۹ ؍ اپریل کو سری نگر میں ضمنی چناؤ کے خونین ڈرامے دوران آٹھ کشمیری جوانوں کے جان بحق ہونے کا المیہ ہر دل میں درد کی ٹیسیں اُٹھا تارہے گا۔ اس دوران جو درجنوں افراد زخمی ہوئے، کیا پتہ ان کی زندگیاں کن تکالیف اور مشکلات سے دوچار ہوں گی۔ اگرچہ بھارتی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ ہوائی قلعہ بناکر پیش گوئی کرر ہے ہیں کہ جموں و کشمیر میں ایک سال کے اندر حالات ٹھیک ہوں گے مگر اس میں کوئی دورائے نہیں کہ کشمیر میں دن بہ دن بگڑتے جا رہے ہیں اور یہ صورت حال اس وقت تک جوں کی توں رہے گی جب تک کشمیر قضیہ کا کوئی منصفانہ ، دیرپا اور قابل قبول حل نہیں نکالا جاتا۔ کشمیر میں ایک طرف بے گناہوں کا خون بہانے والے وردی پوش اور ان کے مقامی و غیر مقامی سیاسی سر پرست اپنے کام میں مست ہیں اور دوسری طرف اپنے حق کے لیے کشمیر کاز کے لئے اپنی جان دینے والے نوجوان بھی زندگی کی کوئی پروا کئے بغیر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ زمینی صورت حال یہ بنی ہے کہ نہ ہی قاتل کو اس بات کا خوف ہے کہ وہ قتل کرتا جا رہا ہے کیوںکہ اُسے کسی کاجوابدہی کا خوف ہی نہیں ، بے گناہ مقتولین کو بھی کسی قسم کا ڈر نہیں ان کی نعرہ بازی کر نے یا پتھر مارنے کی پاداش میں بہادر سینا ان کے سینے میں راست گولی پیوست کرکے انہیںہمیشہ کی نیند سلادینے پر اُتاؤلے ہیں۔ اس مخمصے میں۲۰۰۸ء سے لے کر آج ۲۰۱۷ ء کے ماہ اپریل تک جس چیز میں زیادہ شدت آئی ہے وہ یہاںکے عام لوگوں میں اپنے پیدائشی سیاسی حق حق خود ارادیت کے تئیںزیادہ بیداری اور ان کا مزاحمتی جذبہ ہے۔ اس ناقابل تسخیر جذبے کے تعلق سے حالیہ دنوں میں انڈیا کے باشعور لوگ ہی نہیں بلکہ یواین سیکرٹری جنرل ، امریکہ اور ایران بھی برملا واضح کرچکے ہیں کہ کشمیر میں حاالت امن بحال کر نے کے لئے ناراض لوگوں کے ساتھ سیاسی مکالمہ آرائی کا آغاز کیا جائے ، یاہں تک کہ امریکہ اور ایران نے ثالثی کی پیش کش بھی کی ۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر اسی طرح کشمیر کے نوجوان طبقے کے جذبات میں شدت آتی گئی تو ایک ایسا لاوا تیار ہو جائے گا جس سے نہ صرف وادی کشمیر میں بلکہ پورے خطے میں حالات زیرو زبر ہو سکتے ہیں۔ ویسے بھی آفاقی اصول ہے کہ جب ظلم کی انتہا ہو جاتی ہے تو مظلوم کی غیر ت کی ہانڈی میں اپنی کمزوریوں کے باوصف اُبال آجاتاہے اور وہ اپنی خاموشی توڑ کر احتجاج کی راہ سے نجات کا متمنی ہوجاتاہے ۔ عالمی تاریخ بھی گواہ ہے کہ جب ظلم حد سے گزر جائے تو کسی کمزورانسان یا قوم میں بھی جذبۂ حریت کی بدولت ایسی آہنی طاقت اور تاب ِ مقاومت آجاتی ہے جس کے آگے نہ کوئی بندوق اور نہ ہی کوئی فوج یا لاؤ لشکر معرکہ آرا ہونے کی جرأت کر پاتا ہے۔ فی ا لوقت اسی صورت حال کا منظر کشی جموں وکشمیر ہو رہی ہے۔ کب کیا ہو گا، کسی کو کوئی اندازہ ہی نہیں ہو رہا ہے، وادی میںچند ماہ طویل خاموشی دیکھ کر بھارت کی مرکزی حکومت یا ریاستی مخلوط سرکار یہ سمجھ بیٹھتی کہ’’ہم جیت گئے‘‘ لیکن الل ٹپ انہیں اپنے اندازوں اور قیاسات پر فخر کے بجائے مایوسی اور خوف کا شکار ہونا پڑاہے کیونکہ ۲۰۱۶ء کی گرمائی ایجی ٹیشننے ان کا ظن وتخمین کی عمارت دھڑام سے گرادی ہے۔ ۸ ؍جولائی ۲۰۱۶ء سے قبل اگرچہ کشمیر اکز حقوق کی پرامن جنگ بن کر رہ گئی تھی مگر کشمیری عوام برسر جدوجہد تھی ۔ جیسا کہ اوپر کی سطور میں تذکرہ ہوا ہے کہ یہاں کے حالات اتنے غیر یقینی ہیں کہ کب کیا ہو گا کسی کو خبر نہیں۔ اُدھرعوام کے کہ صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے، اور نوبت یہ پہنچی ہے کہ نوجوانوں کو اپنی جوانی کی پرواہ نہیں رہی ہے بلکہ وہ اپنے سلب شدہ سیاسی حق کے حصول کے خاطر اس قدر سخت ہو چکے ہیں کہ وہ جان تک قربان کرنے کے لیے تیار بہ تیار رہتے ہیں۔ یہ صورت حال کسی دیا سلائی کی منتظر تھی اور ۸؍ جولائی کو برہان مظفر کے جان بحق ہونے سے ایک ایسی آتشیں لہر اٹھی کہ پورے بھارت میں ہی نہیں بلکہ دنیا کے کونے کونے میں کشمیر شہ سرخیوںمیں آ گیا، دیکھتے ہی دیکھتے فوج اور پولیس کے ہاتھوں ۱۰۰ سے زائد لوگ خون نہلائے گئے ، ہزاروںکی تعداد میں نوجوان زخمی کر دئے گئے، جن میں سے سینکڑوں ایسے نوجوان بھائی اور بہنیں ہیں جو اپنی آنکھوں کی بصارت سے ہی محروم ہو چکے ہیں۔ یہ بھی کتنی درد انگیز حقیقت ہے کہ جو ہتھیار وحشی جانوروں پر استعمال کئے جاتے ہیں، انہیں وادیٔ کشمیر کے لوگوں پر استعمال کیا گیا، جو کالا قانون یعنی پی ایس اے مجرموں، ڈکیٹوں وغیرہ پر لگایا جا نے کے لئے شیخ عبداللہ کے ہاتھوں بنایا گیا تھا وہ ریاست جموں وکشمیر کے لوگوں پر دھڑا دھڑ نافذ کر دیا گیا۔ بچوں، بوڑھوں اور جوانوں کو جیلوں میں بند کر دیا گیا، لیکن کشمیر میں رہنے والے لوگوں کی شدتِ احتجاج کا انداز دیکھئے کہ تب سے لے کر آج تک اصل صورت میں نہ ہی اس عملی ا نتفاضہ میں کوئی کمی آئی ہے اور نہ ہی آنے کی کوئی امکان دکھائی دے رہا ہے ۔ روز بہ روز یہاں کے آزادی پسند نوجوانوں میں جذبہ ٔ مزاحمت شدت پکڑرہی ہے۔ اس صورت حال پر قابو میں کرنے کے لیے عقل وشعور کا تقاضایہی ہے کہ ایک سیاسی پہل کاری کی طرف بڑھا جائے اور کشمیر حل کی راہ میں اڑچنیں دور کی جائے،اس کے برعکس ارباب ِ اقتدار مار دھاڑ، پکڑ دھکڑ، خوف وہراس، قتل وغارت گری، ظلم واستحصال کے تمام آزمودہ حرنے استعمال میں لانے کے با وجود بھی حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔ حد یہ ہے کہ کشمیری نوجوانوں کا وہ طبقہ جو عسکریت کے میدان میں اپنی جان پر