کشتواڑ/ / آوارہ کُتوں نے کشتواڑ کے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔مقامی مونسپل اہلکار بھی اس بات کا اعتراف کرچکے ہیںکہ ان آوار ہ کُتوں کی وجہ سے نہ صرف عام لوگوں کو کافی پریشانیاں ہوتی ہیںبلکہ پیدل چلنے والوں کے لئے بھی کافی پریشانیاں پیدا کرتے ہیں۔قصبہ کے مقامی لوگوں کے مطابق ان کُتوں نے ہر گلی پر حملہ کرکے لوگوں کا جینا محال بنادیا ہے اور کارپوریشن کے اہلکار یہ سب کُچھ خاموش تماشائی بن کر دیکھتے ہیں۔تاہم سکول جانے والے متعدد طلاب نے کہا ہے کہ فیصل آباد، بس اسٹینڈ، ہدیال اور شہیدی چوک سے سکول کی جانب راستے پر کتوں نے قبضہ کرکے رکھا ہے اور طلاب میں دہشت پھیلا کے رکھی ہے۔اُن کا کہنا ہے کہ گلیوں کے کُتے سکولوں اور کالجوں کی سڑکوں پر صُبح و شام گھومتے رہتے ہیں۔ا یک مقامی شہری عاقب نبی نے کہا کہ ان سڑکوں پر کُتوں کے تعداد کا کوئی تخمینہ نہیں ہے ،تاہم ان کی تعداد میں روزبروز اضافہ ہو رہا ہے۔انہوںنے کہا کہ آوارہ کُتے بھی مارننگ اور ایوینگ واک کرنے والوں کے لئے بھی ایک خطرہ بن گئے ہیں۔اُس نے کہا کہ گوشت کے دوکانوں اور چکن دوکانوں کے نزدیک کتوںکی ایک بڑی تعداد جمع ہوتی ہے اور الزام لگایا کہ یہ دوکاندار ان کتوں کو کچا مال فراہم کرکے پالتے ہیں ،جس کے بعد یہ کُتے مقامی علاقہ میں خوف و دہشت پھیلاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دو روز قبل آوارہ کتوں کی ایک ٹولی نے ہدیال چوک کے پاس ایک بائیک سوار کو کاٹا ،جسکی وجہ سے اُسے فسٹ ایڈ کے لئے ہسپتال منتقل کیا گیا۔لوگوں کا کہنا ہے کہ آوارہ کتوں کے ڈر سے وہ اپنے چھوٹے بچوں کو سکول نہیں بھیجتے ہیں۔ علاقہ کی خواتین اور بزرگ شہریوں کا کہنا ہے کہ ان آوارہ کتوں نے مارکیٹ کے علاقہ اور بچوں کے ذہنوں میں ڈر پیدا کیا ہے۔کشمیر عُظمیٰ سے بات کرتے ہوئے ایک مقامی باشندے اکرم عزیز نے کہا کہ جب وہ صُبح کی نماز ادا کرنے کیلئے مسجد جاتے ہیں، تو اُن پر آوارہ کتوں کا خطرہ بنا رہتا ہے اور بعض اوقات وہ نمازیوں پر حملہ بھی کرتے ہیں۔انہوں نے کشتواڑ کے ضلع انتظامیہ بشمول میونسپل حُکام سے اس معامہ کی جانب سنجیدگی سے توجہ دیکر لوگوں کو ان آوارہ کتوں کے خوف سے بچانے کی اپیل کرکے آوارہ کتوں سے فوری طور بچائو کرنے کو کہا ہے۔