عظمیٰ نیوزسروس
سرینگر//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے رائل سپرنگس گالف کورس، سری نگر میں جموں و کشمیر کے پہلے بین الاقوامی فلمی میلے کی کرٹن ریزرتقریب کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ یہ میلہ جموں و کشمیر کے سنیما سے تاریخی تعلق کو دوبارہ زندہ کرنے اور خطے کو فلم سازی کے لیے ایک پسندیدہ مرکز کے طور پر فروغ دینے کی جانب ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔تقریب میں چیف سیکریٹری اٹل ڈلو، وزیر اعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری دھیراج گپتا، معروف فلم ساز اور پدم شری اعزاز یافتہ مظفر علی، نامور فلم ساز و مصنف امتیاز علی، فلم ساز ساجد علی، ڈائریکٹر اطلاعات شریا سنگھل، سیکریٹری محکمہ اطلاعات منیر الاسلام، سیکریٹری رائل سپرنگس گالف کورس حارث احمد ہنڈو، جوائنٹ ڈائریکر اطلاعات شہنواز بخاری، سینئر سرکاری افسران اور فلمی صنعت سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ فلمی میلہ جموں و کشمیر اور فلمی صنعت کے درمیان ایک نئے اشتراک کا آغاز ہے۔ انہوں نے اس دور کو یاد کیا جب کشمیر بھارتی سنیما کا لازمی حصہ ہوا کرتا تھا۔انہوں نے کہا”ایک زمانہ تھا جب بالی ووڈ اور کشمیر ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم تھے۔
کوئی بھی فلم اس وقت تک مکمل تصور نہیں کی جاتی تھی جب تک اس کا کم از کم ایک منظر وادی کشمیر میں فلم بند نہ کیا جاتا۔ اگر پوری فلم یہاں نہ بھی بنتی تو کم از کم ایک یادگار گانا ضرور کشمیر میں فلمایا جاتا تھا‘‘۔عمر عبداللہ نے کہا کہ بین الاقوامی فلمی میلے کا مقصد اس تاریخی تعلق کو دوبارہ استوار کرنا، مقامی فنکاروں اور ہنرمندوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنا، تخلیقی معیشت کو مضبوط بنانا اور جموں و کشمیر کو عالمی سطح پر متعارف کرانا ہے۔انہوں نے کہا”ہمارا نقصان دوسرے ممالک کا فائدہ بن گیا۔ اگر کشمیر میں فلم سازی کا سلسلہ مسلسل جاری رہتا تو بہت سی فلمیں، جو دوسرے ممالک یا علاقوں میں بنیں، آج بھی یہاں بنتیں۔ اب ہم اس تعلق کو دوبارہ بحال کرنے کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں‘‘۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت فلم سازوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے پر کام کر رہی ہے، جس کے تحت فلم بندی کے اجازت ناموں کے طریقہ کار کو آسان بنایا جا رہا ہے، فلم سازی کے اخراجات کم کیے جا رہے ہیں اور مقامی نوجوانوں کو فلمی صنعت سے متعلق مہارتوں کی تربیت دی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا”ہمیں فلم سازوں کے لیے کشمیر آنا آسان بنانا ہوگا، یہاں فلم بندی کے اخراجات کم کرنے ہوں گے اور اپنے نوجوانوں کو ایسی مہارتوں سے آراستہ کرنا ہوگا جو فلم سازی میں معاون ثابت ہوں۔ اس سلسلے میں ضروری اقدامات پہلے ہی شروع کیے جا چکے ہیں‘‘۔معروف فلم ساز مظفر علی کے طویل عرصے سے زیر التوا فلمی منصوبے “زونی‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے خوشی کا اظہار کیا کہ اس ادھورے منصوبے کو اب مظفر علی کے صاحبزادے نے مکمل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فلم، جس کا تصور 1980کی دہائی کے اواخر میں ونود کھنہ اور ڈمپل کپاڈیا کو مرکزی کرداروں میں لے کر کیا گیا تھا، گزشتہ چار دہائیوں کے دوران کشمیر کو ایک نئے انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرے گی۔انہوں نے کہا”اگر مکمل ہونے والی فلم میں اصل تصور کی جھلک بھی موجود ہے تو یہ کشمیر کو اس انداز میں پیش کرے گی جس طرح گزشتہ کئی دہائیوں میں نہیں کیا گیا۔ اگر اس فلم کی نمائش کشمیر میں ہونے والے فلمی میلے میں ہوتی ہے تو یہ اس میلے کو ایک منفرد شناخت عطا کرے گی‘‘۔وزیر اعلیٰ نے یقین ظاہر کیا کہ بین الاقوامی فلمی میلہ مستقبل میں عالمی سطح پر اپنی ایک الگ شناخت قائم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ یہ میلہ آئندہ برسوں میں نہ صرف ملک کے نمایاں فلمی میلوں میں شمار ہو بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی پہچان بنائے، جبکہ اس کی سرگرمیاں جموں اور گلمرگ تک بھی وسعت دی جائیں۔انہوں نے کہا’’یہ پہلا فلمی میلہ ضرور ہے، مگر آخری ہرگز نہیں۔ بڑے فلمی میلوں کی اپنی ایک شناخت اور وقعت ہوتی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ آنے والے برسوں میں جموں و کشمیر بین الاقوامی فلمی میلہ ملک کے بہترین فلمی میلوں میں شامل ہوگا اور بعد میں دنیا کے ممتاز فلمی میلوں میں بھی اپنی جگہ بنائےگا‘‘۔وزیر اعلیٰ نے اس بات کا بھی خیر مقدم کیا کہ فلمی میلے کے دوران سری نگر ہوائی اڈہ معمول کے مطابق کھلا رکھا جائے گا، جس سے ملک اور بیرون ملک سے آنے والے فلم سازوں، فنکاروں اور مہمانوں کو سہولت میسر آئے گی۔تقریب کے دوران وزیر اعلیٰ نے فلمی میلے کی یادگاری اشیا (مرچنڈائز) کی بھی رونمائی کی۔واضح رہے کہ جموں و کشمیر کا پہلا بین الاقوامی فلمی میلہ7سے 10ستمبر 2026تک منعقد ہوگا۔