اسلام ایک دائمی و فطری دین ہونے کے علاوہ دین رحمت بھی ہے۔ اسلام ابتداء کائنات سے تا ازل قائم رہنے والا دین ہے۔ قرآن کریم جو انسانیت کے لیے نور و دستور ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اسوہ حسنہ ہیں۔ یہ دونوں اس دین کے وہ دو بنیادی منبعے (primary sources) ہیں ،جو تمام انسانوں کے لیے ماضی حال و مستقبل میںا ٓئے درپیش مسائل کے سامنے رہنمائی کے لیے کافی ہیں۔ اس میں کسی ترمیم کی ضرورت نہیں۔ اس دین مبین کی حفاظت بھی خالق کائنات نے اپنے ذمہ لی ہے۔ یہ دین اپنے ماننے والوں کو سوچ بچار، غور وفکر ، مشاہدہ و کوشاںکرنے کی دعوت دیتا ہے۔ اس میں عقلمندوں (Intellectuals) کے لیے نصیحت بھری ہے۔اسی طرح اللہ رب العز ت سورہ النساء کے اندر سوالیہ اندازمیںغوروفکرکرنے کے لیے حکم فرماتا ہے ۔علامہ ابن کثیر کے نزدیک قرآن میں غوروفکر نہ کرنا بھی گویا ترک قرآن ہے یعنی یہ عالم یوں ہی بے تدبیر (Planless) نہیں بنایا گیاہے۔
اسلام ہماری مادّی فلاح اور بدنی صحت کے لئے بھی ایک بہترین اور مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ یہ ایک صحت مند معاشرہ کے ساتھ ساتھ صحت مند انفرادیت پر بھی زور دیتا ہے۔ صفائی ، اخلاق، لباس، قول و فعل اور اشیاء ضرورت کے ساتھ ساتھ تمام شعبوں میں انسانی ماحول کو صاف و شفاف رکھنے کی ترغیب کرتا ہے۔ اس پر عمل پیرا ہونے سے نہ صرف ہم اخلاقی و روحانی بلکہ سیاسی و معاشی زندگی میں بھی عروج حاصل کر سکتے ہیں اور جسمانی سطح پر صحت و توانائی کی دولت سے بھی بہرہ ور ہو سکتے ہیں۔
حفظان صحت کے اصول و ضوابط:
صفائی کو ایمان کا لازمی جزو (الصحیح لمسلم، 1: 118) قرار دے کر حفظانِ صحت کے اُصولوں کا پہلا قدم اور پہلا اصول طہارت ہے۔ اسلام حفظانِ صحت اور احتیاطی طبی تدابیر پر زور دیتا ہے۔ قرآنِ مجید کا ہر ایک لفظ حقائق پر مبنی ہے اور اپنے اندر معانی کی لاتعداد وسعت رکھتا ہے جن کے مُشاہدے کے لئے علم اور دانش کی ضرورت ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ''اور ہم نے آپ پر وہ عظیم کتاب نازِل فرمائی ہے جو ہر چیز کا بڑا واضح بیان ہے''ـ۔ (النحل، 16: 89)
حفظان صحت برقرار رکھنے کے لیے صیح خوراک کھایا جائے۔قرآن کے مطابق پاکیزہ چیزیں کھائو (البقرہ: 172) تو تندرست رہنے کا راز اسی میں مضمر ہے یعنی صرف حلال ہی کھایا جائے حرام چیزوں سے اجتناب کریں۔ حرام چیزوں (المائدہ: 5) کے علاوہ اپنے آپ کو مشتبہ چیزوں سے بھی دور رکھو۔ حفظان صحت کا خاص خیال کرتے ہوئے قرآن کے احکامات کے مطابق کھانے کی مقدار کو بھی ملحوظ نظر رکھا جائے تاکہ بیماریاں پھوٹ پڑنے کے امکانات پیدا ہی نہ ہو سکے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ '' کھائو ، پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو''۔ (العراف:31) کیوں کی حد سے بڑھنے والے نہ صرف گندہ معاشرہ تشکیل دیتے ہیں بلکہ اللہ کے غیض و غضب کا حق دار بھی بنتے ہیں۔
یہ ایک مسلّمہ امر ہے کہ قرآن اور احادیث میں ہر علم و فن کے لئے اِشارے موجود ہیں مگر اُنہیں سمجھنے کے لئے تحقیق اور بصیرت کی ضرورت ہے۔ اِسلام کی عمومی تعلیمات بنی نوع انسان کی فلاح کے لئے حفظانِ صحت کے اصولوں کے عین مطابق ہیں جنہیں قرآنِ مجید اور پیغمبرِ اسلام نے آج سے چودہ سو سال پہلے سادہ لفظوں میں اپنی اُمت کو واضع فرمایا ہے۔ جدید سائنس اب اُن زرّیں اُصولوں کی اِفادیت سے آگاہ ہوئی ہے۔
