سرینگر// پاکستان نے ’’کشمیراورفلسطین کواقوام متحدہ کی ساکھ سے جڑے مسائل‘‘ قراردیتے ہوئے یہ واضح کیاہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی کوئی بھی حل قابل قبول نہیں ہوگا۔اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے کہا کہ اقوام متحدہ نے کشمیراورفلسطین سے متعلق اپنی قراردادوں پرعملدرآمد نہ کرایا توعوام کا اعتماد ختم ہوجائے گا۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے مشرق وسطی کی صورتحال پرمنعقدہ مباحثے کے دوران اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ کشمیراورفلسطین کے معاملے پراقوام متحدہ کی ساکھ خطرے میں ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر یہ دونوں مسئلے حل نہ کئے گئے تو لوگوں کا اقوام متحدہ پر اعتماد ختم ہوجائے گا۔پاکستان کی مستقل خاتون مندوب نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین سے متعلق اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کروائے۔ دوسری صورت میں پوری دنیا کے لوگوں کا اقوام متحدہ پر سے اعتماد ختم ہوجائے گا۔ملیحہ لودھی نے کشمیر، فلسطین یا دنیا میں کہیں بھی غیر ملکی تسلط کے زیر اثر زندگی بسر کرنے والے مظلوم انسانوں کی مسلسل حمایت کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ ملیحہ لودھی نے کہاکہ عالمی برادری فلسطینی پناہ گزینوں کی امداد کے لئے آگے بڑھے۔اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی کوئی حل قابل قبول نہیں۔ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ مشرق وسطی میں امن صرف منصفانہ فیصلوں سے ہی ممکن ہے۔انہوں نے واضح کیاکہ پاکستان کشمیر اور فلسطین کی اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ملیحہ لودھی کاکہناتھاکہ پاکستان غیرملکی قابضین کے خلاف جدوجہد کرنے والوں کے ساتھ ہے۔کچھ ممالک کی جانب سے اپنے سفارت خانوں کی مقبوضہ بیت المقدس منتقلی کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ اس سے مشرق وسطی میں سیکیورٹی کی صورتحال مزید خراب ہوئی۔عالمی منظرنامے پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ تنازعات میں شدت آرہی ہے اور نئے خطرات سامنے آرہے ہیں۔انہوں نے امریکہ کی جانب سے فلسطینیوں کی امدادمیں کی گئی کٹوتی کوافسوسناک قراردیتے ہوئے اسبات پرزوردیاکہ عالمی برادری فلسطینی پناہ گزینوں کی امداد کے لئے آگے بڑھے،۔ملیحہ لودھی نے کہا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 478 تمام ممالک کو یروشلم سے سفارتخانے ختم کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔انہوں نے کہاکہ بیت المقدس میں سفارتخانے کی منتقلی اسرائیل کے غیر قانونی قبضے کو دوام دینے کے مترادف ہے جبکہ سفارتخانوں کی مقبوضہ بیت المقدس منتقلی سے مشرق وسطی کی صورتحال مزید بگڑ جائے گی۔