کھیل رہا ہے، ان کی تعداد میں بھی کمی کے بجائے مزید اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ اگرچہ حکومت ہند بار بار یہاں پر فعال کبھی دو سو تو کبھی تین سو عسکریت پسند قرار دیتی رہی ہے وت ان سے بھارت کا ٹیکس دہندہ اور عالمی برادری دونوں یہ پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ بابا دو سو یا تین سو عسکریت پسندوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی ریاست جموں وکشمیر میں دس لاکھ کے قریب فوجی کیوں تعینات ہیں؟ دو یا تین سو عساکرکا مقابلہ اور وہ بھی بقول حکومت ہند کے ایسے نوجوان جن کا کشمیری معاشرے میں کوئی وزن نہیں ہے، ان کے مقابلہ کے لیے پھر دس لاکھ کے قریب فوج کا معرکہ آراء ہونا سمجھ سے باہر ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ جب یہاں سیاسی عمل ٹھپ ہے تو ان گھمبیر حالات میں حکومت ہند کا یہاں وادی کشمیر میں دو پارلیمانی سیٹوں کی انتخابی دنگل کیا معنی رکھتا ہے؟ انتخابات کے تماشہ کس کشمیری کا بھلا ہو ا سوائے ا س کے کہ اسی بہانے خون خرابہ برابر جاری رہا۔ اور حال یہ ہو اکہ ووٹ نہیں تو جان ہی سہی، دو میں سے ایک چیز لینی تو ضروری ہے۔ پ پو چھا جاسکتا ہے کہ پُرامن احتجاجی مظاہروں کے دوران لوگوں پر راست گولیاں چلانا ووٹ نہ ڈالنے کے بدلے جان لینے والا معاملہ ہے، جس ملک یا قوم کا وطیرہ اتنا انتقامی ہو وہ ملک یا قوم نہ کبھی ترقی کر سکتا ہے اور نہ کسی امن وآشتی کی دہلیز پر پہنچ سکتا ہے بلکہ اس قوم کا حاصل آخر کار یہی ہوتا ہے کہ اس کے ہر فرد کی نفسیات پر خوف اور دہشت کا راج تاج رہتا ہے۔اس وقت یہی حال لگ بھگ پورے بھارت کاہے کہ جہاں نہ ہی لوگ امن وچین کی زندگی گزار رہے ہیں اور نہ ہی سیاست اک کوئی معیار، متانت اور وقار ہے، وجہ یہ ہے کہ ان کا طرزعمل اور طرز فکرایسا زہر ناک بن چکا ہے کہ وہ دوسروں کے خون سے ہولی کھیلنے میں انہیں ذہنی سکون ملتا ہے ۔ جو قوم ایسی جارحانہ سوچ اور ایسا مفسدانہ مزاجر ر کھتی ہو وہ قوم امن وچین اور تعمیر وترقی کا ہدف پائے تو کیسے پائے؟ایسے میں اشد ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ہند ریاست جموں وکشمیر میں خون کی ہولی کھیلنے سے باز آجائے اور یہاں کے لوگوں کی امنگوں کا احترام کرتے ہوئے انہیں ان کا وہ سلب شدہ حق دے دے جس کے لئے ستر سال بر صغیر کا امن ووٹ بنک سیاست ، فرقہ واریت، اکڑ ہٹ دھرمی اور ضد کی زنجیروں میں یر غمال ہے ۔ معقول ومنصفانہ امر حق یہی ہے کہ حکومت ہند پوری سنجیدگی کے ساتھ کشمیر حل کی طرف توجہ دیاور تینوں فریق سر جوڑ کر کوئی ایسا حل مر تب کریںجس میں کشمیر سمیت بر صغیرمیں رہنے والے تمام لوگوں کے لیے سکھ چین، امن واخوت کا پیغام ہو۔
email: [email protected]