سمت بھارگو
ریاسی //ریاسی ضلع کی ارناس سب ڈویژن میں دریاؤں کی ڈیسلٹنگ کے ٹینڈر سے متعلق تنازعہ شدت اختیار کر گیا، جہاں مقامی تاجروں، بے روزگار نوجوانوں اور ٹھیکیداروں نے جمعرات کو مکمل بند کا اہتمام کرتے ہوئے مرکزی سڑک بند کر دی۔ مظاہرین نے نجی کمپنی پر مقامی افراد کو نظر انداز کرنے، وعدہ خلافی اور ضابطوں کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا۔احتجاج کے باعث ارناس بازار میں بیشتر کاروباری ادارے بند رہے جبکہ مرکزی شاہراہ پر ٹریفک کی آمدورفت بھی کئی گھنٹوں تک متاثر رہی۔ مظاہرین نے نعرے بازی کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مقامی نوجوانوں اور تاجروں کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے کیے جائیں اور ٹینڈر کے نفاذ میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ حال ہی میں دریاؤں میں ڈیسلٹنگ کے کام کا ٹھیکہ ایک نجی کمپنی کو دیا گیا تھا۔ کمپنی نے ابتدائی ملاقاتوں میں مقامی بے روزگار نوجوانوں، چھوٹے ٹھیکیداروں اور تاجروں کو کام میں ترجیح دینے کی یقین دہانی کرائی تھی، تاہم عملی طور پر ایسا نہیں ہوا اور باہر سے افراد کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کمپنی کی یقین دہانی پر کئی مقامی نوجوانوں نے قرض لے کر نئے ٹپر، جے سی بی مشینیں، ایکسکیویٹرز اور دیگر بھاری مشینری خریدی تاکہ انہیں روزگار حاصل ہو سکے، لیکن اب کمپنی نے انہیں کام دینے سے انکار کر دیا ہے، جس کے باعث وہ شدید مالی مشکلات سے دوچار ہیں۔احتجاج کرنے والوں نے الزام لگایا کہ بدھ کے روز جب چند مقامی نوجوانوں نے اس معاملے پر اعتراض کیا تو ان کے خلاف ’جھوٹے اور من گھڑت‘ مقدمات درج کیے گئے، جس کی انہوں نے شدید مذمت کرتے ہوئے مقدمات فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا۔مظاہرین نے مزید الزام عائد کیا کہ ڈیسلٹنگ کی آڑ میں بڑے پیمانے پر ریت اور دیگر زمینی مواد کی کھدائی کی جا رہی ہے، جو مقررہ قوانین اور ماحولیاتی ضابطوں کے منافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے متعدد بار مقامی انتظامیہ کو آگاہ کیا گیا، لیکن اب تک کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔احتجاج اور سڑک بندش کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے۔ سرکاری و نجی گاڑیاں سڑک کے دونوں جانب پھنسی رہیں جبکہ مسافروں، طلبہ اور ملازمین کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بازار بند رہنے سے تجارتی سرگرمیاں بھی معطل رہیں۔بعد ازاں مقامی انتظامیہ کے افسران نے مظاہرین کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کیے، جن میں ان کے مطالبات اور شکایات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ حکام کی جانب سے معاملے کا جائزہ لے کر مناسب کارروائی اور متعلقہ فریقین سے بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔انتظامیہ کی یقین دہانی کے بعد مظاہرین نے فی الحال احتجاج ختم کرتے ہوئے سڑک سے دھرنا اٹھا لیا اور ٹریفک بحال کر دی۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آئندہ ہفتے تک ان کے مطالبات پورے نہ کیے گئے اور مقامی نوجوانوں کو روزگار میں ترجیح نہ دی گئی تو احتجاجی تحریک دوبارہ شروع کی جائے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام اور نجی کمپنی پر عائد ہوگی۔