جاوید اقبال
مینڈھر//مینڈھر قصبہ کے عوام نے حکومتِ جموں و کشمیر سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ قصبہ کو باضابطہ طور پر میونسپلٹی (بلدیہ) کا درجہ دیا جائے تاکہ شہری سہولیات کی مؤثر فراہمی ممکن ہو سکے اور علاقے کی مجموعی ترقی کو ایک منظم اور مربوط شکل دی جا سکے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں بنیادی سہولیات کا فقدان روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کر رہا ہے۔اس سلسلے میں مسلم راشٹریہ منچ آل انڈیا کمیٹی کے رکن راشد احمد خان نے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مینڈھر اب ایک اہم تجارتی اور آبادیاتی مرکز کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، مگر اس کے باوجود اسے تاحال میونسپلٹی کے دائرے میں شامل نہیں کیا گیا، جو کہ انتہائی افسوسناک امر ہے۔
انہوں نے کہا کہ قصبہ کی آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، بازار پھیل چکے ہیں اور یہاں تعلیمی ادارے، سرکاری دفاتر اور صحت مراکز بھی قائم ہیں، لیکن بلدیاتی نظام نہ ہونے کی وجہ سے عوام کو بنیادی شہری سہولیات میسر نہیں۔مقامی لوگوں کے مطابق صفائی ستھرائی، نکاسی آب، سڑکوں کی مرمت، اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب، کچرا تلفی اور دیگر شہری خدمات بری طرح متاثر ہیں۔ عوام کو معمولی مسائل کے حل کے لئے بھی مختلف سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں، جس سے وقت اور وسائل دونوں کا ضیاع ہوتا ہے۔ شہریوں نے اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی کہ حکومت نے کئی ایسے علاقوں کو میونسپلٹی کا درجہ دیا ہے جن کی آبادی مینڈھر سے کم ہے، مگر مینڈھر کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے، جس سے لوگوں میں احساسِ محرومی بڑھ رہا ہے۔علاقہ مکینوں، سماجی کارکنوں اور تاجر برادری نے مشترکہ طور پر حکومت سے اپیل کی ہے کہ مینڈھر کو فوری طور پر میونسپلٹی کا درجہ دیا جائے تاکہ منتخب بلدیاتی نظام کے تحت ترقیاتی منصوبے شروع کئے جا سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف شہری نظم و نسق بہتر ہوگا بلکہ مقامی سطح پر روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔عوام نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے اس دیرینہ اور جائز مطالبے پر سنجیدگی سے غور نہ کیا گیا تو وہ آئندہ دنوں میں پرامن اور جمہوری انداز میں احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔ لوگوں نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے مینڈھر کو میونسپلٹی کا درجہ دے کر علاقے کی ترقی کی نئی راہیں ہموار کرے گی۔