ممبئی+نئی دہلی/ایجنسیز/پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدرمحبوبہ مفتی نے جمعرات کو جنتر منتر پر احتجاجی طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی موجودہ جدوجہد نیشنل ایلیجیبلیٹی کم انٹرنس ٹیسٹ سے بھی بڑا امتحان ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ناانصافی اور بدعنوانی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں۔اپنے خطاب میں محبوبہ مفتی نے کہا کہ احتجاج میں شریک طلبہ اپنے گھروں اور خاندانوں کو چھوڑ کر شدید گرمی میں ایک بڑے مقصد کے لیے ڈٹے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا،’’آپ سب اپنے گھروں اور خاندانوں کو چھوڑ کر اس شدید گرمی میں پسینہ بہا رہے ہیں۔ یہی آپ کا سب سے بڑا نیٹ امتحان ہے۔‘‘محبوبہ مفتی نے اس احتجاج کو ایک ایسا امتحان قرار دیا جسے ایمانداری کے ساتھ کامیاب کرنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ تحریک کامیاب ہوئی تو مستقبل میں کوئی بھی نیٹ سمیت دیگر امتحانات کے پرچے لیک کرنے کی جرات نہیں کرے گا۔انہوں نے کہا،’’اس امتحان میں کوئی نقل نہیں ہونی چاہیے۔
یہی وہ پرچہ ہے جو آپ کو پاس کرنا ہے۔ اگر آپ اس امتحان میں کامیاب ہوگئے تو آئندہ کوئی بھی نیٹ کا پرچہ لیک کرنے کی ہمت نہیں کرے گا۔‘‘پی ڈی پی صدر نے اپنے خطاب میں حکمرانی کے نظام پر بھی تنقید کرتے ہوئے مبینہ بدعنوانی اور خواتین کے خلاف جرائم کا ذکر کیا۔انہوں نے کہا،’’پھر کوئی بھی رام مندر کے لیے دیے گئے چندے میں خردبرد کرنے کی ہمت نہیں کرے گا۔ کوئی بھی 12 سالہ بچی کے ساتھ 32 افراد کی اجتماعی زیادتی جیسے جرائم کی اجازت نہیں دے گا۔‘‘محبوبہ مفتی نے احتجاج کو آئین کے تحفظ کی جدوجہد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر مظاہرین کامیاب ہوتے ہیں تو یہ صرف ان کی نہیں بلکہ ہندوستان کے آئین اور جمہوریت کی بھی کامیابی ہوگی۔انہوں نے کہا،’’اگر آپ کامیاب ہوئے تو ہمارا آئین کامیاب ہوگا، بابا صاحب امبیڈکر کا آئین کامیاب ہوگا اور ہماری جمہوریت کامیاب ہوگی۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ یہ جدوجہد ان والدین کے لیے بھی ہے جو اپنے بچوں کی تعلیم اور کوچنگ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنی ضروریات قربان کرتے ہیں، اور ان طلبہ کے لیے بھی جن کی زندگیاں نیٹ تنازع کے باعث متاثر ہوئیں۔انہوں نے کہا،’’یہ ان والدین کی بھی کامیابی ہوگی جو اپنی خواہشات قربان کرکے آپ کی تعلیم پر خرچ کرتے ہیں، اور ان نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی بھی جنہوں نے نیٹ معاملے کی وجہ سے اپنی جانیں گنوائیں۔‘‘