طبی نکتہ نگاہ سے مسلسل تحقیقات کا جاری رکھنا اور ہر بیماری کا علاج ڈھونڈ نکالنا ایک مسلمان پر فرض ہے۔ موت کے سوا کوئی بیماری لا علاج نہیں ہے۔ اِس حوالے سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ ''اللہ نے ایسی کوئی بیماری نہیں اُتاری جس کی شفاء نازل نہ فرمائی ہو''۔ (صحیح البخاری، 2: 847 و جامع الترمذی، 2: 25)
یہ حدیثِ مبارک بنی نوع انسان کو ہر مرض کی دوا کے باب میں مسلسل تحقیق و تجربات کو جاری رکھنے پر آمادہ ( Inspire,motivate) کرتا ہے۔ یہ تصور دیناکہ بعض بیماریاں کلیتاً لاعلاج ہیں، ایسے تصور کو اِسلام نے قطعی طور پر بے بنیاد اور غلط قرار دیا ہے۔ اپنی تحقیق سے کسی مرض کا علاج دریافت نہ کر سکنے پر مرض کو ناقابلِ علاج قرار دینا جیسے ایڈز، کوڑھ وغیرہ جہالت کی علامت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔
وضو حفظانِ صحت کے زرّیں اُصولوں میں سے ہے۔ یہ روزمرہ کی زندگی میں جراثیم کے خلاف خصوصاً کروناوائرس کیلئے ایک ڈھال ہے۔ اسی طرح کھانا اور پینے کے لیے صاف صفائی کا خیال رکھنا، پھونک نہ لگانا، اسلام کی تعلیمات میں سے ہے۔ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنا معمول بھی یہی رہا ہے۔ جدید دور کے موجودہ طبی سائنس کے مطابق بھی کھانے پینے کی چیزوں میں پھونک نہیں مارنی چاہئے کیونکہ اس سے بیماری کے جراثیم اشیائے خورد و نوش میں منتقل ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دانتوں کی صفائی پر بہت زور دیا۔ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا کہ ''اگر میں اپنی اُمت پر باعثِ دشواری نہ سمجھتا تو اُنہیں ہر نماز میں دانتوں کی صفائی کا حکم دیتا''۔ (صحیح البخاری، 1: 122)
اسلام میں کروناوائرس کی رہنمائی :
قارئین حضرات یہاں! بات ان امراض کی کرتے ہیں جو متعدی یعنی ایک دوسرے سے منتقل ہونے والے اور بڑے مہلک ثابت ہوتے ہیں۔ موجودہ دور میںایسے بہت سے امراض کا دائمی، مہلک و متعدی ہونا مشاہدہ میں آچکا ہے اور ان امراض کے جراثیم تیزی سے پھیل رہے ہیں جیسے ایڈذ، سوائن فلیو، بارڑ فلیو ، عبولا،زکاوائرس،یا اب کرونا وائرس ۔ کرونا وائرس جس نے شہر و دیہات، صحرا و بیابان میں خوف و تذبذب کا ماحول پیدا کیا ہے اصل میں کووڈ ۔۱۹ (COVID-19) یا ناول کرونا وائرس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ کرونا وائرس دسمبر 2019 میںسب سے پہلے چین کے شہر ووہان (صوبہ حبلی) میں چمکادڑ یا کسی دوسرے جانور یا سمندری خوراک (Sea-foods) کے کھانے سے باعث وجود میں آیا ہے۔ یہ وائرس اپنا اثر بڑی تیز رفتاری کے ساتھ دکھاتا ہوا نظر آیاہے۔ جس کی وجہ سے تا تحریر دنیا کے ایک سو نو (109) ممالک متاثر ہو چکے ہیں اور چودہ ممالک میں ہزاروں افراد کے موت واقع ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ جن میں سب سے زیادہ چین اور اس کے بعد ایران، اٹلی اور جنوبی کوریا بالترتیب شامل ہیں۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ''کوئی مرض(اپنی ذات سے) مُتعدی نہیں ہوتا۔'' (بخاری: 5773)
چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مرض کے بذاتہٖ مُتعدی ہونے کی نفی فرمائی تو ایک اَعرابی نے سوال کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم! اُونٹ ریگستان میں ہرن کی طرح اُچھل کود کررہے ہوتے ہیں کہ کوئی خارش زدہ اونٹ ریوڑ میں گھس جاتا ہے اور اُس کے نتیجے میں سارے اونٹ خارش کی بیماری میں مبتلا ہوجاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ 'پہلے اونٹ کو خارش کہاں سے لگی-‘ (مسلم:2220)
