ڈوڈہ //سب ڈویژن ہیڈکواٹر ٹھاٹھری سے ڈیڑھ کلومیٹر کی دوری پر واقع کالن دریا پر لکڑی کا عارضی پل کئی برس قبل مقامی لوگوں نے ہنگامی طور پر جمع کئے گئے چندہ سے تعمیر کیا گیا ہے جو اب بوسیدہ ہو چکا ہے لیکن محکمہ دیہی ترقی و انتظامیہ کی نظروں سے اوجھل اس پل پر سفر کرنا عام لوگوں و اسکولی بچوں کیلئے وبال جان بن گیا ہے۔ کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے پنچائت ہلارن کے وارڈ نمبر 6 سے آئے لوگوں کے ایک وفد نے کہا کہ اس عارضی پل سے پہلے مقامی لوگوں نے اپنے طور پر لکڑی کا ایک بہت بڑا شہتیر ڈالا تھا جس کو کئی دہائیوں تک استعمال میں لایا گیا۔ وفد میں شامل گلزار احمد، عبد الغنی و نائب سرپنچ محمد شریف نے کہا کہ اس جگہ سے کئی لوگ گر کر اپنی جان گنوا چکے ہیں،جن میں سرکاری ملازمین بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہونڈا، کھٹاسو، سلوگا ،مسرونڈا و رگجر بستی کے سینکڑوں افراد اسی عارضی پل سے آرپار جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پانچ برس قبل مقامی لوگوں کی مدد سے لکڑی کا عارضی پل تعمیر کیا تھا، جو کہ اب بوسیدہ ہوچکا ہے۔ نائب سرپنچ نے کہا کہ سیلاب کے دوران ان ملحقہ جات کا رابطہ تحصیل و سب ڈویژنل ہیڈکواٹر سے کئی دنوں تک منقطع ہوتا ہے اور باالخصوص اسکولی بچوں کو سفر کرنے میں کافی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعدد بار اس معاملہ کو ضلع و مقامی انتظامیہ و عوامی نمائندوں کی نوٹس میں لایا تاہم کوئی عملی اقدامات نہیں کئے گئے۔مقامی لوگوں نے ایک بار پھر میڈیا کی وساطت سے حکام بالا سے اپیل کرتے ہوئے لکڑی کے عارضی پل کو ہٹا کر نیا پل تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔اس ضمن میں جب کشمیر عظمیٰ نے سب ڈویژن مجسٹریٹ ٹھاٹھری اطہر آمین زرگر سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ انتظامیہ کے زیر غور ہے اور فنڈس کی عدم دستیابی سے بروقت کام شروع نہیں ہوسکا، تاہم انہوں نے یقین دلایا کہ اس پر مزید پیش رفت کیلئے اعلیٰ حکام سے رجوع کریں گے۔