عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//کشمیر کی زرخیز دھان کی زمینیں، جو کبھی وادی کے غذائی نظام کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی تھیں، تیزی کے ساتھ ہائی ڈینسٹی سیب کے باغات، رہائشی کالونیوں اور تجارتی عمارتوں میں تبدیل ہو رہی ہیں۔ اگرچہ اس تبدیلی سے بعض کسانوں کو قلیل مدتی طور پر زیادہ آمدنی حاصل ہو رہی ہے، مگر ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اس رجحان کے نتیجے میں کشمیر اپنی بنیادی غذائی ضرورت، یعنی چاول، کے لئے دیگر ریاستوں پر خطرناک حد تک انحصار کی طرف بڑھ رہا ہے۔ضلع پلوامہ کے متعدد دیہاتبشمول اچھن ، بارہ مولہ، نوپورہ، لاسی پورہ، لتر، نیلورہ اور عالی پورہ میں مقامی باشندوں کا اندازہ ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران قابلِ کاشت زمین کا پچاس فیصد سے زائد حصہ دھان کی کاشت سے ہٹ چکا ہے۔اسی نوعیت کے رجحانات اننت ناگ، کولگام، شوپیان، بڈگام اور وسطی کشمیر کے کئی علاقوں سے بھی سامنے آ رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ محض چند علاقوں تک محدود نہیں بلکہ پوری وادی میں پھیل چکا ہے۔ہائی ڈینسٹی سیب کے باغات، جنہیں جدید اور منافع بخش متبادل کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے، گزشتہ ایک دہائی میں تیزی سے بڑھے ہیں۔ کئی کسانوں کا کہنا ہے کہ دھان کی کاشت سے منافع کم ہونا، مزدوری کے بڑھتے اخراجات اور حکومتی تعاون کی کمی انہیں اس تبدیلی پر مجبور کر رہی ہے۔تاہم زرعی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ خوراک پیدا کرنے والی زمین کی مسلسل تبدیلی کشمیر کی غذائی خودمختاری کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔ایک سینئر زرعی ماہر نیکہ ایک طرف ہم ہائی ڈینسٹی باغبانی کو جارحانہ انداز میں فروغ دے رہے ہیں، اور دوسری طرف اپنی غذائی سلامتی پر سمجھوتہ کر رہے ہیں۔ سیب آمدنی دے سکتے ہیں، مگر چاول بقا کی ضمانت ہیں۔