کشمیری زبان کو معدوم ہو نے سے بچا نے کے لئے آج کل ہمارے یہاں کئی اطراف سے آوازیں بلند کی جا رہی ہیں ۔ مادری زبان کے تحفط اور احیاء کے لئے کشمیری بو لنے والے مختلف شعبہ ہائے حیات سے منسلک مقامی افراد پر مشتمل ا ایک گروہ اس حوالے سے بڑا متفکر دکھائی دے رہا ہے۔ مذکورہ محبان کشمیری زبان کے مطابق ہماری مادری زبان کشمیری ہمیں سردست درپیش ناگفتہ حا لات کے نتیجے میں صفحہ ہستی سے مٹ جانے کی راہ پر گامزن ہے ا ور اب اپنی عمر کے آخری پڑاؤ پر پہنچ چکی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک طرف اس زبان کی جانب یہاں کے عوام النا س کی طرف سے سرد مہری کا رویہ برتا جا رہا ہے اور دوسری طرف سرکار کی جانب سے اس زبان کی ترویج وفروغ کے حوالے سے عدم دلچسپی کے ساتھ ساتھ متعصبانہ سلوک روا رکھا گیا ہے۔ نتیجتاً ہماری مادری زبان بڑی تیزی کے ساتھ اپنی آن اورشان کھو کر دن بہ دن سکڑتی جارہی ہے ۔ مادری زبان کی بگڑتی صورتحال اور سرکاری و عوامی سطح پر اس حو الہ سے بے حسی دکھا نے پر مذکورہ انجمن کا اظہار حیرت و استعجاب قابل فہم بات ہے۔ کشمیری زبان کے تحفظ اوربقاء کے تئیں ریاستی سرکار کی عدم دلچسپی پر سرکار کی تنقید اور کشمیری زبان بو لنے والے کشمیریوں کی عدم حساسیت پر برہمی اظہار کر نے میں مذکورہ گروہ با لکل حق بجانب ہے ۔ کسی زبان کوچاہئے وہ چھوٹی یا بڑی قوم کی ہو، اس کا اپنے بو لنے والے لوگوں کے ساتھ چولی دامن کا تعلق ہوتا ہے، اور انہیں ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ہماری مادری زبان کی مو جودہ زبوں حا لی کے حوالے سے لوگوں کے اندر بیداری کر نا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ا س سے پہلے کہ ہماری مادری زبان قصۂ پارینہ بن کر ہمیشہ کے لئے نیست نا بود ہو جائے اور ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ کر اس کا جنازہ نکلنے کا تماشہ دیکھیں، ہمیں اپنے سماج اور لوگوں کے اندر مختلف سطحوں پر اس کے تحفظ کے لئے رائے عامہ کو ہموار کرنے کی کوششوں میں جٹ جا نا ہو گا تاکہ عوامی حلقوں میں بیداری پیدا ہو اور کشمیری زبان کے لئے آواز بلند کر نے والے مذکورہ حضرات کی قیادت میں کشمیری زبا ن کے تحفظ اور ترویج و ترقی کے لئے ایک منضبط تحریک شروع کی جائے، اربابِ اقتدار اور حکومت کی توجہ مادری زبان کی زبو ں حا لی کی طرف مبذول کی جا ئے ۔ یہ نہ صرف توجہ طلب معاملہ ہے بلکہ اس ضمن میں خصوصی طور فی الفور اقدام کر کے رائے عامہ کا دباؤ بڑھایا جائے ۔ ارباب اقتدار کو کشمیری زبا ن کو بلا کسی مزید تاخیر کے پرائمری سطح سے لے کر یو نیو رسٹی سطح تک تعلیمی نصاب میں شامل کئے جا نے پر مجبو ر کیا جا ئے اور تعلیمی اداروں کے اندر کشمیری زبان کو ہی ہدایات اور تعلیم و تعلم کا ذریعہ بنایا جانے کا اصرار کیا جانا لازم ہے تاکہ ہماری نئی نسل اپنی مادری زبان سے آ شنا ہو نے کے ساتھ ساتھ جذبا تی اور شعوری طور اپنی تہذیبی ورثہ اور ما لا مال تمدن کے ساتھ منسلک رہ سکے۔ ساتھ ہی ساتھ عوام النا س کے اندر بھی مادری زبان کے تئیں محبت و تعلق کا جذبہ ابھا را جا ئے اور اپنے بچو ں کے ساتھ بات چیت ترجیحی طور پر کشمیری زبان میں کیا جائے ۔ مادری زبا ن کو تعلیمی اداروں اور گھروں میں صرف اس غرض کے لئے ہی استعمال نہ کیا جائے کہ ا س سے حصول تعلیم کا مقصد پورا کیا جا ئے بلکہ اس کے ذریعے سے اپنی قومی شنا خت ، تہذیبی و ثقافتی اقد ار متنوع تمدنی میراث اس نسل نو کی طرف منتقل کر نا ممکن ہو سکے ،جس سے ان کی متوازن شخصیت پروان چڑھے اور انہیں اپنی تاریخ و تہذیب اور ثقافت وتمدن کے ساتھ جو ڑا جا ئے۔
کشمیری زبا ن کے ساتھ لگاؤ رکھنے والے دانشوروں ، قلم کاروں، وکلا اور یگر مختلف پیشوں سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل مذکورہ گروپ نے اس ضمن میں کئی علمی و ادبی محفلیں،سیمنار ، پروگرام اور پریس کا نفرسوں کا انعقاد کر کے اپنے مشن کے حوالے سے لو گوں کے اندر بیداری پیدا کر نے کی کو ششیں انجام دیں۔ مختلف نو عیت کے ان پروگراموں کے ذریعے کشمیری زبان کو روزمرہ زندگی میں استعمال کرنے کے لئے لو گوں کو اُبھارنے کی بھرپور سعی کی گئی۔ ’’کشمیری سیکھو‘، کشمیری لکھو ، کشمیری بو لو ، کشمیری پڑھو‘‘ جیسے نعرے بھی بلند کئے گئے ۔ بلاشبہ یہ ایک بروقت اورکار آمد مشن ہے جس کا بصد خلوص ساتھ دینا ہم سب پر لازم بنتا ہے تاکہ ہم اپنی مادری زبان کو پستی میں گرنے اور تنزل کا شکار ہونے سے بچا نے میں کا میا ب ہو سکیں۔کشمیری زبان کی مو جودہ زبوں حا لی ہماری اجتماعی بے حسی اور با طنی شکست خوردگی اور منافقت کا شاخسانہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ زبان اب اس مقام پر پہنچ چکی ہے کہ اس کے اپنے بو لنے والے احساس کمتری کے شکار ہو چکے ہیں ۔ زبانیں تب اپنا وجو د قائم رکھنے میں کامیاب ہو تی ہیں جب اس کے بو لنے والے اس کے ساتھ عقیدت کا تعلق رکھتے ہوں اور اس سے کسی بھی صورت دستبردار ہونے کے لئے تیا ر نہ ہو ں۔ زبا نیں محض ہوا میں زندہ نہیں رہ سکتی ہیں بلکہ ان کا استعمال بو ل چال، تحریر وتصنیف کی شکل میں لاکر اس کو زندہ رکھا جا سکتا ہے ، وگرنہ یہ ہوا میں تحلیل ہو کر رہ جاتی ہیں ۔ کشمیری زبان کے احیاء اور تحفظ کے مشن کے علمبرداروں کو سب سے پہلے اس بات کوواضح کر نا ہو گا کہ آیا وہ جس مشن کو لے کر میدان میں کو د پڑے ہیں ،کیا وہ اس پر صد ق دل سے یقین اور ایما ن رکھتے ہیں ؟کیا اس حو الہ سے اُن کا قول اور عمل آپس میں مطا بقت رکھتا ہے ؟کیا اُن کا ظاہر و با طن اس حوالے سے ہم آہنگ ہے ؟ بظاہر ہمیں ایسا کچھ دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔ ہم ان کے قول و فعل میں کھلا تضاد پاتے ہیں ۔ اُن کے کہنے اور کر نے میں کو ئی بھی مطابقت دیکھنے کو نہیں ملتی ہے ۔ کیا ان کے بچے ان کے گھروں میں کشمیری زبان میں با ت کرتے ہیں ؟ کیا وہ اس کے لئے اُن کو اپنے گھروں میں اُبھارتے ہیں اور خود اُن کے ساتھ مادری زبان میں بات کرنے کی کو شش کر تے ہیں ؟ حقیقتیں اس کے برعکس ہیں بلکہ ان کے اپنے گھروں میں اس زبان کا کب کا جنا زہ نکا لا جا چکا ہے ۔ ان کے گھروں میں اُن کے بچے مادری زبان کے بجائے اردو اور انگریزی میں ہی بو ل چا ل کرنے کو ترجیح اور پسند کرتے ہیں جس کے لئے انہیں اپنے بزرگوں ، والدین اور اردگرد کے ماحول سے خا طر خواہ حو صلہ افزائی ملتی ہے ،حالانکہ ان غیر مقامی زبانوں میں وہ خال ہی صحیح انداز اورتلفظ میں بول چال کر سکتے ہیں ۔
ایک طرف ان کے اندر یہ کھلا تضاد پا یا جا تا ہے ، وہیں دوسری طرف کشمیری زبان کی فروغ بخشنے کا چمپیئن بنا دکھاوے کا یہ گروہ دیگر سول سوسائٹی ممبروں اور کشمیری زبان کے بغیر دوسری زبانوں میں لکھنے والے مصنفین اور قلم کاروں کو اپنے مشن میں شامل کرنے کی تجویز پر تلملا اُٹھتا ہے۔ مادری زبان کے احیاء اور تحفظ کا مشن گویا ان کی جاگیر بن چکا ہے، جس میں اُن کی مرضی کے بغیر کوئی شامل نہیں ہو سکتا ہے۔ یہ کو ئی مناسب طرز عمل نہیں ہے ،ا س سے اُن کے اندر پایا جانے والا تعصب اور عناد بخو بی جھلکتا ہے۔ یہ مزاجی روش ا کیڈیمی آف آرٹ ، کلچر اینڈ لینگویجز کی انتظامیہ کی نااہلی اور کام چوری کا بھی عکاس ہے۔اس ادارے پر چند مخصوص افراد کی طرف سے اجارہ داری قائم ہے۔ جموں و کشمیر کی اکیڈیمی آف آرٹ اینڈلینگویجز کی بھاگ ڈورپہلے سے ہی ان لو گوں کے ہاتھوں میں منتقل ہوتی رہی ہے جو صرف کشمیری زبان سے بو لنے کی حد تک بھی کم ہی واقف ہیں اور یہاں زمام کار سنبھال کروہ کسی اور ہی ا یجنڈے پر عمل پیرا ہوتے رہے ہیں ۔ کشمیر اور کشمیری زبان کی تاریخ، تمدن ، فن ، تہذیب ،ثقافت، فلسفہ، تصوف ، سماجیات، بشریات، ما حولیات ،آثار قدیمہ وغیرہ جیسے علوم وتخصصات سے ان کا کو ئی علمی تعلق رہا ہے اور نہ ان سے کبھی پالاپڑا ہے۔ یہ صورتحال حساس اداروں کی تئیں سرکار کی خود غرضانہ اور فرسودہ پالیسی کا آئینہ دار ہے ۔ نتیجہ یہ کہ فن ، زبان ثقافت سے منسوب یہ علمی و تحقیقی ادارے اپنے حقیقی اور منصبی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں معیار مطلوبہ سے اتنے ہی دور پڑے ہیں جتنا ایوریسٹ سمندر سے دور سمجھا جا سکتا ہے ،اس لئے اپنے اغراض و مقصد تو دور کی بات یہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں ۔ سچ یہ ہے ادارے سیاسی چا پلوسی اور اقرباء پروری کی آماج گاہ بنائے جا چکے ہیں جہاں منظور نظر افراد، نیم تعلیم یافتہ اور سفارشی عناصر کی تعیناتی روزمرہ کا معمول بنا ہوا ہے، بلکہ ان کے حوالے سے تقرریوں میں دھاندلیاں اور دیگر امراض بھی زبان زدِ عام ہوتے رہے ہیں ۔
