عظمیٰ نیوز سروس
راجوری//ضلع راجوری کے کلرگاؤں میں زمین کی کھدائی کے دوران حال ہی میں برآمد ہونے والی ایک قدیم ہندو دیوی کی مورتی علاقے میں عقیدت اور مذہبی احترام کا مرکز بن گئی تھی۔ مورتی کی دریافت کے بعد بڑی تعداد میں عقیدت مند وہاں حاضری دے رہے تھے اور عبادت و عقیدت کا سلسلہ جاری تھا تاہم ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب اس وقت تشویش کی لہر دوڑ گئی جب گاؤں میں کھلے مقام پر رکھی گئی یہ مورتی اچانک لاپتہ ہو گئی۔اتوار کی صبح مورتی کے غائب ہونے کا انکشاف ہوا جس کے بعد علاقے میں بے چینی اور کشیدگی پیدا ہو گئی۔ مقامی لوگوں کے مطابق خبر تیزی سے پھیل گئی جس سے گاؤں کے مکینوںمیں شدید اضطراب پایا جانے لگا۔ خاص طور پر ہندو برادری کے افراد نے اس واقعہ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شرپسند عناصر کے ملوث ہونے کا خدشہ ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گاؤں میں تمام مذاہب کے لوگ آپس میں بھائی چارے کے ساتھ رہتے ہیں اور یہ واقعہ سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی ایک دانستہ کوشش معلوم ہوتی ہے۔علاقے کے لوگوں نے فوری طور پر پولیس سے مطالبہ کیا کہ مورتی کی بازیابی کے لئے فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے اور اس واقعہ میں ملوث عناصر کی شناخت کر کے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
عوامی دباؤ اور حساسیت کو دیکھتے ہوئے پولیس نے بھی فوری حرکت میں آتے ہوئے اتوار کی شام تحقیقات کا آغاز کیا اور پولیس اسٹیشن راجوری میں اس سلسلے میں باقاعدہ مقدمہ درج کیا گیا۔پولیس حکام کے مطابق تفتیش کے دوران نصف درجن سے زائد مقامی افراد کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی گئی تاکہ واقعہ کی اصل حقیقت سامنے آ سکے۔ دورانِ تفتیش ملنے والے اہم سراغوں کی بنیاد پر پولیس ٹیموں نے گاؤں میں مختلف مقامات پر تلاشی مہم چلائی۔ پیر کے روز پولیس کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی جب گمشدہ مورتی کو بحفاظت برآمد کر لیا گیا۔مورتی کی برآمدگی کے بعد علاقے میں اطمینان کی فضا قائم ہو گئی۔ اس موقع پر ہندو برادری کے نمائندوں نے ایک پریس کانفرنس کا اہتمام کیا جس میں انہوں نے پولیس کی بروقت اور مؤثر کارروائی کی بھرپور تعریف کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی تیز رفتار تفتیش اور پیشہ ورانہ انداز ہی کی بدولت مورتی کو جلد بازیاب کرایا جا سکا، جس سے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچنے سے بچا لیا گیا۔انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اس واردات میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کلر گاؤں ہمیشہ سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی مثال رہا ہے اور ایسے واقعات اس پرامن ماحول کو خراب کرنے کی سازش ہو سکتے ہیں۔ادھر پولیس حکام نے یقین دلایا ہے کہ معاملے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تفتیش جاری ہے اور جو بھی اس جرم میں ملوث پایا گیا، اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔ انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھیں اور کسی بھی افواہ پر کان نہ دھریں، کیونکہ باہمی اتحاد اور تعاون ہی علاقے کے پرامن مستقبل کی ضمانت ہے۔