انقرہ // ترک صدر طیب رجب اردگان نے کہا کہ ترکی شام سے متصل اپنی پوری سرحد کو 'صاف' کردے گا۔مسٹر اردگان کے بیان کے بعد شام کے شمال میں واقع عفرین علاقے میں شامی کردش وائی پی جی کے خلاف ترکی کی مہم اور تیز ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا، "آہستہ آہستہ ہم اپنی پوری سرحد کو صاف کر دیں گے ''۔ اس سے پہلے فوج نے جبیل برسیہ پہاڑی پر قبضہ کر لیا۔ ترکی میڈیا نے حالیہ دنوں میں اسے ایک اہم مقام کے طور پر بیان کیا تھا۔ترکی کی جانب سے نو دن پہلے عفرین علاقے میں کئے گئے حملے کے بعد انقرہ اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو اور بڑھا دیا ہے ۔ امریکہ اسلامک اسٹیٹ کے خلاف شام کے دیگر علاقوں میں مہم چلانے کے لئے وائی پی جی کی حمایت کرتا ہے ۔ ترکی حملے میں ایک ہی خاندان کے تین افراد ہلاک ہو گئے تھے اور ایک مشہور قدیم مندر منہدم ہو گیا تھا۔شام کے کرد حکام نے کسی بھی بڑے ترکی حملے کے جواب میں 'مناسب جواب' دینے کی بات کہی ہے ۔ دریں اثناء شام کے شمال مغربی علاقے عفرین میں ایک کرد جنگجو عورت نے ترک فوجیوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے خودکش بم حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں دو ترک فوجی مارے گئے ہیں۔امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اس بیس سالہ کرد عورت کی شناخت زولوخ حمو کے نام سے ہوئی ہے اور وہ افیستا حبور کے نام سے شامی جمہوری فورسز (ایس ڈی ایف ) کے تحت ترک فوج کے خلاف لڑائی میں شریک تھی۔کرد جنگجو عورتوں کی تنظیم ویمن پروٹیکشن یونٹس ( وائی پی جے) ایس ڈی ایف کا حصہ ہے اور اسی تنظیم نے ایک بیان میں اس خودکش بمبار عورت کے ترک فوجیوں پر حملے کی اطلاع دی ہے۔کرد عورتیں مردوں کے شانہ بشانہ پہلے داعش کے خلاف لڑتی رہی ہیں اور اب ترک فوج کے خلاف لڑرہی ہیں۔اخبار نے لکھا ہے کہ اگر اس بیان کی تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ کردوں کا شام میں ترک فوج کے زمینی دستوں کے داخلے کے بعد پہلا خودکش بم حملہ ہوگا۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ہیمو نے ترک فوج کے ایک ٹینک کے نیچے دستی بم پھینکا تھا۔اسی وجہ سے برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے کہا ہے کہ بظاہر یہ خودکش بم حملہ نہیں لگتا۔نیویارک ٹائمز نے زولوخ حمو کے یونٹ کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں اس کو ایک ہیروئین قرار دیا گیا ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ ’’ ہیروئین افیستا نے ٹینک پر حملہ کیا تھا اور اس کے ساتھ خود کو دھماکے سے اڑا دیا ہے۔وہ آزاد کرد عورتوں کے لیے ایک نمونہ تھی’’۔تاہم عراق اور شام میں موجود امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد نے اس خودکش بم حملے کی تصدیق نہیں کی ہے۔یہ اتحاد ایس ڈی ایف کا اتحادی اور پشتی بان ہے۔ترک فوج نے اس ماہ کے اوائل میں شام کی سرحد عبور کر کے عفرین میں کرد وائی پی جی کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی شروع کی تھی اور یوں شام میں گذشتہ سات سال سے جاری جنگ میں ایک نیا محاذ کھول دیا تھا۔ترکی 1980ء کے عشرے سے اپنے جنوب مشرقی علاقے میں کرد باغیوں کے خلاف جنگ لڑرہا ہے اور وہ کرد باغیوں کی جماعت کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے ) اور اس کے شامی کرد اتحادیوں وائی پی جی اور کرد عورتوں کے یونٹ وائی پی جے کو بھی دہشت گرد قرار دیتا ہے۔ان کرد یونٹوں نے عفرین کے علاقے پر قبضہ کرکے اپنی عمل داری قائم کررکھی ہے۔