کشتواڑ//کشتواڑ انتظامہ کی جانب سے لگائے گئے ہفتہ وار کرونا کرفیو کے تیسرے دن بھی اگرچہ پولیس نے سخت بندشیں عائد کی اور بلاجواز بازاروں میں گھومنے والوں پر سختی کی تاہم نرمی برتنے کے ساتھ ہی بازاروں میں لوگوں کی بھاری بھیڑ امڈ آئی ۔اگرچہ آج بھی سبزی، پھل، مرغ، گوشت، بیکری ، دودھ و کریانہ کی دوکانوں کو دس بجے تک کھولنے کی اجازت تھی تاہم بازاروں میں لوگوں کی بھاری بھیڑ عید کی میں خریداری کرتے ہوئے دیکھی گئی جس دوران گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں جبکہ دورافتادہ علاقہ جات سے خریداری کرنے آئے لوگوں کو بھی سخت مشکلات اٹھاناپڑیں۔ قصبہ کے سبھی اے ٹی ایموں کے بھاری بھیڑ دیکھی گئی جبکہ ایس او پیز کی بھی دوکانوں و بازاروں میں کھلے عام خلاف ورزی کی گئی۔ اگرچہ عوام یہ امید کررہی تھی کہ کرونا کرفیو میں ڈھیل کے اوقات کار کو مزید بڑھایا جائے گا جبکہ یہ افواہ بھی چلی کہ ڈھیل کو دس بجے سے ا یک بجے تک بڑھایا گیا ہے لیکن دس بجتے ہی پولیس نے سبھی دوکانیں بند کرائیں اور لوگوں کو واپس گھروں میں جانے کو کہا جسکے کے بعد پولیس نے سختی کرتے ہوئے کئی مقامات پر خاردار تار لگائی اور لوگوں کے چلنے پر قدغن لگائی جبکہ کئی گاڑیوں کو بھی پوچھ تاچھ کے بعد چلنے کی اجازت دی جانے لگی۔ادھر قصبہ میں آج بھی ادویات کی دکانیں دن بھر کھلی رہیں جبکہ دیگر دوکانیں ، تجاراتی مراکز ،ٹرانسپورٹ آج بھی مکمل بند رہا۔قصبہ کے ساتھ ضلع کے دیگر علاقہ جات میں بھی کرونا کرفیو مسلسل جاری ہے۔ کشتواڑ کے چھاترو ، مغل میدان، پاڈر ، ٹھکرائی ، درابشالہ ، بونجواہ و دیگر علاقوں میں بھی کرونا کرفیو کا نفاد عمل میں لایا گیاتھا جس دوران تمام تر تجارتی مراکز دس بجے کے بعد بند رہے۔