اس گہری وادی میں تلاش کیلئے بھاری مشینری کا استعمال تاہم ناممکن:ڈپٹی کمشنر
کشتواڑ//کشتواڑ ضلع کے علاقہ دچھن کے ہونزڈ میں رونما ہوئے واقعے میں 19لاپتہ افراد کی تلاش 7ویں روز بھی جاری رہی تاہم آج بھی انھیں کوئی کامیابی نہیں ملی ۔اس دوران ضلع ترقیاتی کمشنر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس علاقے میں ریسکیو آپریشن جاری رہے گا اور اسے ختم کرنے کا فی الحال کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اپنے طرف سے پوری کوشش میں لگی ہے کہ لاپتہ افراد کو ڈھونڈ نکالا جاسکے تاہم اس گہری وادی میں کدھار ناتھ طرز پر مشینری کو ایر لفٹ کرکے کام میں لگانا ممکن نہیں ہے کیونکہ مشینری کو اس علاقے میں لینے کیلئے بڑے جہازوں کی ضرورت ہے جو وہاں ممکن نہیں ہے ۔ ان کا کہناتھا کہ این ڈی آر ایف و ایس ڈی آر ایف کی ٹیمیں اب دریا کے کنارے کو تلاش کریںگی کہ کہیں اگر لاشیں پانی کے بہائو کے ساتھ نیچے چلی گئی ہوں تو انھیں ڈھونڈ نکالا جاسکے۔ ڈی سی نے کہا کہ انتظامیہ نے دوسرے روز ہی علاقے میں پانی کی سپلائی کو بحال کرنے کی کوشش کی اور اس پرکام چل رہا ہے جو جلد مکمل ہوگا جبکہ بجلی کی سپلائی پر بھی کام جاری ہے۔ان کا کہناتھا کہ کچھ مکانات کو خطرہ ہے جسکے لئے انھیں دیوار لگاکر انھیں بچایا جاسکے جبکہ ریڈکراس فنڈس سے بیڈ، مٹرس ، کمبل ، ٹینٹ و دیگر سامان بھیجا گیا ہے ۔ڈی سی کا کہناتھا کہ اس واقعے میں ہلاک ہوئے افراد کے لواحقین کو لیفٹیننٹ گورنر کی طرف سے جاری کئے گئے5 لاکھ روپے کی امداد کو انکے کھاتوں میں ڈال دیا گیا ہے جبکہ زخمی افراد کو بھی جلد پیسے انکے کھاتے میں ڈالے جائیںگے جبکہ مکانات وزمین دیگر کا نقصان ،جو ایس ڈی آر ایف کے تحت ہے ،انھیں بھی جلدہی معاوضہ دیا جائے گا۔