اس کا مطلب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مرض کے مُتعدی ہونے کی نفی نہیں فرمائی بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی طرف متوجہ فرمایا اور بتایا کہ عالَم اسباب مُسبِّبُ الاسباب کے حکم کے تابع ہے۔ کیوں کہ جانور توہر دور میں رہے ہیں اور رہیں گے لیکن ایک خاص موقع پر ایسے وائرس کا پیدا ہونا اور انسانوں میں منتقل ہونا ہر سلیم الفطرت انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ آخر کار یہ کروناوائرس پہلے کہاں سے لگا ؟ ہمیں اپنا ذریعہ معلوم ہوگیا لیکن چمکادڈ یا دوسرے سمندری جانور کویہ وائرس کہاں سے لگا؟ یہی سوال یہاںایک عقل سلیم رکھنے والے انسان کو اللہ تعالیٰ کی مشیت اور تقدیر کی کارفرمائی تسلیم کرنے پر مجبور کرتی ہے اور انسان کواس خالق کاکن فیکون صفت ماننا ہی پڑتا ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ شام کے سفر پر جا رہے تھے سَرغ نامی بستی سے آپ ؓکا گزر ہوا تو حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ اور اُن کے ساتھیوں نے بتایا کہ اس بستی میں طاعون کی وباء پھیل گئی ہے۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین سے سے مشورہ کیا اور پھر اجتماعی مشاورت سے اُنہوں نے بستی میں داخل نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔ حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے کہا:امیر المومنین! اللہ کی تقدیر سے بھاگ رہے ہو۔ آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ہاں! اللہ کی تقدیر سے بھاگ کر اللہ کی تقدیر کی آغوش میں پناہ لے رہاہوں۔پھر حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آئے اور اُنہوں نے کہا: اس حوالے سے میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی ہدایت موجود ہے ،آپ صلی اللہ علیہ و نے فرمایا کہ ''جب تم کسی بستی میں اس وباء کے بارے میں سنو،تو وہاں نہ جائو اور اگر تم پہلے سے وہاں موجود ہو اوریہ وباء پھیل جائے تو وہاں سے بھاگ کر نہ جائو ۔ ‘‘ یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کا شکر اداکیا اور اپنا سفر آگے کی طرف جاری رکھا۔ (مسلم‘ 221)
اللہ کی نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے کہ''بیمار کو تندرست سے الگ رکھاجائے''۔ (مسلم:2221)
اس حدیث مبارک میں براہ راست وہ احتیاطی تدابیرموجود ہے جو جدید دورکے طبی عملہ انجام دے رہا ہے۔ جیسےIsolation Wards یا انتہائی نگہداشت یا دیگر الگ تھلگ مراکز کا قائم کر نا۔ تا کہ وبائی امراض کو مزید پھیلنے سے روکا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے فرمان کا مقصد ہے کہ کسی وبائی مرض میں مبتلا مریض سے احتیاط تو کی جائے، لیکن اُس سے نفرت نہ کی جائے بلکہ حوصلہ دیا جائے۔
کروناوائرس اور احتیاطی تدابیر:
اس وقت کرونا وائرس کا خوف پوری دنیا پر مسلط ہوا ہے۔ حکومتی سطح پر ہنگامی صورتحال دیکھنے کو ملتا ہے۔ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے اقدامات اٹھائے جاتے ہیں۔ بیو میٹرک حاضری لگانا بند ہوئی ہے۔ بہت سارے تعلیمی اداروں کو بند کرنے کے احکامات صادر ہوئے ہیں۔ معاشیات میں گراوٹ آچکی ہے۔ بیرون ممالک سے آنے والوں پر کڑی نظر رکھی گئی ہے۔ منہ پر ماسک برقرار رکھنے کے لیے بتا گیا ہے۔بھیڑ بھاڑ کرنے، ہاتھ ملانے، کچا گوشت کھانے، بنا اُبال کے پانی پینے سے منع کیا گیا ہے۔ صفائی کا خاص خیال رکھنے، کھانسی، بخار یا زکام ہونے پر فوراً نزدیکی طبی مراکز کی طرف رجوع کرنے کے لیے صلح دی گئی ہے۔