کشمیری زبان کے محبان کہلانے والے اپنے بچوں کو کشمیری زبان میں تعلیم وتربیت کی افادیت کے حوالے سے خود ہی تحفظات اور دہرے پن کا شکار ہیں ۔ انہیں اس زبان میں اپنے بچوں کا تابناک مسقبل خال خال ہی نظر آتا ہے۔ وہ دل ہی دل میں کشمیری زبان کے بارے میں یہ اندھی سوچ رکھتے ہیں کہ یہ حقیر زبان ہے اور روزگارکے حصول کے لئے بھی غیر سود مندہے۔اس کے ذریعے اپنے بچوں کا کامیاب مستقبل تعمیر کرنادیوانے کا خواب دیکھنے کے مترادف ہے۔ یار دوستوں کی نجی محفلوں میں بھی یہ اس بات کا اعتراف کر تے رہتے ہیں کہ کشمیری زبان میں دنیاکی کلاسیکل زبانوں کے معیار تک پہنچنے کی سکت اور نہ ہی صلاحیت مو جود ہے ۔کشمیری زبان کو اس معیار تک پہنچنے میں ہزاروں سال درکارہو ں گے جب وہ سائنس دان ، ڈاکٹر ، انجنییر وغیرہ فراہم کر سکتی ہے ۔ بہرحال ان مطلبی یاروں کو ایک جانب چھوڑ کر ہمارے لئے وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی مادری زبان کی خلوص دل سے رکھوالی ہی نہ کریں بلکہ اپنے اپنے ذاتی مفاد کے حصول کے لئے کشمیری زبان کے مسئلہ کو سیاسی رنگ دینے سے بھی گریز کریں۔ ہاں اس بات کی نہایت ہی اہمیت ہے کہ ہم اپنے طلباء اور نئی نسل کو دیگر زبا نوں کے ساتھ ساتھ اپنی مادری زبان سیکھنے میں بھی قدمے سخنے درمے حوصلہ افزائی کر یں تاکہ آج کے مقابلہ جاتی دور میں وہ اپنی صلاحیت کا لو ہا ہمہ گیر انداز میں منوا نے میں کا میاب ہو سکے۔ زیادہ سے زیادہ مضامین اور زبا نیں سیکھ کر وہ اپنے وژن کو وسیع تر کر سکتے ہیں۔ گلوبل ایج کے رواں دور میں دنیا کے مختلف امورات کی فہم سے اسی ہمہ گیریت سے ہم روشناس ہو سکتے ہیں، نہ کہ کنوئیں کے مینڈک بن کر رہیں۔ آج کے ٹیکنا لو جی کے زما نے میں ہم انہی حوالوں سے دنیا بھر میں مو جود مواقع اور ذرائع تک رسائی حا صل کر نے کی پوزیشن میں آسکتے ہیں۔ ہمیں مشہور مورخ کلہن سے تحریک حاصل کر نی چا ہئے جس نے ہمارے اسلاف کو سنسکرت زبان سیکھنے کے لئے آمادہ کیا تاکہ وہ لوگ اُس زمانے میں روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع حا صل کر سکیں۔ اسی طرح عہد وسطیٰ کے زما نے میں جب ہمارے آباء و اجداد نے فارسی زبان حا صل کر کے وسط ایشائی علاقوں میں جا کر جہاں علوم دینی و عصری کا فیض حا صل کیا ،وہیںدیا رِ غیر میں دستیاب کسب معاش کے مواقع سے بھی مستفید ہو تے گئے۔ یہی اعتدال ، توازن اور معقولیت کی شاہراہ ہے جس پر گامزن ہوکر ہمیں آگے بڑھنا ہے۔
………….
نوٹ : مضمون نگار سابق بیروکریٹ ہونے کے علاوہ مورخ ، مصنف ، دانش ور اور کالم نگار ہیں۔