عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// وادی کشمیر میں 12 مئی 2026 کی شام آنے والے شدید ژالہ باری، تیز آندھی، گرج چمک اور طوفانی ہواؤں نے کشمیر کی باغبانی صنعت کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے بعد کشمیر ویلی فروٹ گروورز کم ڈیلرز یونین نے حکومت سے فوری طور فصل بیمہ سکیم اور مارکیٹ انٹروینشن سکیم (MIS) نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔یونین کے مطابق شمالی کشمیر کے ٹنگمرگ، پٹن، واگورہ، کریری، رفیع آباد، بارہمولہ اور بانڈی پورہ کے علاوہ وسطی کشمیر کے کنگن بیلٹ میں شدید ژالہ باری اور طوفانی ہواؤں نے سینکڑوں سیب باغات کو تباہ کر دیا، جو ان علاقوں کے لاکھوں خاندانوں کی معاشی ریڑھ کی ہڈی تصور کئے جاتے ہیں۔ اسی طرح چند روز قبل جنوبی کشمیر کے شوپیان اور کولگام اضلاع میں بھی شدید ژالہ باری سے باغات کو بھاری نقصان پہنچا تھا۔
میوہ باغ مالکان نے بتایا کہ 5 سے 8 منٹ تک جاری رہنے والی شدید ژالہ باری اور طوفانی ہواؤں نے باغات میں موجود پھلوں اور درختوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ باغبانوں کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں اور خراب موسم نے پہلے ہی کشمیر کی باغبانی صنعت کو متاثر کر رکھا ہے جبکہ فصل بیمہ اسکیم اور مارکیٹ انٹروینشن اسکیم کے عدم نفاذ نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔یونین نے کہا کہ 12 مئی کی شام آنے والے شدید طوفان، آسمانی بجلی اورژالہ باری نے وادی کے باغبانوں کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ اس اچانک تباہی نے نہ صرف باغ مالکان بلکہ باغبانی صنعت سے وابستہ مزدوروں، تاجروں اور دیگر شعبوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ ان نقصانات کے نتیجے میں پوری علاقائی معیشت کو بڑا دھچکا پہنچنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
یونین نے افسوس ظاہر کیا کہ حکومت کی جانب سے فصل بیمہ اسکیم کے اعلانات اور بجٹ مختص کیے جانے کے باوجود آج تک اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا، جبکہ مارکیٹ انٹروینشن سکیم (MIS) بھی دوبارہ بحال نہیں کی گئی۔ یونین نے کہا کہ وہ کئی برسوں سے حکومت سے مطالبہ کرتی آ رہی ہے کہ کشمیر کے باغبانی شعبے کو فصل بیمہ اسکیم میں شامل کیا جائے تاکہ قدرتی آفات کے دوران باغبانوں کو کچھ راحت فراہم ہو سکے۔بیان میں کہا گیا کہ ٹنگمرگ، پٹن، واگورہ، کریری، رفیع آباد، بارہمولہ اور بانڈی پورہ کے باغات اعلیٰ معیار کے پھلوں کی پیداوار کیلئے مشہور ہیں، لیکن حالیہژالہ باری اور طوفانی ہواؤں نے ان علاقوں کے بیشتر باغات مکمل طور پر تباہ کر دیے ہیں۔ اسی طرح کنگن، شوپیان اور کولگام کے باغات کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جس پر باغ مالکان غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔بشیر احمد بشیر جو یونین کے چیئرمین اور دی نیو کشمیر فروٹ ایسوسی ایشن کے صدر بھی ہیں، نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قدرتی آفات کے پیش نظر باغبانوں کے تحفظ کیلئے فوری اقدامات کیے جائیں۔یونین نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کرتے ہوئے کئی مطالبات پیش کیے۔