راجوری//ایسے وقت میں جب حکومت ہند کی معاونت سے سرحدی علاقوں میں بنکروں کی تعمیر کی جارہی ہے ، سب ڈیویژن نوشہرہ کی انتظامیہ نے سکولوں کے نزدیک بھی بنکر تعمیر کرنے کی تجویز پیش کی ہے ۔ذرائع نے کشمیرعظمیٰ کو بتایاکہ گائوں میں بنکروں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ سب ڈیویژنل انتظامیہ نوشہرہ کی طرف سے ایک نیا پرپوزل تیار کیاگیاہے جس میں کچھ سکولوں کے اندر یا نزدیک بھی بنکر تعمیر کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ ذرائع کاکہناہے کہ انتظامیہ کاکہناہے کہ کچھ سکول ایسے ہیں جو پاکستانی فوج کی براہ راست شلنگ کی زد میں آسکتے ہیں اس لئے ان کے اندر بنکر تعمیر کرنابہت ضروری ہے ۔ذرائع کاکہناہے کہ اس فہرست میں نو سے دس سکول آتے ہیں جن میں بنکروں کی تعمیر کی تجویز رکھی گئی ہے ۔ذرائع نے بتایاکہ مقامی انتظامی اس بات کی متمنی ہے کہ یہ بنکرجلد سے جلد تعمیر ہوں تاکہ بچوں کی حفاظت کو یقینی بنایاجاسکے ۔ ذرائع نے بتایاکہ چار ماہ قبل ایسے حالات بھی پیدا ہوئے جب فائرنگ اور شلنگ کی وجہ سے سینکڑوں طلباء سکول میں پھنس کر رہ گئے اور چونکہ یہ سکول سرحد کے بالکل قریب ہیں اس لئے ایسی صورتحال بار بار پیش آتی رہتی ہے ۔ ذرائع نے بتایاکہ مقامی انتظامیہ کی تجویز پرضلع انتظامیہ بہت جلد کوئی فیصلہ لے گی ۔رابطہ کرنے پر ضلع انتظامیہ راجوری کے ایک سینئر افسر نے کشمیرعظمیٰ کو بتایاکہ دیہات میں بنکروں کی تعمیر کاکام جاری ہے اور کچھ سکولوں میں بھی بنکروں کی تعمیرکا معاملہ زیر غور ہے ۔