اس مہلک وباء سے بچاؤ کے لئے اِسلام نے آج سے چودہ سو سال پہلے خاص طور پر توجہ دلائی ہے۔ جدید سے جدید تر قانون بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔ اس وقت عالم دنیا میں ظلم و جبر کا قہر، بے شرمی و بے حیائی کا نہ تھمنے والا سلسلہ، عروج بام پر سودی کاروبار، انصاف سے خالی عدلیہ، رشوت خوری سے ناپاک دفاتر، خالق کائنات سے دوری، قرآن سے ترک تعلقات اور ختم الرسل محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ و سلم کی نافرمانی ہر طرف دیکھنے کو ملتی ہے۔ جو کسی عذاب الٰہی کے بغیر ہٹنے والی نہیں۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت کرتے ہیں کہ ''جس قوم میں زنا اور سود پھیل گیا انہوں نے یقیناً اللہ کا عذاب اپنے اوپر اتار لیا۔'' (مجمع الزوائد؛ 118 / 4)
اسلام نے قبل از وقت ان مہلک وبائی بیماریوں یا طاعون جیسے عذاب الٰہی سے آگاہ کر دیا ہے۔ قرآن کریم کا ارشاد ہے کہ:
''پھر اتاری ہم نے ان ظالموں پر آفت الٰہی (طاعون، وباء یا مہلک بیماری)'' باوجود ان کے اس نافرمانی کے۔'' (القرآن؛ 2:59)
سورۃ البقرہ کے اس آیت مبارکہ میں رب الزوالجلال نے لفظ ''رجز'' کا استعمال کیا ہے یعنی بصورت طاعون،وباء یا مہلک بیماری والا عذاب بنی اسرائیل کے ایک گروہ پر نازل کیا ہے۔ بقول مفسرین قرآن ''رجز کے معنی ہے وہ چیز جس سے لوگ نفرت کرے اور طبیعت اس سے متنفر ہو جائے۔ اس مہلک وباء سے قوم بنی اسرائیل کے کم و بیش ستر (70) ہزار لوگ مر گئے تھے''- (التفسیر المظہری ج/1، ص/74) ڈاکٹر وہبہ بن مصطفٰی الزحیلی لکھتے ہے کہ ''ان کو یہ سزا دی گئی ہے کہ آسمان سے عذاب الٰہی نازل ہوا جس سے 'رجز' کہا گیا ہے۔ مفسرین کے نزدیک یہ عذاب طاعون تھا جو ان کے گناہوں اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے سبب ان پر نازل ہوا تھا۔'' (تفسیر المنیری ج/1، ص/183)
حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ ارشاد فرمایا کہ ''طاعون ایک بصورت عذاب ہے جو بنی اسرائیل کے ایک گروہ پر نازل ہوا تھا، لہذا جب تم کسی علاقے میں اس کے متعلق سنو تو وہاں مت جاؤ اور اگر کسے علاقے میں طاعون پھوٹ پڑے تو فرار اختیار کرتے ہوئے وہاں سے نہ نکلو''- (سنن أبی داؤد، کتاب الجنائز، باب الخروج من الطاعون 3103 اور صحیح مسلم،کتاب السلام، باب الطاعون: 2218)
اس طرح خیر الانام ختم الرسل رحمت للعالمین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس وقت نہایت ہی سادہ الفاظوں میں امت مسلمہ کو سمجھایا ہے کہ خود بھی بچو اور دوسروں کے لیے بھی بچاؤ کی کاروائی انجام دیتے رہنا۔ یعنی اس وباء کے پھیلاؤ کا سبب نہ بننا ۔ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ لوگوں کا عقیدہ خراب نہ ہو اور وہ بذات خود بیماری کو مؤثر نہ ماننے لگیں۔ اللہ نہ کرے اگر کسی کو اس بیماری کا اثر ہوگیا تو مبادا وہ یہ نہ سمجھ لے کہ یہ بیماری بذات خود مؤثر ہے۔ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ ایسا باذن اللہ تعالیٰ بیماری کے متعدی ہونے کے باعث بھی ہو سکتا ہے۔
