نیٹو اجلاس میں خودمختاری کے دفاع کا عزم
ایجنسیز
انقرہ//ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا کہ امریکہ کو گرین لینڈ کا کنٹرول سنبھال لینا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گرین لینڈ یقیناً فروخت کے لیے نہیں ہے۔ترکیہ میں نیٹو رکن ممالک کے سربراہان کے اجلاس سے قبل گفتگو کرتے ہوئے فریڈرکسن نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ تمام ممالک، خصوصاً اتحادی، گرین لینڈ کے عوام کے حقِ خود ارادیت کا احترام کریں گے۔انہوں نے کہا،’’ہم خودمختار ریاستیں ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ ہر کوئی ہماری علاقائی سالمیت اور خودمختاری کا احترام کرے۔‘‘صدر ٹرمپ نے اجلاس سے ایک روز قبل ایک بار پھر یہ مؤقف دہرایا تھا کہ امریکہ کو نیم خودمختار جزیرے گرین لینڈ کا کنٹرول حاصل کرنا چاہیے، حالانکہ نیٹو کا بنیادی اصول یہ ہے کہ اس کے 32 رکن ممالک ایک دوسرے کی سرزمین کا دفاع کریں گے، نہ کہ اس پر قبضے کی دھمکیاں دیں گے۔ڈنمارک کی وزیراعظم نے کہا کہ اگر کسی قسم کا حملہ ہوتا ہے تو ان کا ملک نیٹو کی سرزمین کے ایک ایک انچ، بشمول اپنی سرزمین، کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور انہیں یقین ہے کہ نیٹو اتحادی اپنے باہمی دفاع کے وعدے کو پورا کریں گے۔آئس لینڈ کی وزیراعظم کرسٹرون فراسٹاڈوٹر نے بھی کہا کہ گرین لینڈ صرف گرین لینڈ کے عوام کا ہے اور بیرونی خطرات کے پیش نظر نیٹو ممالک پر زور دیا کہ وہ اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔انہوں نے کہا کہ روس نیٹو اتحادیوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے، اس لیے ہمیں اپنے اتحاد کو مضبوط رکھنے پر توجہ دینی چاہیے۔نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے انقرہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ امریکہ نیٹو کے ساتھ مکمل طور پر وابستہ ہے، جبکہ انہوں نے ایران کے خلاف امریکی کارروائی کو بھی ضروری قرار دیا۔ان کے مطابق، ’’جب جنگ بندی کے باوجود ایران اس کی خلاف ورزی کرے، جیسا کہ گزشتہ روز ہوا، تو امریکہ کا مضبوط ردعمل دینا انتہائی ضروری ہے۔‘‘روٹے کا یہ بیان ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تین تجارتی بحری جہازوں پر حملوں کے بعد امریکہ کی فضائی کارروائی کے تناظر میں سامنے آیا۔ امریکہ نے اس کے ساتھ ایران کو عالمی منڈی میں تیل فروخت کرنے کی اجازت دینے والا لائسنس بھی منسوخ کر دیا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان عارضی امن معاہدے کی نازک صورتحال مزید نمایاں ہوگئی۔صدر ٹرمپ ترک صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے دیے گئے عشائیے میں شرکت کے بعد حملوں کا حکم دے کر روانہ ہوئے، تاہم انہوں نے اب تک ان حملوں پر کوئی عوامی بیان نہیں دیا۔انقرہ میں ہونے والے نیٹو اجلاس کا بنیادی مقصد دفاعی اخراجات کے اہداف پر پیش رفت کا جائزہ لینا تھا۔مارک روٹے نے کہا کہ امریکہ کا یہ مطالبہ بالکل منصفانہ ہے کہ تمام اتحادی اپنے مجموعی قومی پیداوار کا یکساں تناسب دفاع پر خرچ کریں۔