اشرف چراغ
کپوارہ//کشمیر کی ترقی کے سفر میں جہا ں نوجوان پیش پیش ہیں وہیں یہا ں کی خواتین نے بھی اپنے پیرو ں پر کھڑا ہو کر کئی شعبو ں میںاپنا لوہا منوایا اور آج لوگ نسوانی قوت اور مختلف شعبو ں میں خواتین کی کامیابیو ں کو سلام پیش کرتے ہیں ۔کپوارہ کے ایک دور دراز علاقہ درد پورہ جس کو یتیمو ں کی بستی بھی کہا جاتا ہے ،سے تعلق رکھنے والی شبنم عبد اللہ دختر محمد عبد اللہ میر ان لڑکیو ں میں شمار کی جاتی ہے جس نے اپنی پڑھائی کے ساتھ ساتھ ایک چھو ٹا سے کاروبار 5ہزار روپے سے شروع کیا اور آج شبنم نے کاروبار کی دنیا میں دھوم مچا دی ہے ۔شبنم عبد اللہ کو آئی اے ایس کرنے کا شوق تھا لیکن جو ں ہی اس نے بارہویں پاس کیا تو اس نے اپنا ارادہ ترک کیا اور کاروبار شروع کرنے کی ٹھان لی ۔شبنم نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 2022میں ،میں نے اپنی پڑھائی کے ساتھ ساتھ کرالہ پورہ بازار میں گیلری انڈیا نام سے ڈیزائننگ اور سلائی کاکام شروع کیا اور اس کے لئے ایک لڑکی کو رکھا گیا جو کپڑے سلاتی اور پھر میں ان کی ڈیزائنگ کرتی ۔شبنم نے بتایا کہ دو سال کے دوران میں نے اس قدر محنت کی کہ آج میں اپنے آپ سمیت 7لڑکیوں کو رو ز گار کمانے کا موقع فراہم کرتی ہو ں ۔شبنم کا کہنا ہے کہ گیلرو انڈیا اب پورے ضلع کیا جمو ں وکشمیر میں زبان زد عام ہے اور وادی کے ساتھ ساتھ پورے ضلع میں مجھے آن لائن آرڈر اور آف لائن آرڈر ملتے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ کپڑے سلانے کے لئے میرے دکان پر 7لڑکیاں ہیں جو اپنی محنت کر کے مجھ سے ماہانہ تنخواہ حاصل کرکے اپنے گھر کو چولہا جلاتی ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ شروع شروع میں مجھے دقتیں پیش آئیں لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری اور ہر سال مجھے دکان کا کرایہ قریب 73ہزار روپے ادا کرنے پڑتے جبکہ دکان پر کام کر رہی لڑکیو ں کو 40ہزار ہر ماہ ادا کرنے پڑتے اور میں بھی قریب 25ہزار کے قریب ہر ماہ کما تی جو میرے لئے فخر کی بات ہے کہ میں کسی کی محتاج نہیں ہوں ۔ان کا کہنا ہے کہ اب اس قدر میں اپنے کاروبار سے جڑ گئی کہ اب وادی کشمیر کے علاوہ پورے کپوارہ ضلع کی ممتاز خواتین میرے دکان پر آکر کپڑے خریدتے ہیں جن پر اچھا خاصا ڈیزائن بھی ہوتا ہے ۔انہو ں نے کہا کہ زیادہ تر خواتین دکان پر آکر خود اپنے پسند کے کپڑے خریدتی ہیں جبکہ آن لائن بھی کپڑے بھیجنے کا آرڈر ملتا ہے ۔شبنم کا کہنا ہے کہ 5ہزار روپے سے اپنا کارو بار شروع کرنے والی آج کاروبار کی دنیا میں اس مقام پر پہنچ گئی کہ دن بھر گاہکو ں کی لمبی لمبی قطار لگی ہوتی ہے ۔انہو ں نے معاشرے کی دیگر لڑکیو ں کے لئے اپنے ایک پیغام میں کہا کہ وہ بھی اپنا مقام حاصل کرنے کے لئے چھو ٹا موٹا کارو بار شروع کر کے اپنا رو گار کمائیں ۔