کے بدترین بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ شعبے میں عملے کی شدید قلت اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ رواں ماہ کے اختتام کے بعد پورا محکمہ عملاً ایک ہی ملازم کے رحم و کرم پر رہ جائے گا۔ اس حالت نے نہ صرف پہاڑی زبان کے مستقبل پر سوال کھڑے کر دئیے ہیں بلکہ بیس لاکھ سے زائد آبادی کی بولی جانے والی زبان کا مستقبل خطرے میں پڑتا دکھائی دے رہا ہے ۔اس وقت شعبہ پہاڑی میں صرف دو ملازمین خدمات انجام دے رہے ہیں، جن میں ایک ایڈیٹر اور ایک ریسرچ اسسٹنٹ شامل ہیں۔ مگر یہ صورتحال بھی صرف 31دسمبر تک برقرار ہے، کیونکہ ایڈیٹر مقررہ تاریخ کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد محکمہ پہاڑی میں صرف ایک واحد ملازم بچے گا، جو کسی بھی طرح پورے شعبے کی وسیع ذمہ داریاں ادا نہیں کر سکتا۔ذرائع کے مطابق شعبے میں مبینہ طورپر چیف ایڈیٹر، ایڈیٹر، اسسٹنٹ ایڈیٹر، فیلڈ اسسٹنٹ، جونیئر اسسٹنٹ، ٹیکنیکل و دفتری اسامیوں سمیت کئی کلیدی عہدے گزشتہ برسوں سے خالی پڑے ہیں۔ اس کا براہ راست اثر شعبے کی بنیادی سرگرمیوں، جیسے نئی کتابوں کی اشاعت، زبان کی تحقیق، فیلڈ ورک، ثقافتی پروگراموں اور میگزین کے اجرا پر پڑ رہا ہے۔ کئی پروجیکٹ مکمل ٹھپ ہو چکے ہیں جبکہ متعدد منصوبے کاغذوں میں اٹکے ہوئے ہیں۔پہاڑی زبان جموں و کشمیر کی بڑی اور قدیم زبانوں میں شمار ہوتی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس زبان کو بولنے والوں کی تعداد کم و بیش دو ملین (بیس لاکھ) کے لگ بھگ ہے۔ یہ زبان پہاڑی شناخت کا بنیادی ستون ہونے کے ساتھ ساتھ خطے کے ادبی، روایتی اور ثقافتی ورثے کا نمائندہ اثاثہ بھی ہے۔ حیران کن طور پر اتنی بڑی آبادی کی زبان کے سرکاری شعبے کی حالت اس قدر خراب ہے کہ محکمہ اپنے وجود کو برقرار رکھنے کی جنگ لڑ رہا ہے۔پہاڑی زبان کے ادیبوں، شاعروں اور عام بولنے والوں نے اس صورتحال پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ ایک معروف پہاڑی ادیب نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ’اگر سرکاری ادارہ ہی دم توڑنے لگے تو زبان کیسے بچے گی؟ بیس لاکھ بولنے والوں کے لئے ایک ملازم،یہ کسی المیے سے کم نہیں‘۔ایک اور محقق کا کہنا ہے کہ ’حکومت قبائلی زبانوں کے فروغ کے بڑے بڑے دعوے کرتی ہے، مگر پہاڑی زبان کا مرکزی اور واحد سرکاری ادارہ برسوں سے عملے کی شدید کمی کا شکار ہے۔ نہ نئی بھرتی ہو رہی ہے، نہ منصوبے شروع کئے جا رہے ہیں اور نہ ہی تحقیق کا پہیہ چل رہا ہے‘۔اہلِ قلم اور سماجی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس بحران کے نتیجے میں پہاڑی ادب کی اشاعت رْک گئی ہے، نئی نسل زبان سے دور ہوتی جا رہی ہے، اور ثقافتی سرگرمیاں ختم ہونے کے قریب ہیں۔ خاص طور پر ایس ٹی اسٹیٹس ملنے کے بعد پہاڑی برادری کو جس ترقی اور حکومتی توجہ کی امید تھی، وہ امیدیں اب مایوسی میں بدلتی جا رہی ہیں۔ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے توپہاڑی زبان کا واحد سرکاری ادارہ عملی طور پر غیر فعال ہو سکتا ہے،تحقیقی و ادبی ورثے کا سلسلہ ٹوٹ جائے گا،نئی نسل زبان و شناخت سے مزید دور ہو جائے گی،پہاڑی ادب، روایات اور ثقافت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گاجبکہ پہاڑی ادبی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پرتمام خالی اسامیوں کو ہنگامی بنیادوں پر پْر کرے،عبوری طور پر اضافی عملہ تعینات کرے،اشاعتی و تحقیقی سرگرمیوں کو بحال کرے،شعبہ پہاڑی کے بجٹ میں اضافہ کرے اور پہاڑی زبان کے فروغ کے لئے مستقل و مضبوط پالیسی تشکیل دے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ صرف ایک زبان یا ادارے کا نہیں بلکہ پوری برادری کی شناخت، روایت اور ثقافتی ورثے سے جڑا ہوا ہے۔ اگر حکومت واقعی قبائلی زبانوں کے تحفظ کا عزم رکھتی ہے، تو اسے سب سے پہلے شعبہ پہاڑی کو مضبوط کرنا ہوگا۔ بصورتِ دیگر آنے والے دن پہاڑی زبان اور اس کے ادب کیلئے نہایت خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔اس سلسلہ میں کلچرل اکیڈمی کے سیکریٹری سے رابطہ کرنے کی کوششیں کی گئیں تاکہ ان سے رابطہ نہیں ہو سکا ۔