خلاصہ حاصل کلام یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا منع فرمانا بد شگونی کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اس میں اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالنے سے ممانعت ہے۔ خواہ مخواہ اپنے آپ کو اس تکلیف میں مبتلا ہونے کے لیے پیش نہیں ہونا چاہیے۔ حال ہی میں تمام ممالکوں نے کرونا وائرس زدہ علاقوں کو سیل کر کے اِسی نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کے احتیاطی تدابیر کو اہمیت دے کر لوگوں کو آنے اور جانے سے روکا ہے۔ قارئین یاد رہے کہ صوبہ جموں سے جو دو افراد متاثر ہوئے وہ حال ہی میںاٹلی اور جنوبی کوریا اور اسی طرح لداخ سے متاثرہ دو افراد ایران سے یہاں وارد ہوئے تھے۔ بے شک وہی ہوگا جو اللہ رب العزت کومنظور ہوگا۔ لیکن کیا خوب ہوتا جو فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہاں پر عملایا جاتا۔
اللہ ربّ العزت تو خود حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اُمی کہہ رہا ہے تو دوسری طرف جدید سائنس اسلام کی تعلیمات کے سامنے فرسودہ ثابت ہو رہا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ پاک کی تعلیم کا مبدا اور سرچشمہ اللہ کی ذات تھی۔ آقا علیہ الصلوۃُ والسلام کی حیاتِ طیبہ کے وہ اُصول جو آج اپنے گوناگوں فوائد کے ساتھ منظرِعام پر آ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے آج سے چودہ سو سال قبل بغیر کسی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کئے بیان فرمایا ہے۔ ایسے میں ہم یہ کیوں نہ تسلیم کریںکہ قرآن حکیم کے احکامات اور سرورقونین صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ارشادات حق اور درست ہیں جو آج ہم عصر زمانے کے لئے بھی موذوں و موافق ہے اور آنے والے زمانے کے لئے بھی کارگر و سودمند ثابت ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر قسم کی موزی بیماریوں سے بچنے کے لیے قبل ازوقت یہ دعا بھی سکھائی کہ'' اے میرے اللہ! میں برص سے، دماغی خرابی سے، کوڑھ سے اور ہر قسم کی بری بیماریوں سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں'' ۔ (ابودائود: 1554)
جن حضرات کے احباب و اقارب بیرون ممالک خصوصاًچین، ایران ،جنو بی کوریا ، اٹلی یا کسی دوسرے متاثر زدہ علاقے میں مقیم ہیں ،انہیں پیغمبر الاسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے مطابق صبر وتوکل کرتے ہوئے وہیں رکنے کے لیے حوصلہ دینا چاہیے بجائے اس کے کہ یہاں آنے پر مجبور کیا جائے۔ مزید شیخ الاسلام جسٹس مفتی تقی عثمانی دامت برکاتہم کے صلح و مشورے کے مطابق اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ و استغفار، دعائوں کا احتمال اور خاص طور پر اسم اعظم'' لا الاہ الہ انت سبحانک انی کنت من الظالمین'' کی بکثرت ذکر کریں۔ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ اللہ کی طرف رجوع کیا جائے، نمازوں کی پابندی بنائی جائے،عمل صالحات کی طرف خاص توجہ دی جائے، امر باالمعروف و نہی عن المنکر انجام دیا جائے، حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد بھی ادا کریں، والدین کی نافرمانی سے بچے، شرک جیسے گناہ عظیم اور بے لذت گناہوں سے بچنے کی ترغیب علماء حق سے حاصل کریں۔ احتیاطی تدابیر کو اپناتے ہوئے اللہ کے ہاں سر بسجود ہوکر اپنے ایمان و یقین کی حفاظت کرتے ہوئے کرونا وائرس جیسے عذاب الٰہی سے نجات حاصل کریں۔
ہاری پاری گام ترال
فون نمبر۔9858109109